سپریم کورٹ نے فیض آباد دھرنا کیس کے فیصلے پر عملدرآمد رپورٹ وفاقی حکومت سے طلب کرلی
اسلام آباد(آن لائن )سپریم کورٹ میں اسلام آباد کے علاقے فیض آباد میں تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے 2017 کے دھرنے سے متعلق فیصلے کے خلاف نظرثانی کیس میں فیصلے پر عملدرآمد رپورٹ وفاقی حکومت سے طلب کرلی ہے ،کیس کی مزید سماعت یکم نومبر تک ملتوی کر تے ہوئے عدالت نے 27 اکتوبر تک فریقین کے وکلا سے تحریری جواب طلب کر لیے۔عدالتی حکم نامے میں کہا گیا کہ آج سب فریقین موجود نہیں تھے، فریقین کو حاضری کا ایک اور موقع دیا جاتا ہے۔ایم کیوایم ک وکیل عرفان قادر کی جگہ نیاوکیل مقررکرنے کی بھی مہلت دے دی ہے۔عدالت نے سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ فیض آباد دھرنا کیس کے فیصلے پر عمل کیوں نہیں ہوا؟ سب اتنا ڈرے ہوئے کیوں ہیں؟پیمرا اور انٹیلی جنس بیورو کے بعد وفاق نے بھی نظرثانی درخواست واپس لینے کا فیصلہ کی تصدیق اٹارنی جنرل نے کی۔
جووفاق نے بذریعہ وزارت دفاع نظرثانی درخواست دائر کی تھی تاہم اب اٹارنی جنرل عثمان منصور نے کہا ہے کہ فیض آباد دھرنا نظرثانی درخواست واپس لے رہے ہیں۔تحریک انصاف نے بھی درخواست واپس لے لی۔جبکہ چیف جسٹس قاضی فائزعیسیی نے ریمارکس دیے ہیں کہ سچ بولنے سے اتنا ڈر کیوں، لکھیں کہ نظرثانی درخواست کا حکم کہاں سے آیا؟یہ کہنا ٹھیک نہیں ہوتا نئی حکومت یا پرانی حکومت، حکومت حکومت ہی رہتی ہے پارٹی جو بھی ہو۔ عدالتی وقت ضائع کیا گیا ملک کو بھی پریشان کیے رکھا، اب آپ سب آ کر کہہ رہے ہیں کہ درخواستیں واپس لینی ہیں، ہم تو بیٹھے ہوئے تھے کہ شاید ہم سے فیصلے میں کوئی غلطی ہو گئی ہو۔ یہ بھی لکھیں کہ حکم کہاں سے آیا تھا، اگر آپ کہنا چاہتے ہیں کہ مٹی پاوٴ، نظر انداز کرو تو وہ بھی لکھیں، 12 مئی کو کتنے لوگ مرے تھے، کیا ہوا، اس پر بھی مٹی پاوٴ؟انھوں نے یہ ریمارکس جمعرات کے روزدیئے ہیں۔چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں جسٹس امین الدین خان اور جسٹس اطہر من اللہ پر مشتمل تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔سماعت کے آغاز پر چیف جسٹس نے کہا کہ شیخ رشید کے وکیل امان اللہ کنرانی وزیر بن گئے ہیں تو اپنا متبادل مقرر کر کے جائیں، پہلے کچھ باتوں کی وضاحت کرنا چاہتا ہوں ،یہ ریگولر بینچ ہے خصوصی بینچ نہیں، نظرثانی درخواستیں فوری مقرر ہوتی ہیں لیکن یہ چار سال مقرر نہ ہوئیں۔چیف جسٹس نے کہا کہ فیصلہ دینے والے ایک جج ریٹائرڈ ہو چکے، اس لیے اس بینچ کے سامنے نہیں لگا۔اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے کہا کہ ہم نظر ثانی درخواست واپس لینا چاہتے ہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ آپ درخواست کیوں واپس لے رہے، کوئی وجہ ہے،
اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ کوئی خاص وجہ نہیں ہے صرف نظرثانی درخواست واپس لینا چاہتے ہیں۔اٹارنی جنرل نے کہا کہ وفاق اس کیس میں دفاع نہیں کرنا چاہتا، چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے مکالمہ کیا کہ اب کیوں واپس لینا چاہتے ہیں، پہلے کہا گیا فیصلے میں غلطیاں ہیں، اب واپس لینے کی وجوہات تو بتائیں۔اٹارنی جنرل نے موٴقف اپنایا کہ نظر ثانی اپیل جب دائر کی گئی اس وقت حکومت اور تھی، چیف جسٹس نے کہا کہ آپ نے تحریری درخواست کیوں دائر نہیں کی، میں اپنا بیان دے رہا ہوں۔وکیل پیمراحافظ احسان نے کہا کہ میں بھی اپنی نظرثانی اپیل واپس لے رہا ہوں، چیف جسٹس نے کہا کہ کس کی ہدایات پر واپس لے رہے ہیں، یوٹیوب چینلز پر تبصرے کئے جاتے ہیں۔دوران سماعت پی ٹی آئی نے بھی درخواست واپس لینے کی استدعا کردی، وکیل علی ظفر نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی درخواست کی پیروی نہیں کرنا چاہتے، چیف جسٹس نے کہا کہ کیا آپ کو درخواست واپس لینے کا اختیار ہے؟ اگر آپ فریق بننا چاہتے ہیں تو عدالت آپ کو اجازت دے گی، بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ نہیں، ہم اس کیس میں فریق نہیں بننا چاہتے۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ پہلے کہا گیا تھا فیصلہ غلطیوں سے بھرا پڑا ہے، اب کیا فیصلے میں غلطیاں ختم ہوگئیں، کیا نظرثانی درخواستیں واپس لینے کی کوئی وجہ ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ جو اتھارٹی میں رہ چکے، وہ ٹی وی اور یوٹیوب پر تقاریرکرتے ہیں، کہا جاتا ہے ہمیں سنا نہیں گیا، اب ہم سننے کے لیے بیٹھے ہیں، آکر بتائیں، ہم پیمرا کی درخواست زیر التو رکھیں گے، کل کوئی یہ نہ کہے ہمیں سنا نہیں گیا۔شیخ رشید کی جانب سے ایڈووکیٹ آن ریکارڈ کی درخواست کی پیروی جاری رکھنے کی استدعا کی گئی، چیف جسٹس نے کہا کہ آپ نے نیا وکیل کرنا ہے یا کور دلائل دینے ہیں، اسے آئندہ سماعت پر دے دینا۔درخواست گزار اعجاز الحق کے وکیل بھی عدالت میں پیش ہوئے، چیف جسٹس نے کہا کہ ہم نے تو صرف آئی ایس آئی کی رپورٹ پر کہا تھا کچھ سیاستدانوں نے غیر ذمہ دارانہ بیان دیے، ہم نے کسی کا نام نہیں لیا، آپ نے خود سے اخذ کر لیا آپ کا ذکر ہے۔چیف جسٹس نے اعجازالحق کے وکیل سے استفسار کیا کہ آپ یہ کہنا چاہ رہے ہیں کہ آپ نے دھرنے کی حمایت نہیں کی، کیا آپ کہہ رہے ہیں کہ آئی ایس آئی کی رپورٹ درست نہیں تھی، کوئی بیان حلفی دے دیں کہ آپ کا موٴقف درست ہے، اٹارنی جنرل صاحب آپ سمیت سب پر جرمانہ کیوں نہ کیا جائے۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ عدالتی وقت ضائع کیا گیا ملک کو بھی پریشان کیے رکھا، اب آپ سب آ کر کہہ رہے ہیں کہ درخواستیں واپس لینی ہیں، ہم تو بیٹھے ہوئے تھے کہ شاید ہم سے فیصلے میں کوئی غلطی ہو گئی ہو۔چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے مکالمہ کیا کہ ملک صاحب آپ جیسے سینئر آدمی سے یہ توقع نہیں تھی، جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ کیا سارے اداروں نے یہ طے کر لیا ہے کہ جو فیصلے میں لکھا گیا وہ ٹھیک ہے، بنیادی حقوق کے تحفظ سے ہی ملک ترقی کر سکتا ہے۔’سچ بولنے سے اتنا ڈر کیوں، لکھیں کہ نظرثانی درخواست کا حکم کہاں سے آیا‘چیف جسٹس قاضی فائز عیس نے کہا کہ ہم یہ درخواستیں زیر التوا رکھ لیتے ہیں،
