دسمبر کے پہلے یا دوسرے ہفتے میں نواز شریف جلسوں کا آغاز کریں گے ، رانا ثناء اللہ
لاہور (آن لائن) پاکستان مسلم لیگ (ن) پنجاب کے صدر رانا ثنا اللہ خان نے کہا ہے کہ جیسے ہی پارلیمانی بورڈز میں امیدواروں کے حلقوں کے فیصلے ہو جاتے ہیں تو دسمبر کے پہلے یا دوسرے ہفتے میں نواز شریف جلسوں کا آغاز کریں گے ،ہم شفاف اور منصفانہ انتخابات کے نتیجے میں عوام کا مینڈیٹ حاصل کریں گے اورکامیاب ہو کر وفاق اور پنجاب میں حکومتیں بنائیں گے ۔ سیاستدانوں ہی نہیں عدلیہ سمیت تمام اداروں کے لوگوں کا کردار قوم کے سامنے آنا چاہیے ،یہ انتقام نہیں ہوگا بلکہ ایسا ہونے سے ہمارا قبلہ درست ہوگا،قوم کی سمت کو درست کرنے کے لئے پارلیمنٹ کو ساتھ لے کر اقدامات کریں گے، ہم شفاف اور منصفانہ انتخابات کے نتیجے میں عوام کا مینڈیٹ حاصل کریں گے اورکامیاب ہو کر وفاق اور پنجاب میں حکومتیں بنائیں گے۔تفصیل کے مطابق پاکستان مسلم لیگ(ن) کے مرکزی سیکرٹریٹ میں پنجاب کے مختلف حلقوں سے ناراض رہنماؤں سردار منصب ڈوگر ، احمد رضا مانیکا ، آصف بھاہ، پیر نظام الدین سیالوی ، فاروق مانیکا ، میاں ماجد نواز اور سعید خان نے دوبارہ مسلم لیگ (ن) میں شمولیت کا اعلان کر دیا۔ اس موقع پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ خان نے کہا 2017میں جو پراجیکٹ لانچ کیا گیا اور پھر مسلط کیا گیا اس کے پونے چار سال میں وہ حشر ہوا کہ ہم ابھی تک سنبھل نہیں رہے ، حکومت بننے کے بعد بھی اس کے لئے کم از کم ڈیڑھ سے دو سال ایسے ہوں گے کہ ہمیں تندہی سے کام کرنا پڑے گا پھر ہم موجودہ صورتحال سے باہر آئیں گے۔مسلم لیگ (ن) کو کوئی سہولت نہیں دی جارہی ،ہماری قیادت ، رہنماؤں اور کارکنوں کو جیلوں میں ٹھونسا گیا ،کیا ہر مرتبہ ہمارے لئے یہی حالات ہونے چاہئیں ،کیا ہمیں ہر بار لیول پلینگ فیلڈ نہیں ملنی چاہیے ،اب ایسا نہیں ہے تو کیا یہ سہولت کاری ہے ،نہ کسی کو ہمارے دوسرے صوبوں میں جانے پراعتراض ہونا چاہیے نہ ہمیں کسی کے آنے پر اعتراض ہونا چاہیے ،رانا ثنا اللہ خان نے کہا کہ 2017میں جو پراجیکٹ لانچ کیا گیا وہ پراجیکٹ نہ صرف ناکام ہوا بلکہ اس کی ناکامی پاکستان کواتنی مہنگی پڑی کہ 2017میں جو پاکستان خوشحالی کی طرف طرف بڑھ رہا تھا جو جی 20کے دروازے پر دستک دے رہا تھا اور23ویں یا 24نمبر پر تھا آج وہ 47نمبر پر جا پہنچا ہے ، ہم ایک ایک ڈالر کے لئے آئی ایم ایف اور دوسرے اداروں کی منتیں کر رہے ہیں،مہنگائی کی یہ صورتحال ہے کہ عام آدمی کا جینا مشکل تو کیا نا ممکن ہو چکا ہے ۔انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) نے 90 ء کی دہائی میں بھی اور2013میں بھی نواز شریف کی قیادت میں پاکستان کو ایسے بحرانوں سے نکا لاہے ، ہم یہ بات صرف زبانی کلامی یا کتابی نہیں کر رہے بلکہ ہم نے کرکے دکھایا ہے ۔ 21اکتوبر کا اجتماع جو نواز شریف سے ایک امید لے کر آیا تھا ہم نے اسے یقین میں بدلنے کا وعدہ کیا اور اور اس کے اوپر اس دن سے پاکستان مسلم لیگ (ن) اپنے قائد نواز شریف کی قیادت میں سر بکف ہے ، ہم پوری طرح سے انتخابات کے لئے سر گرمیوں کا آغاز کر چکے ہی، نواز شریف دوسرے صوبوں کے دوروں کو بھی شیڈول کر چکے ہیں اور اگلے ہفتے ان کا بلوچستان جانے کا پروگرام ہے ،
