اسلام آباد( آن لائن) وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے کے لیے تمام شرائط کو من و عن تسلیم کر لیا ہے ، امید ہے نواں جائزہ اسی ماہ منظور کرلیا جائے گا، مہنگائی اس وقت ایک بین الاقوامی مسئلہ ہے ، دنیا کے امیر ممالک کے پاس اتنی صلاحیت نہیں کہ وہ اپنے عوام کو ریلیف دیں سکیں، ہم نے بحران کے باوجود پوری کوشش کی کہ عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کریں،جب تک سیاسی استحکام نہیں آئیگا ، معاشی استحکام نہیں آسکتا،یہ قانون صرف پاکستان میں نہیں پوری دنیا میں اس کو مانتی ہے ،گزشتہ حکومت نے آئی ایم ایف معاہدے سے روگردانی کی ،سیلاب نے ہماری معیشت کو نقصان پہنچایا ،دوست ملکوں نے ہمارے ساتھ بھرپور تعاون کیا، روس یوکرین جنگ سے دنیا میں بحران آیا اور مہنگائی میں اضافہ ہوا ،بدقسمتی سے گزشتہ حکومت نے ملکی معیشت کو تباہ کردیا ،ہمارے دوست ممالک چین ، سعودی عرب ، یو اے ای نے آئی ایم ایف معاہدے کیلئے ہم سے بھرپور تعاون کیا، اللہ کے فضل سے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں گزشتہ ماہ بہتری آئی ہے ، کابینہ ممبران نے عوام کو ریلیف دینے کیلئے دن رات محنت کی ۔وفاقی کابینہ ا جلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ملک کی بدقسمتی تھی کہ گزشتہ پی ٹی آئی کی حکومت نے ملکی معیشت کو تباہ کر دیا، جب ہم نے اقتدار سنبھالا تو معیشت کا برا حال تھا چین سمیت دوست ممالک نے مالیات سنبھالنے میں بہت مدد کی، ہم نے آئی ایم ایف کے ساتھ معاملات طے کئے، اس دوران ہمیں بہت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ وزیراعظم نے کہا کہ مہنگائی اس وقت ایک عالمی مسئلہ ہے، امریکہ اور برطانیہ سمیت کئی ممالک مہنگائی کی شدید لہر سے دوچار ہیں۔
دنیا کے امیر ملکوں کے پاس اتنی صلاحیت ہے کہ اپنے عوام کو ریلیف دے سکیں ہم نے بھرپور کوشش کی ہے کہ بحران کے باوجود عوا م کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کریں پاکستان میں صورت حال ویسی نہیں۔ پاکستان میں معاشی عدم استحکام سے عام آدمی انتہائی مشکلات سے دوچار ہے، غریب آدمی پس کر رہ گیا ہے۔ تنخواہوں میں خاطر خواہ اضافہ کرنا چاہتے ہیں تاکہ غریب طبقہ اپنا اور بچوں کا پیٹ پال سکے۔ وزیراعظم نے کہا، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ کیا جائے گا عوام کی مشکلات کا احساس ہے، عوامی مسائل حل کرنے پر توجہ ہے، اندازہ ہے مہنگائی نے عام آدمی کی مشکلات بڑھا دیں۔وزیراعظم نے معاشی ٹیم کی کوششوں کو سراہا، چیلنجز کے باوجود معاشی ٹیم کی معیشت کے لیے خدمات قابل ستائش ہیں۔ انہوں نے کہا کہ زرعی شعبے اور آئی ٹی کی جدت پر خطر سرمایہ کاری کی جائے گی کسانوں کے لیے بلاسود قرض پروگرام میں توسیع کی جائے گی۔ وزیراعظم نے کہا کہ آئی ایم ایف کی تمام شرائط پرعمل درآمد کے باوجود تاحال اسٹاف لیول ایگریمنٹ سائن نہیں ہوا، اب یہ معاملہ آئی ایم ایف بورڈ میں جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ حکومت نے آئی ایم ایف معاہدے کی دھجیاں بکھیر دی تھیں، پھر بڑی مشکل سے آئی ایم ایف معاملات طے کیے، گزشتہ سال جو سیلاب آیاتباہ کن تھا اس نے بھی معیشت کو بے پناہ نقصان پہنچایا پچھلے سال سیلاب تباہ کن تھااس نے معیشت کوبے پناہ نقصان پہنچایا،
