ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل ندیم انجم کی مدت ملازمت میں ایک سال کی توسیع کی گئی ،نگران وزیر اعظم

اسلام آباد(آن لائن) نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نے کہا ہے کہ ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل ندیم انجم کی مدت ملازمت میں ایک سال کی توسیع کی گئی ،ڈی جی آئی ایس آئی رواں ماہ ریٹائر ہونے والے تھے،توسیع کا مقصد پالیسیوں کو برقرار رکھنا ہے۔ وزیر اعظم کا کہنا ہے جیسے جیسے انتخابات قریب پہنچیں گے سیاسی بیان بازی میں مزید اضافہ ہوگا، میں نہیں سمجھتا نگران حکومت کی پالیسی ہے کہ کسی ایک سیاسی گروہ کی حوصلہ افزائی یا حوصلہ شکنی کی جائے، تمام جماعتوں کو عدالتوں کے ذریعے انصاف حاصل کرنے کا حق ہے، اگر انہیں انتخابی عمل سے روکا جا رہا ہے تو ان کے پاس تمام قانونی آپشنز موجود ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے عرب نیوز کو انٹرویو میں کیا۔

نگران وزیراعظم کاکہنا تھاکہ ایسے وقت میں جب ملک میں دہشتگرد حملوں میں اضافہ دیکھاجارہاہے ڈی جی آئی ایس آئی کی مدت ملازمت میں توسیع کا مقصد پالیسی کا تسلسل برقرار رکھنا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پالیسی کے تسلسل کے پوائنٹ کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ کوئی بھی سسٹم تسلسل کے نظریے کو ترجیح اور اس کی حمایت کرتاہے آپ ایک عمل کو جاری رکھنا چاہتے ہیں اور آپ کے لئے اس عمل کو جاری رکھناناگزیر ہو تو اس نظریے پر عمل کرنا ہوتا ہے تاہم اس حوالے سے کوئی تفصیلات نہیں فراہم کیں ۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ ملک میں دہشتگردی میں اضافے کا انتخابات سے تعلق نہیں ہے۔ دہشت گرد اپنی حکمت عملی تبدیل کرتے رہتے ہیں ہمیں اس کے مطابق انہیں جواب دینا ہوگا یہی وجہ ہے کہ میں یہ میری حکومت اس صورتحال کا انتخابات کے عمل سے تعلق نہیں جوڑ رہے ہیں ۔

نگران وزیراعظم نے کہا کہ جوں جوں انتخابات کے دن قریب آرہے ہیں تو بلاشبہ مختلف قسم کے سیاسی الزامات اور بیانات سامنے آئیں گے ، اس بات کی وجہ سمجھ آتی ہے کہ ہر ایک جماعت چاہتی ہے کہ وہ اپنے ووٹرز میں یہ تاثر پیدا کرے کہ اور اس بنیاد پر حمایت حاصل کرنے کی کوشش کریں کہ انتظامیہ انہیں نشانہ بنارہی ہے اور ووٹ اور سپورٹ کے لئے ہمدردی حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں میں نہیں سمجھتا کہ نگران حکومت کی پالیسی ہے کہ کسی ایک سیاسی جماعت کی حوصلہ افزائی یا کسی دوسری جماعت کی حوصلہ شکنی کی جائے پی ٹی آئی کی جانب سے اس کیخلاف کریک ڈاؤن کے الزامات سے متعلق وزیراعظم نے کہا کہ تمام جماعتوں کوحق حاصل ہے کہ وہ عدالتوں کے ذریعے ریلیف حاصل کریں اگر انہیں انتخابی عمل سے غیرقانونی طور پر دور کیا جارہا ہے تو انہیں تمام قانونی آپشنز کو استعمال کرنا چاہیے ۔ ایک اور سوال پر کہ کیا وہ نگران حکومت کے سربراہ کے طور پر چیئرمین پی ٹی آئی کی سزا معطل کرتے ہوئے انہیں انتخابی عمل میں حصہ لینے کی اجازت دے کر لیول پلینگ فیلڈ دینے کو تیار ہیں جیسا کہ پنجاب حکومت نے نواز شریف کیلئے کیا ہے ؟ اس کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ اگر ایسی صورتحال پیدا ہوتی ہے تو ہم غور کرینگے اور دیکھیں گئے کہ ہمارے پاس کیا آپشنز ہیں اور ہمیں کیا کرنے کی ضرورت ہے اور اس کے مطابق فیصلہ کرینگے ۔ غزہ کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کو مغربی حکومتوں بالخصوص امریکہ اور برطانیہ سے بات چیت کرنے کی ضرورت ہے تاکہ اسرائیل کوباور کرایاجاسکے کہ غزہ میں جنگ کے دور رس اثرات مرتب ہوسکتے ہیں اور یہ جنگ مشرق وسطیٰ تک پھیل سکتی ہے اسرائیل کو یہ حساس دلانا ہوگا کہ اس کے اقدامات سے نہ صرف خطہ عدم استحکام کا شکارہورہا ہے بلکہ یہ جنگ پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے جبکہ مسلم ممالک کو بھی اس پرغور و فکر کرنے کی ضرورت ہے ۔

