پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے سات بلز کی منظوری کے معاملے پر ایوان صدر اور پارلیمنٹ پھر آمنے سامنے آگئے

اسلام آباد(آن لائن)پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے سات بلز کی منظوری کے معاملے پر ایوان صدر اور پارلیمنٹ پھر آمنے سامنے آگئے ہیں۔آئین کے آرٹیکل 75 کے مطابق اگر صدر دس روز میں دستخط نہیں کرتے تو بل کی توثیق تصور ہوگی اور یہ مدت آج (بدھ کو)مکمل ہو رہی ہے۔صدر نے دستخط نہ کیے تو قومی اسمبلی سیکرٹریٹ خود گزٹ نوٹیفکیشن جاری کردے گا۔قومی اسمبلی کے ذرائع کے مطابق صدر آصف زرداری نے ابھی تک پارلیمنٹ سے منظور ہونے والے چھ بلز پر دستخط نہیں کیے ۔ذرائع قومی اسمبلی کے مطابق صدر مملکت کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں منظور کیے گئے 7 بل توثیق کے لیے 10 دسمبر کو بھجوائے گئے تھے، قومی اسمبلی سیکرٹریٹ صدر مملکت کی جانب سے دستخطوں کا منتظر ہے

، صدر مملکت نے اب تک صرف ایک بل قومی کمیشن برائے اقلیتی حقوق بل پر دستخط کیے ہیں ۔جن بلوں پر تاحال دستخط نہیں کیے گئے ان میں حیاتیاتی و زہریلے ہتھیاروں کی روک تھام سے متعلق کنونشن برائے حیاتیاتی اور زہریلے ہتھیار عملدرآمد بل 2024بھی شامل ہیں۔قومی اسمبلی سیکرٹریٹ ملازمین ترمیمی بل 2025پر دستخط نہیں کیے گئے ۔پاکستان انسٹیٹیوٹ آف مینجمنٹ، سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی بلُ2024 نیشنل یونیورسٹی برائے سیکیورٹی سائنسز اسلام آباد کے قیام کا بل 2023, اخوت انسٹیٹیوٹ قصور بل 2023اور گھرکی انسٹیٹیوٹ آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی بل 2025 بھی شامل ہیں ۔دس روز میں صدر کے دستخط نہ کرنے پر بل ازخود قانونی شکل اختیار کر جائیں گے ۔آئین کے آرٹیکل 75 کے مطابق اگر صدر دس روز میں دستخط نہیں کرتے تو بل کی توثیق تصور ہوگی ۔دس ورکنگ ایام آج بدھ کو مکمل ہو جائیں گے ۔صدر نے دستخط نہ کیے تو قومی اسمبلی سیکرٹریٹ خود گزٹ نوٹیفکیشن جاری کردے گا۔

Comments are closed.