مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کی مرکزی قیادت کے درمیان ملاقات کی اندرونی کہانی سامنے آ گئی

اسلام آباد ( آن لائن) مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کی مرکزی قیادت کے درمیان ملاقات کی اندرونی کہانی سامنے آ گئی ۔ ملاقات میں سیاسی صورتحال باہمی تعلقات اور آزاد کشمیر میں تحریک عدم اعتماد کے معاملے پر تفصیلی مشاورت کی گئی۔ ذرائع کے مطابق ملاقات میں کشمیر کے مسئلے پر محدود گفتگو ہوئی، تاہم گفتگو کا مرکزی نکتہ دونوں جماعتوں کے تعلقات اور آئندہ سیاسی لائحہ عمل پر رہا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ (ن) نے آزاد کشمیر میں وزیر اعظم انوار الحق کے خلاف تحریک عدم اعتماد میں ووٹ دینے کی یقین دہانی کرا دی ہے، جبکہ بعض بااثر شخصیات اب بھی وزیر اعظم کو بچانے کے لیے سرگرم ہیں

دونوں جماعتوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ ہر پہلو کا بغور جائزہ لینے کے بعد ہی حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق اگلے 24 گھنٹے آزاد کشمیر کی سیاست کے حوالے سے نہایت اہم قرار دیے جا رہے ہیں۔ امکان ہے کہ اس دوران بلاول بھٹو زرداری کی وزیر اعظم سے ایک اور ملاقات بھی متوقع ہے، جبکہ وزیر اعظم انوار الحق نواز شریف اور مریم نواز سے بھی دوبارہ رابطہ کریں گے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ (ن) نے وزیر اعظم کے نئے نام کے لیے مکمل اختیار پیپلز پارٹی کو دے دیا ہے۔

دوسری جانب پیپلز پارٹی نے پنجاب میں انتظامی و سیاسی مسائل کے حل نہ ہونے پر وفاقی حکومت کو ایک بار پھر سخت وارننگ جاری کر دی ہے۔ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی نے واضح کیا ہے کہ اگر اگلی مرکزی مجلسِ عاملہ کے اجلاس سے قبل معاملات درست نہ ہوئے تو اپوزیشن بنچوں پر بیٹھنے کا آپشن بھی زیر غور ہے۔ وزیر اعظم نے ملاقات کے دوران تمام امور افہام و تفہیم سے حل کرنے کی یقین دہانی کرائی۔

Comments are closed.