پرویز الہٰی ،مونس الہٰی کے خلاف گزشتہ 35سالوں میں کی گئی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کا آغاز کردیا گیا
لاہور/اسلام آباد(آن لائن)سابق وزیر اعلٰی پنجاب چودھری پرویز الہٰی اور ان کے بیٹے مونس الہٰی کے خلاف گزشتہ 35 سالوں میں کئی گئی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے جبکہ پرویز الہٰی نے عمران خان کے دور میں بطور وزیر اعلٰی اپنے ایک 169 دن کے دوران مختلف منصوبوں میں کرپشن کر کے 30 ارب روپے کمائے اور سپین میں مختلف منصوبوں میں بھاری سرمایہ کاری کی ۔اینٹی کرپشن پنجاب کے ذرائع کے مطابق سابق وزیر اعلی پنجاب اور ان کے بیٹے مونسی الہٰی گزشتہ 35 سال سے کئی کرپشن کیسسز میں ملوث رہے ہیں اور ان کے خلاف ان کرپشن کیسسز کی انکوائری اینٹی کرپشن میں جاری ہے ۔1990 کا کوپ سکیم سکینڈل پھر 2002 میں 4 ارب روپے کا پڑھا لکھا پنجاب سکینڈل ،بنک آف پنجاب کا 11 ارب روپے کا سکینڈل ، این آئی سی ایل فراڈ کیس ، نیب میں آمدن سے زیادہ اثاثوں کا کیس ، رحیم یار خان شوگر ملز ، گجرات میں ترقیاتی سکیموں کے نام پر 100 ارب روپے کا سکینڈل ،ایل ڈی اے ماسٹر پلان سکینڈل جس میں اربوں روپے کمائے گئے ۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس بار چودھری پرویز الہٰی کے کرپشن کے جرائم اتنے زیادہ ہیں کہ ایک پریس کانفرنس بھی انہیں صاف نہیں کر سکتی ۔پرویز الہٰی 27 جولائی 2022 سے 12 جنوری 2023 تک 169 دن تک پنجاب کے وزیر اعلٰی رہے اور انہوں نے اس دوران خاندان کے افراد اور فرنٹ مینوں کے ذریعے 30 ارب روپے کمائے ۔ زیادہ تر پیسہ انہوں نے اپنے بیٹے مونس الہٰی کے ذریعے سپین میں سرمایہ کاری کر کے لگایا ۔ باغات ، ہوٹل ، پارکنگ ، عمارات اور ولاز خریدے ۔ لوٹی گئی رقم مختلف کمپنیوں کے نام پر سرمایہ کاری پر لگائی گئی ۔اینٹی کرپشن کے ذرائع کے مطابق پرویز الہٰی کو حال ہی میں پنجاب اسمبلی میں غیر قانونی بھرتیوں کے کیس میں گرفتار کیا گیا ہے پنجاب اسمبلی میں اپنے وفادار لوگ ملازم بھرتی کئے۔نئی عمارت کے نام پر 500 نئی پوسٹیں بنائی گئیں یہ خالی آسامیاں طے شدہ طریقہ کار کے خلاف بنائی گئیں جن لوگوں کو بھرتی کیا گیا اکثر کو جعلی نمبر دیئے گئے اور زیادہ تر بھرتی ہونے والوں کا تعلق گجرات ، منڈی بہاؤ الدین اور وزیر آباد سے ہے عنایت الله لک نامی آفیسر جونیئر لا ئبریرین تھا جو بعد میں گریڈ 22 ڈی جی ریسرچ اور پارلیمانی امور بن گیا اس نے اپنے بیٹے ارسلان عنایت ، بھتیجے حافظ سرفراز اور بہنوئی حامد کو بھرتی کیا۔جونیر کلرک بھرتی ہونے والا محمد خان بھٹی گریڈ 22 میں سیکرٹری پنجاب اسمبلی بن گیا جبکہ سیکرٹری کوارڈینیشن رائے ممتاز بابر کو بھی غیر قانونی توسیع دی گئی ۔اینٹی کرپشن کے ذرائع کا کہنا ہے کہ پنجاب اسمبلی کی نئی عمارت کی تعمیر کی تحقیقات بھی جاری ہیں اس منصوبے میں بھی ٹھیکیدار داروں کے ذریعے کروڑوں روپے پرویز الہٰی اور محمد خان بھٹی نے کمائے ۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پرویز الہٰی نے لوٹ مار کی رقم منقولہ و غیر منقولہ جائیداد کی صورت میں اپنے ساتھ ساتھ اپنے فرنٹ مینوں اور خاندان کے نام کر رکھی ہے ۔کچھ پیسہ شیل کمپنیوں میں لگایا ہوا ہے جبکہ حوالہ ہنڈی کے ذریعے پیسہ باہر ملک منتقل کیا گیا ۔ بے نامی دار اور جعلی اکاؤنٹس بھی کھولے گئے اور نائب قاصدوں کو رحیم یار خان شوگر مل میں شیئر ہولڈر بنا دیا گیا ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ پورا ایک نیٹ ورک ہے جسے پرویز الہٰی نے استعمال کیا اور قومی خزانے سے اربوں روپے لوٹے ۔
Comments are closed.