راولپنڈی (آن لائن) انسداد دہشت گردی راولپنڈی کی خصوصی عدالت نے تحریک انصاف کے 26 نومبر کے احتجاج پر تھانہ صادق آباد میں درج مقدمہ میں نامزد سابق چیئرمین کی ہمشیرہ علیمہ خانم کی ایک بار پھر عدم حاضری پر 20 لاکھ روپے مالیت کے ضمانتی مچلکے ضبط کرنے کا حکم دے دیا ہے اور ملزمہ کو ضمانت منسوخی کے نوٹس جاری کرنے کے ساتھ قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری بھی جاری کردئیے ہیں عدالت نے استغاثہ کے گواہوں کو ہرجانے کی رقم ادا نہ کرنے پر ملزمہ کو توہین عدالت کے نوٹس کے ساتھ دونوں ضامنوں کو نوٹس جاری کر دئیے ہیں عدالت نے مزید کاروائی کے لئے سماعت 15 دسمبر تک ملتوی کردی گزشتہ روز سماعت کے موقع پر علیمہ خانم اور ان کے وکلا عدالت میں پیش نہ ہوئے جبکہ سپیشل پراسیکیوٹر ظہیر شاہ اور استغاثہ کے گواہ مال مقدمہ سمیت عدالت میں موجود تھے ملزمہ کے انتظار میں عدالت نے پہلے 10 بجے اور پھر ساڑھے 10 بجے کیس کال کیا لیکن ملزمہ یا اس کے وکیل پیش نہ ہوئے جس پر پراسیکیوشن نے عدالت کو بتایا کہ ملزمہ کی جانب سے حاضری معافی کی کوئی درخواست دائر نہیں ہوئی جبکہ کسی بھی ملزم یا ملزمہ کی جانب سے شورٹی جمع کرانے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ وہ عدالت کے طلب کرنے حاضر ہوں گے لیکن ملزمہ گزشتہ کئی تاریخوں سے عدالت میں پیش نہیں ہو رہی
جس سے مقدمہ کا ٹرائل مسلسل التوا کا شکار ہے لہٰذا ملزمہ کے ضمانتی مچلکے ضبط کئے جائیں عدالت نے پراسیکیوشن کی استدعا منظور کرتے ہوئے ضمانتی مچلکے ضبط کرنے کا حکم دے دیا اور ملزمہ کو ضمانت منسوخی کا نوٹس جاری کر دیا عدالت نے علیمہ خانم کے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کے ساتھ ان کے دونوں ضامنوں کو بھی نوٹس جاری کر دئیے ہیں اس موقع پر پراسیکیوشن نے نشاندہی کی کہ عدالت نے استغاثہ کے گواہوں کو 10 ہزار روپے فی کس ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا تھا لیکن 3/4 مرتبہ یقین دہانی کے باوجود ملزمہ نے ہرجانے کی رقم ادا نہیں کی جس پر عدالت نے ہرجانے کی عدم ادائیگی پر انسداد دہشت گردی ایکٹ کی سیکشن 37 کے تحت ملزمہ کو توہین عدالت کا نوٹس بھی جاری کر دیا ہے۔
Comments are closed.