سابق وزیراعظم سائفر دیکھ کر پرجوش ہوگئے، کہا سائفر اپوزیشن اور ریاستی اداروں کے خلاف موٴثر انداز میں استعمال کیا جاسکتا ہے: اعظم خان کا بیان
اسلام آباد(آن لائن ) سابق وزیراعظم کے سیکرٹری اعظم خان نے سائفر کیس میں دیے گئے بیان میں کہا ہے کہ سابق وزیراعظم سائفر پڑھ کر پرجوش ہوگئے،
سابق وزیراعظم نے کہا سائفر اپوزیشن اور ریاستی اداروں کے خلاف موٴثر انداز میں استعمال کیا جاسکتا ہے اور کہا سائفر امریکی اہلکار کی غلطی ہے، سابق وزیراعظم نے یہ بھی کہا کہ سائفر تحریک عدم اعتماد ناکام بنانے میں بھی استعمال ہوسکتا ہے‘۔میڈیارپورٹ کے مطابق اعظم خان کے بیان کی تفصیلات سامنے آگئی ہیں جس کے مطابق اعظم خان نے بتایا سابق وزیر اعظم نے کہا کہ سائفر کی کاپی مجھے دے دو، سابق وزیراعظم نے کہا کہ میں سائفر کو دوبارہ پڑھ کر جائزہ لینا چاہتا ہوں جس پر میں نے سائفر کی کاپی سابق وزیراعظم کو دی جو انہوں نے اپنے پاس رکھ لی، جب سابق وزیراعظم سے بعد میں سائفر کی نقل مانگی تو انہوں نے کہا کہ وہ گم ہوگئی اور کہا کہ وہ سائفر کو تلاش کریں گے‘۔اعظم خان نے اپنے بیان میں کہا کہ ’سابق وزیر اعظم نے ملٹری اور ذاتی عملے کو بھی سائفر ڈھونڈنے کا کہا، سابق وزیر اعظم نے کہا تھا کہ وہ سائفر کو عوام کو دکھائیں گے، میں نے سابق وزیراعظم کو مشورہ دیا یہ خفیہ مراسلہ تھا جسے بتایا دکھایا نہیں جاسکتا‘۔سابق پرنسپل سیکرٹری کے بقول ’28 مارچ کو میری موجودگی میں سابق وزیراعظم نے بنی گالہ میں ایک اجلاس کی صدارت کی، میری یاداشت کے مطابق یہ سابق وزیر اعظم کے ایجنڈے میں شامل نہیں تھی، اجلاس میں سابق وزیراعظم نے سیکرٹری خارجہ کو کہا کہ وہ سائفر کی نقل پڑھ کر سنائیں، اس اجلاس کے منٹس میں نے ریکارڈ کیے تھے، میریخیال میں انہوں نیاعلیٰ فوجی قیادت کونشانہ بنانیاوردباوٴ میں لانے کا منصوبہ بنایا تھا‘۔اعظم خان کے بیان کیمطابق ’سابق وزیراعظم چاہتے تھے کہ فوج کی اعلیٰ قیادت تحریک عدم اعتماد پر ان کی مدد کے لیے آئے، سابق وزیراعظم کی طرف سے عوامی عہدے کو استعمال کر کے اعتماد توڑا گیا اور سابق وزیراعظم کے اس اقدام نے پاکستان کے مفادات کو کمپرومائز کیا‘۔بیان میں مزید کہا گیا ہیکہ ’سابق وزیر اعظم کا مقصد سائفر سے سیاسی مفادات حاصل کرنا تھا اور میرے خیال میں اس اقدام نے فوج کے رینکس میں اعلیٰ قیادت کے خلاف ابہام کے بیج بوئے‘۔
Comments are closed.