عام انتخابات میں کنگز پارٹی کا وہی حال ہوگا جو ہم نے 2008ء میں کیا تھا، بلاول بھٹو

کراچی (آن لائن) پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین و سابق وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ عام انتخابات میں کنگز پارٹی کا برا حال ہو گا، کنگز پارٹی کا وہی حال ہو گا جو 2008ء میں ہم نے کیا تھا، ایم کیو ایم اور ن لیگ کے اتحاد کا فائدہ پیپلزپارٹی کو ہوگا، مولانا فضل الرحمان کے ساتھ بھی الیکشن لڑ سکتے ہیں اور ان کے بغیر بھی، بلدیاتی انتخابات کی طرح عام انتخابات بھی پی پی جیتے گی، 8 فروری کو صرف پی پی کو عوامی ووٹ ملے گا، پی ٹی آئی چیئرمین کے خلاف تحریک عدم اعتماد سے قبل جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہم نیوٹرل ہیں اور رہے بھی ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے سفاری پارک میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ کنگز پارٹی کی بات ہر الیکشن میں ہوتی ہے، کنگز پارٹی ہر الیکشن میں کسی نہ کسی صورت میں سامنے آتی ہے، ن لیگ اور ایم کیو ایم کے اتحاد کا ہمیں نقصان نہیں فائدہ ہوگا۔چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ ن لیگ اور پی ٹی آئی کے دور میں ہم اپوزیشن میں تھے، پیپلز پارٹی بلدیات کی طرح عام انتخابات میں بھی جیتے گی بلدیاتی انتخابات میں عوام نے پیپلز پارٹی پر اعتماد کیا، جیسے کراچی کے عوام نے بلدیاتی الیکشن میں پیپلز پارٹی کو جتوایا اسی طرح 8 فروری کو بھی جتوائیں گے۔انہوں نے کہا کہ شہبازشریف کو وزیراعظم بنانے میں ہم نے بہت محنت کی، انہوں نے کہا کہ سابق آرمی چیف قمر جاوید باجوہ نے پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد سے 2 دن قبل ہمیں بلایا تھا اور عدم اعتماد واپس لینے کا کہا گیا۔

پیغام آیا تھا کہ ہم نیوٹرل ہیں اسی نیوٹرل صورتحال میں ہم کامیاب ہوئے، سابق وزیر خارجہ نے کہا کہ ملک میں معاشی اور سیاسی بحران سے ہم نکلنا چاہتے ہیں، سندھ کے حقوق پر ڈاکے مارے جا رہے ہیں، وسائل کے حوالے سے تنگ کیا جا رہا ہے۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ پی ٹی آئی کل تک جمہوریت اور آئین پر یقین نہیں رکھتی تھی، انشاء اللہ 8 فروری کو ہم الیکشن کرائینگے، افغانستان کی ہم بات کرتے ہیں تو ہمیں سختی تحریک طالبان کے ساتھ کرنی چاہئے، ہمیں سختی دہشت گردوں کے ساتھ کرنی چاہئے، افغانستان کی پالیسی پر پی ڈی ایم میں اپنے تحفظات رکھے تھے۔انہوں نے کہا کہ اپنی جماعتوں سے بے وفائی کرنے والے الیکشن میں اپنے عمل کی قیمت چکاتے ہیں، جو مشکل میں اپنی جماعت کے ساتھ کھڑے نہیں ہو سکتے وہ عوام کے ساتھ کیا کھڑے ہوں گے۔بلاول بھٹو نے کہا کہ پنجاب کے سیاستدانوں نے اپنے پسندیدہ بیورو کریٹس کیلئے زندہ باد کے نعرے لگوائے، پی ٹی آئی کو آج یاد آیا ہے کہ آئین اور قانون بھی کوئی چیز ہے، یہ ان کے سبق سیکھنے کا وقت ہے۔ انہوں نے کہا ہمیں پتا ہے کراچی والے بہت محنتی ہیں، ہم چاہتے ہیں کراچی کے شہریوں کو گھومنے اور سیر و تفریح کیلئے اچھی سہولیات فراہم کی جائیں، ڈائنو سفاری پارک سے کے ایم سی کی آمدنی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ جو لوگ باغی ہوتے ہیں ان کو الیکشن میں قیمت چکانی پڑتی ہے، ایک مخصوص پارٹی کا وہی حال ہوگا جو 2008 میں ہوا تھا، ہرالیکشن میں کنگز پارٹیز کسی نا کسی صورت میں واپس آجاتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم اور ن لیگ کے اتحاد کا فائدہ پیپلزپارٹی کو ہوگا، مولانا فضل الرحمان کے ساتھ بھی الیکشن لڑ سکتے ہیں اور ان کے بغیر بھی، پسندیدہ بیوروکریٹ کیلئے پنجاب کے سیاستدانوں نے نعرے لگوائے تھے۔

Comments are closed.