پاکستان نے افغان مہاجرین کی میزبانی کی بھاری جانی ومالی قیمت چکائی

اسلام آباد(آن لائن) پاکستان نے اپنے قومی مفادات کے تحفظ اور سرحدوں کے دفاع کو یقینی بنانے کےلیے غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف کاروائی شروع کی ہے جو غیر رجسٹرڈ افراد ہیں انھیں ان کے وطن واپس بھیجا جارہا ہے مگر جو افغان مہاجرین رجسٹرڈ اور ان کے پاس مکمل دستاویزات موجود ہیں انھیں کچھ نہیں کہا جارہا۔ایک پروپیگنڈہ کیا جارہا ہے کہ پاکستان کو افغان مہاجرین کو ملنے والی رقم کا چونکہ بہت کم حصہ ملتا ہے اس لیے پاکستان ان کو واپس بھجوا رہا ہے جبکہ حقائق یہ ہیں کہ پاکستان اربوں روپے خرچ کرکے44 سال تک افغان بھائیوں کی میزبانی کرتا رہا ہے اور ایک محتاط اندازے کے مطابق اب تک پانچ سو ارب روپے اپنے وسائل سے خرچ کر چکا ہے جبکہ دوسری طرف پاکستان کو افغان پناہ گزینوں کے لیے بین الاقوامی عطیہ گزاروں،امدادی اداروں کی جانب سے مخصوص کی گئی رقوم میں سے بہت کم حصہ مل رہا ہے۔

پاکستان نے زیادہ تر مہاجرین کا بوجھ مقامی طور پر اٹھایا اور پہلے سے ہی قلیل وسائل پر دباؤ بڑھتا رہا۔ اسی رقم سے پاکستان کے بیرونی قرضوں کے بوجھ کو کافی حد تک کم کیا جا سکتا ہے اور اس قرضے کی ادائیگیوں کے لیے مخصوص رقم کو ترقیاتی کاموں کی طرف موڑا جا سکتا ہے۔ جس سے ملک بہت پہلے ہی ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکتا تھا۔ یہ دعویٰ کرنا کہ تارکین وطن کو ایک مخصوص مدت کے بعد شہریت دی جاتی ہے غلط ہے ۔خلیجی ریاستیں اور بہت سارے دیگر ممالک اس پر عمل نہیں کرتے۔ ہر ملک اپنے قومی مفاد میں ایسے فیصلے کرتا ہے،پاکستان نائن الیون کے بعد سے دہشت گردی کی لعنت کا شکار ہے۔ غیر محفوظ پاک افغان سرحد اور افغانستان میں کمزور حکومتی ڈھانچہ، وہاں موجود پاکستان دشمن عناصر کو اپنی کارروائیوں کے لیے ایک آزادانہ ماحول فراہم کر رہا ہے۔ پاکستان میں دہشتگردی کے واقعات میں حالیہ اضافے کی ایک وجہ یہ بھی ہے۔ غیر قانونی تارکین وطن کو بے دخل کرنے کا پاکستانی حکومت کا فیصلہ تمام غیر قانونی طور پر مقیم افراد کے لیے ہے نا کہ صرف افغانیوں تک محدود ہے۔کچھ سیاسی جماعتوں کا مخصوص طبقہ جان بوجھ کر پشتون کارڈ کھیلنے کی کوشش کرتا ہے۔ جس کا مقصد پاک افغان سرحد پر پاکستان کے موقف کو کمزور کرنا، نام نہاد ڈیورنڈ لائن کی افغان پوزیشن کا ساتھ دینا، اور سرحد کے پار تعلقات کو بڑھانا ہے جو کہ ان کے ذاتی مفادات کو سپورٹ کرتا ہے۔ یہ عناصر اپنے نام نہاد پشتون ایجنڈے کے اندھے تعاقب میں PTM کی ریاست مخالف سرگرمیوں کو بھی سپورٹ کرتے اور سہولیات فراہم کرتے ہیں۔پاکستان دنیا بھر کے تمام ممالک کی طرح اپنے وسیع تر قومی مفاد میں فیصلے کرتا ہے اور آئندہ بھی کرتا رہے گا۔ پاکستان اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے آزادانہ فیصلے کرنے میں حق بجانب ہے اور اس حوالے سے کسی قسم کا کوئی دباؤ قبول نہیں کیا جائے گا ۔

Comments are closed.