عمران خان نے آئی ایم ایف سے این آر او مانگ لیا
لاہور ( آن لائن ) چیئرمین پی ٹی آئی کی آئی ایم ایف وفد سے ملاقات کی اندرونی کہانی سامنے آئی ہے جس کے مطابق پی ٹی آئی چیئرمین زور دیتے رہے کہ ملک میں انتخابات کی ضمانت دی جائے اور ا ن کے خلاف کیسز ختم کرا ئے جائیں جبکہ آئی ایم ایف وفد نے واضح کیا کہ ہم ایک حد سے زیادہ سیاسی معاملات میں داخل اندازی نہیں کر سکتے،وفد نے چئیرمین پی ٹی آئی کے مالیاتی مشیروں کے غیر سنجیدہ رویے سے متعلق تشو یش کا اظہار بھی کیا ۔ذرائع کے مطابق چیئرمین پی ٹی آئی اور آئی ایم ایف وفد کے درمیان لاہور میں ہونیوالی ملاقات کی اندرونی کہانی سامنے آ گئی ہے،آئی ایم ایف چیف ناتھن پورٹر نے عمران خان سے ویڈیو لنک کے ذریعے بات چیت کی۔ ملاقات میں چیئرمین پی ٹی آئی نے آئی ایم ایف وفد کے سامنے دو مطالبات رکھے ۔ انکا کہناتھا آپ اس بات کی کیا ضمانت دیتے ہیں کہ پاکستان میں انتخابات وقت پر ہوں گے؟۔
اس کے جواب میں آئی ایم ایف وفد نے کہا کہ آئی ایم ایف پاکستان میں ہونے والی صورتحال پر گہری نظر رکھتا ہے،ہم ایک حد سے زیادہ سیاسی معاملات میں داخل اندازی نہیں کر سکتے۔ تاہم حکومت ملک میں انتخابات کے انعقاد میں سنجیدہ دکھائی دیتی ہے ۔ آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ کے ڈائریکٹرز اپنی میٹنگ میں اپنا نقطہ نظر رکھیں گے،ایگزیکٹو بورڈ کے پاکستان کے سیاسی معاملات سے متعلق موٴقف کی پیشگوئی نہیں کر سکتے۔ ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف وفد نے کہا کہ ایگزیکٹو بورڈ ممبران اپنی رائے دینے میں آزاد ہیں،آئی ایم ایف اسٹاف رپورٹ میں ان کا موٴقف شامل کر دیا جائے گا۔آئی ایم ایف وفد کا مزید کہنا تھا کہ امید ہے نگران سیٹ اپ آئین کے مطابق وقت پر انتخابات کرا دے گا،توقع ہے کہ اقتدار کی منتقلی وقت پر ہو گی۔
ذرائع کے مطابق وفد نے مزید کہا کہ آئی ایم ایف داخلی سیاسی صورتحال میں عدالتی معاملات بالخصوص کرپشن سے متعلق معاملات میں مداخلت نہیں کرتا ،وفد نے چئیرمین پی ٹی آئی اور انکی ٹیم کو بتایا کہ آئی ایم ایف کو انکے مالیاتی مشیروں کے غیر سنجیدہ رویے سے متعلق تشویش لاحق ہے جیسا کہ ماضی میں شوکت ترین کی صوبائی وزراء خزانہ کے ساتھ آڈیو کالیک ہوچکی ہے جس میں وہ مبینہ طورپرآئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے کونقصان پہنچانے کی کوشش کررہے ہیں تاکہ پاکستان کے ڈیفالٹ ہونے کی جانب گامزن ہوجائے ۔ذرائع کا کہناہے کہ دلچسپ امریہ ہے کہ عمران خان نے جواب میں کہا کہ ایسا اس وقت ہوا جب وہ اپوزیشن میں تھے ،لیکن جب وہ حکومت میں ہوں تو ایسی چیزیں رونما نہیں ہونگی ،اس موقع پر آئی ایم ایف کنٹری ہیڈ نے جواب دیا کہ اصل میں پنجاب اور کے پی کے میں پی ٹی آئی حکومت میں تھی اور حقیقت میں یہ چیز آئی ایم ایف کیلئے پریشان کن ہے ۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف پاکستان کے ساتھ معاہدے کیلئے تمام سیاسی جماعتوں کے درمیان اتفاق رائے کا خواہاں ہے کیونکہ چیئرمین پی ٹی آئی نے تحریک عدم اعتماد سے قبل آئی ایم ایف سے طے شدہ تمام شرائط کی خلاف ورزی کی تھی ۔آئی ایم ایف کا یہ بھی خیال ہے کہ چیرمین پی ٹی آئی ماضی میں کہہ چکے ہیں وہ گزشتہ حکومت کی جانب سے لئے گئے قرضے واپس نہیں کرینگے ۔اس صورتحال کے بعد آئی ایم ایف وفد نے مسلم لیگ ن، پی پی پی اور پی ٹی آئی سے ملاقاتوں کا فیصلہ کیا ۔ یاد رہے کہ گزشتہ روز آئی ایم ایف وفد نے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان سے زمان پارک میں ملاقات کی تھی۔
ملاقات میں اسٹینڈ بائی ارینجمنٹ قرض معاہدے سے متعلق تبادلہ خیال کیا گیا۔ آئی ایم ایف وفد اور چیئرمین پی ٹی آئی کے درمیان ملاقات ایک گھنٹے سے زائد جاری رہی۔ اس موقع پر پی ٹی آئی کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی بھی موجود تھے،جبکہ سابق وزیرخزانہ سینیٹر شوکت ترین نے ویڈیولنک پر آئی ایم ایف وفد کو بریفنگ دی۔
Comments are closed.