غزہ ( آن لائن )غزہ کے شہر خان یونس میں واقع النصر اسپتال نے بتایا ہے کہ اسے اسرائیل اور حماس کے درمیان امریکی ثالثی میں طے پانے والے جنگ بندی معاہدے کے تحت 15 فلسطینیوں کی لاشیں موصول ہوئی ہیں۔ اسپتال کے بیان کے مطابق یہ لاشیں لاشوں کے تبادلے کی تیرہویں کھیپ کا حصہ ہیں، جس کے بعد اسپتال کو ملنے والی فلسطینی لاشوں کی مجموعی تعداد 330 ہو گئی ہے۔ معاہدے کے تحت، ہر اسرائیلی یرغمالی کی لاش کے بدلے اسرائیل کو 15 فلسطینیوں کی لاشیں واپس کرنی تھیں۔
اسرائیل نے جمعرات اور جمعے کی درمیانی شب تصدیق کی کہ عسکریت پسندوں نے اسرائیلی یرغمالی منی گوڈارڈ کی باقیات واپس کر دی ہیں، جو 7 اکتوبر 2023 کے حملے کے دوران 73 برس کی عمر میں ہلاک ہوئے تھے۔ اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو کے دفتر کے مطابق فوج نے گوڈارڈ کے اہلِ خانہ کو ان کی شناخت مکمل ہونے کی اطلاع دے دی ہے۔جنگ بندی کے آغاز پر، جو 10 اکتوبر کو نافذ ہوئی، حماس کے پاس 20 زندہ یرغمالی اور 28 ہلاک شدگان کی لاشیں موجود تھیں۔
بعد ازاں حماس تمام زندہ یرغمالیوں کو رہا کر چکی ہے اور 25 اسرائیلیوں کی لاشیں بھی معاہدے کے مطابق واپس کر چکی ہے۔ اس کے بدلے میں، اسرائیل نے تقریباً 2,000 فلسطینی قیدیوں کو رہا کیا ہے اور سیکڑوں فلسطینیوں کی لاشیں بھی واپس کی ہیں۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ حماس یرغمالیوں کی باقیات کی واپسی میں سستی کر رہی ہے، جبکہ حماس کا موٴقف ہے کہ دو سالہ جنگ کے بعد ملبے تلے دبی لاشوں کی تلاش کے باعث تاخیر ناگزیر ہے۔
Comments are closed.