ایک سوال پر کہ کیا غزہ پر حملے کے بعد اسرائیل کے حوالے سے موقف میں نرمی اختیار کرنے بارے پاکستان حکومت کو امریکہ کی جانب سے کوئی درخواست کی گئی ہے؟ کے جواب میں انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ مجھے ایسی کسی قسم کی درخواست کا علم نہیں ہے میں نہیں سمجھتا کہ کوئی بھی حکومت اس طرح کی درخواست سنے گی جو میرے خیال میں ایک خواب کی طرح ہے حتیٰ کہ اس حوالے سے کسی کودرخواست کرنا کہ خاموشی اختیارکی جائے ، ایسا سوچنا بھی نامعقول ہے انہوں نے فوری طور پر تشدد کے خاتمے کا مطالبہ کیااور اسرائیل کی جانب سے غزہ پر حملے کو واضح طور پر نسل کشی کے مترادف قراردیا انوار الحق کاکڑ کا کہناتھا کہ وہ او آئی سی کے غیر معمولی اجلاس میں شرکت کیلئے سعودی عرب جارہے ہیں یا فلسطین پر اسرائیلی حملوں سے متعلق بات ہوگی آپ بچوں کو صرف یہ کہہ کر نہیں مار سکتے کہ آپ کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے ایسا کرنا بربریت پر مبنی کارروائیوں کے لئے لائسنس دینے کے مترادف ہے غزہ کے حوالے سے مسلم ملکوں کے اقدامات سے متعلق سوال پر نگران وزیراعظم نے مسلم دنیا کے کردار پر سوالات اٹھائے ان کا کہنا تھا کہ ہمیں جس صورتحال کا سامنا ہے ہمیں مسلم آبادی سے مزیدسوالات پوچھنے کی ضرورت ہے عالمی سطح پر ہم سائنس و ٹیکنالوجی کے شعبے میں کس قسم کا کردارادا کررہے ہیں پچاس سے ستاون ممالک کے پاسکس قسم کی اپنی دفاعی صلاحتیں موجودہیں انہوں نے مسلم ممالک میں گورننس کے ڈھانچوں کو مورد الزام ٹھہراتے ہوئے کہا کہ فلسطین کی صورتحال کے مقابلے میں ان کے چیلنجز بہت گہرے ہیں ۔

انہوں نے مزید کہا کہ جو چوائسز ہم اپنا رہے ہیں یا ہمیں مجبور کیا جارہاہے یہ 1.4ارب آبادی کے وسیع تر مفادمیں نہیں ہے جنہیں ہم مسلمان کہتے ہیں ۔

Comments are closed.