کسی نے کچھ کہنا ہے تو تحریری طور پر کہے، یہاں سب خاموش ہیں اور ٹی وی پر کہیں گے کہ ہمیں سنا نہیں گیا۔چیف جسٹس نے کہا کہ اٹارنی جنرل صاحب آپ نے یہ سوال کیوں نہیں اٹھایا کہ نظرثانی درخواستیں پہلے کیوں نہ لگیں، الیکشن کمیشن ایک آئینی ادارہ ہے۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ لکھیں ناں کہ ہمیں حکم آیا تھا کہ نظرثانی درخواست دائر کی تھی یہ بھی لکھیں کہ حکم کہاں سے آیا تھا، اگر آپ کہنا چاہتے ہیں کہ مٹی پاوٴ، نظر انداز کرو تو وہ بھی لکھیں، 12 مئی کو کتنے لوگ مرے تھے، کیا ہوا، اس پر بھی مٹی پاوٴ؟ یہ کہنا ٹھیک نہیں ہوتا نئی حکومت یا پرانی حکومت، حکومت حکومت ہی رہتی ہے پارٹی جو بھی ہو۔چیف جسٹس نے کہا کہ الیکشن کمیشن بھی سابقہ یا موجودہ نہیں ہوتا، یہ ادارہ ہے، ہر ایک کا احتساب ہونا چاہیے، ہم خود سے شروع کر سکتے ہیں ، سب سچ بولنے سے اتنا کیوں ڈر رہے ہیں، چند کے علاوہ باقی سب درخواستیں واپس لینا چاہتے ہیں۔اٹارنی جنرل نے کہا کہ عدالت کے فیصلے پر عملدرآمد ہی ہونا چاہیے ، چیف جسٹس نے کہا کہ بڑی دلچسپ بات ہے جنھیں نظرثانی دائر کرنا چاہیے تھی، انھوں نے نہیں کی۔چیف جسٹس نے کہا کہ تحریک لبیک نے کوئی نظر ثانی دائر نہیں کی، فیصلہ تسلیم کیا، مرحوم خادم رضوی کی اس بات پر تعریف بنتی ہے، غلطیاں سب سے ہوتی ہیں، غلطیاں تسلیم کرنا بڑی بات ہے، پیمرا کو کہا گیا تھا کہ نظرثانی دائر کرنے یا بورڈ میٹنگ میں فیصلہ ہوا، پاکستان میں یہی چلتا ہے کہ حکم اوپر سے آیا ہے۔عدالت عظمیٰ نے کہا کہ شیخ رشید کے وکیل امام اللہ کنرانی کی سماعت ملتوی کرنے کی استدعا منظور کرتے ہیں جو وکلا آج پیش نہیں ہوئے، آئندہ سماعت پر حاضری یقینی بنائیں۔چیف جسٹس نے کہا کہ الیکشن کمیشن کانظر ثانی دائر کرنے پر معافی نامہ کدھر ہے، چیف جسٹس نے ڈی جی لا الیکشن کمیشن کو ٹوکتے ہوئے کہا کہ آپ کو اپنے وکیل پر اعتبار نہیں جو بول رہے ہیں جس پر ڈی جی لا الیکشن کمیشن نے معذرت کر لی۔چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے مکالمہ کیا کہ صرف یہ کہنا کافی نہیں کہ ہم درخواست واپس لے رہے ہیں، یا تو آپ کہیں دھرنے والوں کے ساتھ معاہدے پر جس کے دستخط تھے ان کے خلاف ایکشن لے رہے ہیں، یا تو بتائیں نا کہ ہم نے فیصلے کی فلاں فلاں باتوں پر عمل کر لیا، یا پھر ایسے ہی اگلی افرا تفری تک رہنے دینا چاہتے ہیں۔چیف جسٹس نے کہا کہ 12 مئی کو پاکستانی سیاست میں نئی چیز کنٹینرز متعارف ہوئی، ایم کیو ایم آج یہاں ہمارے سامنے آئی ہی نہیں، ایم کیو ایم کے ایک وزیر تھے آج ان کی طرف سے کوئی نہیں آیا۔