سپریم کورٹ میں ایمان مزاری کے مقدمے میں ناروے سفیرکی غیر معمولی دلچسپی ، قومی سلامتی اداروں نے سوالات اٹھا دیئے ؟
اسلام آباد(آن لائن )سپریم کورٹ میں ایمان مزاری کے مقدمے میں ناروے سفیرکی غیر معمولی دلچسپی پرقومی سلامتی کے اداروں نے سوالات اٹھادیے ہیں ،سپریم کورٹ میں جانایہ سب سفارتی پروٹوکول کے خلاف ہے۔ قومی سلامتی اداروں خاص طورپردفترخارجہ نے اس پر گہری تشویش کااظہار کیاہے اور اس حوالے سے معاملہ متعلقہ ملک سے سفارتی سطح پر بھی اٹھانے کافیصلہ کیاہے۔ذرائع نے بتایاہے کہ سپریم کورٹ میں ایمان مزاری کیس میں ناروے کے سفیرنے بھی شرکت کی ہے اور انھوں نے ناصرف شرکت کی ہے بلکہ ان سے بعض میڈیانمائندوں سے تعارف بھی کرایاگیاایک ویڈیومیں ایمان مزاری کی جانب سے یہ تعارف کراتے ہوئے دیکھابھی جاسکتاہے ،یہ سوال بھی اٹھایاگیاہے کہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت کسی بھی ہائی پروفائل کیس میں کسی بھی ملک کے سفیرکوجانے کی کس حدتک اجازت دی جاسکتی ہے۔
پاکستان میں ایک سفیرعدالتی کارروائی میں کیوں جاتا ہے؟ یا تو اس میں کسی ہائی پروفائل کیس میں ان کے ملک کا کوئی شہری شامل ہو، یا منصفانہ سلوک کو یقینی بنانے یا مدد فراہم کرنے کے لیے مبصر کے طور پر کام کرنا (یہ ان کے ملک کی سرکاری اجازت سے نہیں ہو سکتا)۔ مزید یہ کہ وہ کبھی بھی مقدمے میں شریک نہیں ہوئے لیکن مقدمے میں فریق کے کہنے پر خود کو سپریم کورٹ میں ظاہر کرتے ہیں، یہ عدالت کو متاثر کرنے کے مترادف ہے۔
شرکت کرنے سے میزبان ملک کے عدالتی عمل میں مداخلت یا شمولیت کا تاثر پیدا ہو سکتا ہے، جو عام طور پر سفارتی پروٹوکول کے خلاف ہوتا ہے اور اس کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے۔خلاصہ یہ کہ، اگرچہ پروٹوکول کے ذریعے سفیر کے حاضر ہونے سے سختی سے منع نہیں کیا گیا ہے، لیکن یہ ایک حساس عمل ہے، جو عام طور پر احتیاط کے ساتھ اور مخصوص سرکاری وجوہات کی بناء پر کیا جاتا ہے، اس سے یہ تاثر پیداہواہے کہ مخصوص ملک کی طرف سے عدالت پر اثراندازہونے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس معاملے کوڈپلومیٹک اندازسے شائستگی کے ساتھ بھی کیاجاسکتاتھا۔
Comments are closed.