27ویں آئینی ترمیم آئین اور جمہوریت پر حملہ ہے،حافظ حمداللہ

پشاور (آن لائن) جمعیت علمائے اسلام کے مرکزی رہنما مولانا حافظ حمداللہ نے ستائیسویں آئینی ترمیم پر سخت موقف اختیار کرتے ہوئے اسے 1973 کے آئین اور میثاق جمہوریت پر ایک خودکش حملہ قرار دیا ہے۔ اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ اس ترمیم سے کچھ افراد کو خصوصی استثنیٰ دے کر ملکی آئین کی روح کو مجروح کیا گیا ہے اور یہ شخصیات کو مضبوط کرنے کے بجائے اداروں کی کمزوری کا سبب بن رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جن سیاسی جماعتوں نے اس ترمیم کے حق میں ووٹ دیا، تاریخ میں انہیں سیاہ الفاظ میں یاد رکھا جائے گا۔ 27ویں آئینی ترمیم نے عدلیہ کو حکومت کے تابع کر دیا ہے

، جس سے 1973 کے آئین کی متفقہ حیثیت ختم ہوگئی ہے۔ انہوں نے اس ترمیم کو خوف اور دباو میں منظور کی جانے والی تبدیلی قرار دیتے ہوئے اسے نظریہ ضرورت کی مثال کے طور پر پیش کیا۔ حافظ حمداللہ نے کہا کہ اسلامی تاریخ میں کبھی بھی کوئی نبی یا خلیفہ دستور سے مستثنی نہیں تھا، اور اس طرح کے اقدامات سے ایک طاقتور کے لئے الگ قانون اور کمزور کے لئے دوسرا قانون کی بنیاد رکھی جاتی ہے۔مولانا حافظ حمداللہ نے اس بات کا بھی اعادہ کیا کہ جمعیت علمائے اسلام ہمیشہ 1973 کے آئین کے ساتھ کھڑی رہی ہے اور ہمیشہ رہے گی، کیونکہ یہ آئین ملک کی جمہوری اور آئینی تقدس کی ضمانت ہے۔

Comments are closed.