اٹارنی جنرل نے فیض آباد دھرنا کیس کا فیصلہ پڑھ کر سنایا، چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اس دھرنے کے بعد کئی اور ایسے ہی واقعات سامنے آئے، اگر اس وقت اس فیصلہ پر عمل ہوتا تو بعد میں سنگین واقعات نہ ہوتے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ ہم فیصلے میں دی گئی 17 ہدایات ہر عمل سے صحیح سمت میں چلیں گے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ اللہ نے سورہ توبہ کی آیت 19 میں سچے لوگوں کا ساتھ دینے کا کہا، آپ لوگوں نے فیصلے کو آج سچ مان لیا، اب آپ کا امتحان ہے کہ آپ ساتھ دیتے ہیں یا نہیں۔عدالت نے آج کی سماعت کا حکمنامہ لکھوانا شروع کر دیا، چیف جسٹس نے کہا کہ ہم ابھی یہ درخواستیں نمٹا نہیں رہے، پی ٹی آئی نے کہا کہ ہم فیصلے کو درست مانتے ہیں، نظرثانی نہیں چاہتے، علی ظفر صاحب کیا یہ درست ہے۔علی ظفر نے کہا کہ جی درست ہے، ہم فیصلے کو چیلنج نہیں کر رہے، عدالت عظمیٰ نے کہا کہ جو وکلا پیش نہیں ہوئے، آئندہ سماعت پر حاضری یقینی بنائیں، عدالت نے کیس کی مزید سماعت یکم نومبر تک ملتوی کر تے ہوئے عدالت نے 27 اکتوبر تک فریقین کے وکلا سے تحریری جواب طلب کر لیے۔عدالتی حکمنامے میں کہا گیا کہ آج سب فریقین موجود نہیں تھے، فریقین کو حاضری کا ایک اور موقع دیا جاتا ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ اٹارنی جنرل اور دیگر فریقین نے کہا فیصلہ پر عملدرآمد کو ریکارڈ پر لائیں گے۔حکمنامے میں کہا گیا کہ کچھ فریقین نے کہا عدالت نے فیصلے سے پہلے ان کو سنا نہیں، ایسے بیانات سرپرائزنگ تھے کیونکہ سماعت اوپن کورٹ میں تھی۔چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کو کتنا وقت دیں ،اٹارنی جنرل نے 2 ماہ کا وقت دینے کی استدعا کی جسے عدالت نے مسترد کردیا۔چیف جسٹس نے کہا کہ براہراست کارروائی نشر کرنے والے معاملہ پر کمیٹی بنائی ہے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ پہلی سماعت کو انڈیا پاکستان میچ سے زیادہ دیکھا گیا جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ تو ریونیو میں ہمارا حصہ کہاں گیا۔گزشتہ ہفتے سپریم کورٹ نے فیض آباد دھرنا کیس کے فیصلے کے خلاف دائر پاکستان تحریک انصاف، وزارت دفاع، عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید اور دیگر کی نظر ثانی کی درخواستیں سماعت کے لیے مقرر کی تھیں۔گزشتہ روز پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) اور اس سے ایک روز قبل انٹیلی جنس بیورو (آئی بی) نے اپنی درخواستیں واپس لے لیں تھیں جب کہ درخواست دینے والے ایک اور فریق شیخ رشید کے وکیل امان اللہ کنرانی نے مقدمے کی سماعت ملتوی کرنے کی درخواست دی تھی۔یاد رہے کہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے چیف جسٹس آف پاکستان (سی جے پی) کی حیثیت سے حلف اٹھانے سے کئی برس قبل اپنے فیصلے میں وزارت دفاع اور تینوں افواج کے سربراہان کو ہدایت کی تھی کہ وہ اپنے حلف کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پائے گئے اپنی کمانڈ کے اہلکاروں کو سزا دیں۔
چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے وفاقی حکومت کو نفرت، انتہا پسندی اور دہشت گردی کی وکالت کرنے والوں کی نگرانی کرنے اور ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کرنے کی بھی ہدایت کی تھی جہاں 2017 میں 20 روزہ دھرنے کے باعث اسلام آباد اور راولپنڈی میں زندگی مفلوج ہونے اور عوام کو تکلیف پہنچانے پر متعدد سرکاری محکموں کے خلاف بھی منفی شواہد پائے گئے تھے۔سپریم کورٹ نے نومبر 2018 میں فیض آباد دھرنے سے متعلق ازخود نوٹس لیا تھا اور بعد ازاں اس وقت جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس مشیر عالم پر مشتمل دو رکنی بینچ نے فروری 2019 میں کیس کا تفصیلی فیصلہ سنایا تھا۔بعد ازاں اپریل 2019 میں وزارت دفاع کے توسط سے اس وقت کی وفاقی حکومت، انٹیلی جینس بیورو (آئی بی)، انٹروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی)، پاکستان الیکٹرونک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا)، الیکشن کمیشن آف پاکستان، پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی)، متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان، عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد اور اعجاز الحق کی جانب سے سپریم کورٹ میں فیصلے پر نظرثانی کے لیے درخواستیں دائر کی گئی تھیں۔یاد رہے کہ اسلام آباد اور راولپنڈی کے سنگم پر واقع فیض آباد انٹرچینج پر مذہبی جماعت ٹی ایل پی نے ختم نبوت کے حلف نامے میں متنازع ترمیم کے خلاف 5 نومبر 2017 کو دھرنا دیا تھا۔حکومت نے مذاکرات کے ذریعے دھرنا پرامن طور پر ختم کرانے کی کوششوں میں ناکامی اور اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے فیض آباد خالی کرانے کے حکم کے بعد دھرنا مظاہرین کے خلاف 25 نومبر کو آپریشن کیا تھا، جس میں سیکیورٹی اہلکاروں سمیت 100 سے زائد افراد زخمی ہوئے تھے۔اس دھرنے کے نتیجے میں وفاقی دارالحکومت میں نظام زندگی متاثر ہوگیا تھا جبکہ آپریشن کے بعد مذہبی جماعت کی حمایت میں ملک کے مختلف شہروں میں احتجاج اور مظاہرے شروع ہوگئے تھے اور عوام کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔27 نومبر 2017 کو حکومت نے اس وقت کے وزیر قانون زاہد حامد کے استعفے سمیت اسلام آباد دھرنے کے شرکا کے تمام مطالبات تسلیم کر لیے تھے، جس میں دوران آپریشن گرفتار کیے گئے کارکنوں کی رہائی کا مطالبہ بھی شامل تھا۔بعد ازاں عدالت عظمیٰ نے ایک کیس کی سماعت کے دوران فیض آباد دھرنے کا معاملہ زیر بحث آنے پر اس پر نوٹس لیا تھا اور متعلقہ اداروں سے جواب مانگا تھا۔
Comments are closed.