کشیدگی نہیں چاہتے لیکن افغان سرزمین کسی صورت دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونی چاہیے، دراندازی بند کی جائے، پاکستان

اسلام آباد ( آن لائن) دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان نے افغانستان کے ساتھ مذاکرات میں مثبت جذبے اور سنجیدہ رویے کے ساتھ شرکت کی۔ ہم کشیدگی نہیں چاہتے تاہم ہمارا موٴقف واضح ہے کہ افغان سرزمین کسی صورت دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونی چاہیے، دراندازی بند کی جائے ۔ اسرائیل کیجانب سے سیز فائر کی خلاف ورزی انتہائی قابل مذمت ، اقدام امن کوششوں کے لئے شدید دھچکا ہے ۔ امر یکہ اور بھار ت کے درمیان دفاعی معائدے کے خطے پر اثرات کا بغور جائزہ لے رہے ہیں ۔

ترجمان دفترِ خارجہ طاہر اندرابی نے ہفتہ وار پریس بریفنگ میں کہاپاکستان اور افغانستان کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور استنبول میں اختتام پذیر ہوا اور پاکستان نے افغان حکام سے دہشت گرد گروہوں کے خلاف ٹھوس اور قابلِ تصدیق اقدامات اٹھانے کا مطالبہ کیا ہے۔ ترجمان نے کہا کہ گزشتہ چار سال سے پاکستان، افغان حکام کو دہشت گرد تنظیموں کی موجودگی کے بارے میں قابلِ اعتبار معلومات فراہم کرتا آ رہا ہے، مگر بارہا یقین دہانیوں کے باوجود افغانستان سے پاکستان پر حملوں میں اضافہ ہوا ہے اکتوبر میں افغان سرزمین سے پاکستانی علاقوں پر بلااشتعال حملے کیے گئے، جن کا پاکستان نے بھرپور جواب دیا۔ترجمان نے کہا کہ پاکستان گزشتہ چار برس سے افغان طالبان حکام کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔ پاکستان نے مذاکراتی عمل میں محتاط امید کا رویہ اپنایا ہوا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ ہم انتہائی پرامید نہیں، لیکن سفارت کاری میں امید برقرار رکھنا ایک پیشہ ورانہ تقاضا ہے، کیونکہ امید پسندی ہمارے سفارتی عمل کا لازمی جزو ہے۔ ترجمان نے کہا کہ پاکستان افغان فریقین کے ساتھ تعمیری بات چیت جاری رکھے ہوئے ہے اور اس عمل میں امن و استحکام کے فروغ کو اولین ترجیح دی جا رہی ہے۔ پاکستان مثبت نتیجے کے لیے سنجیدہ اور حقیقت پسندانہ انداز میں سفارتی کوششیں جاری رکھے گا۔

ترجمان نے واضح کیا کہ پاکستان امن کا خواہاں ہے، مگر اپنی خودمختاری اور عوام کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔ ترجمان نے کہا کہ مذاکرات کا اگلا دور چھ نومبر کو متوقع ہے جس میں پاکستان کو مثبت نتائج کی امید ہے۔ ترجمان نے کہا کہ افغان طالبان حکومت نے ٹی ٹی پی اور دیگر دہشت گرد تنظیموں کی موجودگی کو تسلیم کیا ہے، تاہم ان کے خلاف کارروائی نہ کرنے کے مختلف جواز پیش کیے جا رہے ہیں۔افغان سرزمین پر دہشت گرد عناصر کی موجودگی پاکستان کے سیکیورٹی خدشات کو مزید تقویت دیتی ہے۔

ترجمان نے کہا کہ سرحد کی بندش کا فیصلہ موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے تفصیلی جائزے کے بعد کیا گیا ہے اور مزید اطلاع تک یہ فیصلہ برقرار رہے گا۔ وزیر اعظم کے حالیہ سعودی عرب کے دورے کی تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوے ترجمان نے کہا کہ وزیر اعظم نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی دعوت پر 27 سے 29 اکتوبر تک سعودی عرب کا دورہ کیا، جس میں نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار اور دیگر سینئر وزراء ان کے ہمراہ تھے۔ وزیر اعظم نے فیوچر انویسٹمنٹ انیشی ایٹو میں شرکت کی اور سعودی ولی عہد سے ملاقات کے دوران سعودی۔پاک سپریم کوآرڈینیشن کونسل کا اجلاس طلب کرنے پر اتفاق کیا گیا۔ ریاض میں وزیر اعظم نے عالمی اقتصادی فورم کے سربراہ بورگے برینڈے سے بھی ملاقات کی، جنہوں نے وزیر اعظم کو جنوری میں ہونے والے عالمی اقتصادی فورم اجلاس میں شرکت کی دعوت دی۔

اسحاق ڈار نے پاکستانی سفارت خانے میں ون ونڈو ہال کا دورہ بھی کیا، جب کہ گزشتہ روز ان کی کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند سے ٹیلی فونک گفتگو ہوئی۔ ترجمان نے بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں 78 برس سے جاری ریاستی دہشت گردی کی شدید مذمت کرتے ہوے کہا کہ ملک بھر میں یومِ سیاہ منایا گیا۔ اس موقع پر وزارتِ خارجہ میں غیر ملکی سفیروں کو خصوصی بریفنگ دی گئی اور کشمیر یکجہتی واک کا بھی اہتمام کیا گیا۔ ترجمان نے تھائی لینڈ کی ملکہ کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔

ترجمان نے کہا اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کی سخت مذمت کی اور کہا کہ یہ خلاف ورزیاں عالمی امن کی کوششوں کے لیے دھچکا ہیں۔ پاکستان موقف پر قائم ہے کہ فلسطین میں ایک آزاد ریاست کا قیام عمل میں لایا جائے جس کا دارالحکومت یروشلم ہو۔ ترجمان نے مزید کہا کہ پاکستان نے امریکا اور بھارت کے درمیان ہونے والے حالیہ دفاعی معاہدے کا نوٹس لیا ہے۔ معاہدے کے خطے میں امن، توازن اور استحکام پر ممکنہ اثرات کا بغور جائزہ لیا جا رہا ہے۔ ترجمان کے مطابق جنوبی ایشیا میں تزویراتی توازن پر اس معاہدے کے ممکنہ اثرات کا تفصیلی مطالعہ کیا جا رہا ہے، اور پاکستان اپنے جامع تجزیے کے بعد اس حوالے سے باضابطہ موقف پیش کرے گا۔ترجمان نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن، باہمی احترام اور تنازعات کے پرامن حل کے اصولوں پر کاربند ہے، اور تمام اقدامات اسی پالیسی کے مطابق کیے جا رہے ہیں۔

Comments are closed.