بیرونی ممالک سے امداد آئی سیلاب کی وجہ سے30ارب ڈالرکانقصان ہوا،سیلاب کے بعد بحالی کی کوشش کی، متاثرین کی بحالی کیلئے وفاق نے100ارب روپے خرچ کیے۔ ۔وزیر اعظم نے کہا کہ جب سے ذمہ داری سنبھالی ہے سب سے پہلا امتحان آئی ایم ایف سے معاہدہ کرنا تھا، اب ہم دوبارہ آئی ایم ایف کے ساتھ سرجوڑ کر بیٹھے ہیں اور اس کی تمام تر شرائط کو پر مکمل عمل درآمد بھی کررہے ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ مہنگائی نے عام آدمی پربوجھ ڈالاہے، اقتصادی ترقی جس رفتارسے ہونی تھی وہ نہیں ہورہی،10ارب ڈالرکاکرنٹ خسارہ کم ہو کر3ارب ڈالرپر آگیاہے،تمام مشکلات کے باجودبہتری کیلیے کوشش جاری ہے،10ارب ڈالرکاکرنٹ خسارہ کم ہوکر3ارب ڈالرپر آگیاہے۔شہبازشریف نے کہا کہ زرعی شعبے میں ٹھوس اقدامات سے اچھے نتائج مل سکتے ہیں،دیہی علاقوں میں زرعی اجناس پر ویلیو ایڈڈ چین قائم ہے،اس سے دیہی علاقوں میں حوشحالی آئیگی،اسی طرح دنیامیں گیس کی قیمتیں نیچے آرہی ہیں،کوشش ہے کوئی نیاگیس کامعاہدہ کم قیمت پرہوجائے۔وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان میں ایک سال سے سیاسی غیریقینی کی کوشش ہورہی ہے،سیاسی استحکام نہیں ہوگا تو معیشت تباہ ہوجائے گی، معاشی استحکام کا پہیہ سیاسی استحکام سے جڑا ہے،سیاسی استحکام کیلئے ریاست اور تمام ادارے یکسو ہیں۔انہوں نے کہا کہ میری آئی ایم ایف کی ایم ڈی کے ساتھ ٹیلی فون پر ایک گھنٹہ گفتگو ہوئی ہے اور اس گفتگو کے نتیجے میں، میں یہ کہہ سکتا ہوں، میں نے ان کو تجویز دی تھی کہ آپ اگر زبانی کمٹمنٹ دیں تو اس کی بنیاد پر ہم آپ کے کہے ہوئے جو ایک دو باقی اقدامات باقی ہیں، وہ بھ کردیں گے۔وزیر اعظم نے کہا کہ ایم ڈی آئی ایم نے مہربانی کی اور زبانی کمٹمنٹ دی اور اس کے نتیجے میں ہم نے وہ اقدامات بھی اٹھالیے ہیں، اس وقت اب کوئی بھی ایسی چیز باقی نہیں جو اس میں رکاوٹ بن جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس مشکل دور میں چین، سعودی عرب اور یو ای اے نے ہماری بہت مدد کی جس پر ہم ان کے بے حد شکر گزار ہیں۔شہباز شریف نے کہا کہ ہم نے تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ میٹنگز کیں جن کا خلاصہ یہ ہے کہ زرعی شعبے میں اقدامات کریں تو بہت جلد نتائج مل سکتے ہیں، دیگر ممالک کی زرعی پیداواری صلاحیت میں دوگنا یا اس سے بھی زیادہ اضافہ ہوچکا، کیا ہم نے اس میں کوئی پیش رفت کی، میرا جواب ہے کہ کوئی خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہوسکی۔وزیر اعظم نے کہا کہ غیرملکی ادائیگیوں کی وجہ سے زرمبادلہ کے ذخائر پر دباوٴ ہے، تمام تر مشکلات کے باوجود ملک میں گندم کی ریکارڈ پیداوار ہوئی، زرعی صنعتوں پر 5 سال کی ٹیکس چھوٹ کی تجویز ہے، 5 سال کی ٹیکس چھوٹ سال 2024 سے لاگو ہو گی۔انہوں نے کہا کہ فاٹا اور پاٹا میں انکم ٹیکس کی مزید ایک سال تک کے لئے ٹیکس چھوٹ دی گئی ہے، رئیل اسٹیٹ انویسٹمنٹ ٹرسٹ کے اندر کمپنی کے قیام پر ایک سال کی ٹیکس چھوٹ ہے۔شہباز شریف نے کہا کہ سٹاک مارکیٹ میں رجسٹرڈ کمپنیوں کے شیئرز کے ٹرن اوور ٹیکس میں کمی کی گئی ہے، ٹرن اوور ٹیکس کو ایک اعشاریہ 25 فیصد سے کم کر کے ایک فیصد کر دیا گیا۔انہوں نے کہا کہ سیاسی استحکام لانے کے لیے ہم سب یکسو ہیں، ریاست، ادارے بھی سیاسی استحکام لانے کے لیے یکسو ہیں۔شہباز شریف نے کہا کہ مہنگائی کے باعث غریب آدمی پس گیا ہے، تنخواہ دار طبقے کی تنخواہوں میں کم از کم اتنا اضافہ ہو جس سے بنیادی ضروریات پوری کر سکے، مہنگائی کی وجہ سے پنشنرز کا بھی خیال کرنا ہے، کابینہ تنخواہوں، پنشن میں اضافے کے حوالیسے اپنی رائے دے۔
Comments are closed.