اسی سلسلے میں مسلم لیگ (ن) کا وفد سندھ میں ایم کیو ایم اور جی ڈی اے سے مذاکرات میں مصروف ہے ، اس سے پہلے دوسرے صوبوں سے مختلف وفود آ کر پارٹی قائد نواز شریف اور پارٹی صدر شہباز شریف سے ملاقاتیں کر چکے ہیں ۔انہوں نے بتایا کہ ماضی میں کچھ فیصلوں کی وجہ سے ہمارے جو دوست ناراض ہو گئے تھے ، ہم نے ان سے رابطے کئے ہیں اور وہ واپس آ گئے ہیں ،سردار منصب ڈوگر ،آصف بھاء،پیر نظام الدین سیالوی ، فارو ق مانیکا ، سعید خان اور میاں ماجد نواز میرے ساتھ موجود ہیں ۔ا نہوں نے کہا کہ جو کہتے ہیں ضمنی انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کی کارکردگی ٹھیک نہیں رہی اور پی ٹی آئی جیتی ، وہ کہاں جیتی ہمیں سارے معاملات کا ادراک ہو گیا تھا اور ہم اس معاملے کو پوری طرح سے درست کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ کہا جارہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کو سہولت دی جارہی ہے تو میں بتانا چاہتا ہوں کہ مسلم لیگ (ن) ایک سیاسی جماعت ہے ، ہم نے ہمیشہ نا مساعد اور مشکل حالات میں مقابلہ کیا ہے ، ہم نے اس دور میں سیاست کی جس دور میں ہماری قیادت کو ہمیں اور ہمارے کو کارکنوں کو جھوٹے مقدموں میں جیلوں میں ٹھونسا گیا ، ادویات اور کھانا بند کیا گیا ، وہاں پراذیت کا ماحول پیدا کیا گیا ،اس وقت کون سی سہولت کاری تھی ہم اس وقت بھی پورے قد سے کھڑے رہے ۔ 2018ء میں کون سی سہولت حاصل تھی اس کے باوجود کیا ہم نے صوبائی اسمبلی کی 130نشستیں نہیں جیتیں، پنجاب قومی اسمبلی میں سب سے بڑی جماعت نہیں تھے ، کیا ہر مرتبہ ہمارے لئے یہی حالات ہونے چاہئیں ،کیا ہمیں ہر بار لیول پلینگ فیلڈ نہیں ملنی چاہیے ،کیا مسلم لیگ (ن) کو جھوٹے مقدمات میں پابند سلاسل ہی رکھا جانا چاہیے ،اب ایسا نہیں ہے تو کیا یہ سہولت کاری ہے یہ کون سی سہولت کاری ہے ؟۔ایک ایک سیٹ پر پر اپنی کمزوریوں کا جائزہ لے رہے ہیں اور جن دوستوں کے تحفظات ہیں انہیں دور کر رہے ہیں، ہم شفاف اور منصفانہ انتخابات کے نتیجے میں عوام کا مینڈیٹ حاصل کریں گے اورکامیاب ہو کر وفاق اور پنجاب میں حکومتیں بنائیں گے ۔ یہ پاکستان کو بحرانوں سے نکالنے کیلئے ہے ، عام آدمی کے لئے ہے جس کیلئے زندگی گزارنا نا ممکن ہو گیا ہے ،پاکستان کو دوبارہ سے جی 20ٹونٹی میں لانے کے لئے ہے ۔ا نہوں نے کہا کہ 2013میں دنیا کہتی تھی پاکستان میں دہشتگردی کیسے ختم ہو گی ، لوگ کہتے تھے 20،20گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ کیسے ختم ہو گی ،ہم نے چار سال میں نا ممکن کو ممکن کر کے دکھایا،مہنگائی یقینا عام آدمی کے لئے بہت ہی تکلیف دہ ہے لیکن میں پورے دعوے سے کہتاہوں یہ اتنا بڑا چیلنج نہیں ہے جتنی بڑی دہشتگردی یا لوڈ شیڈنگ تھی ، ہم نے عوام کو 21اکتوبر کو امید دی ہے ہمیں مہنگائی کے چیلنج سے بھی نبرد آزما ہوں گے ، ہم کامیابی کی طرف بڑھ رہے ہیں ، ہم امید کو یقین میں بدلیں گے۔ ہم قوم سے وعدہ کر رہے ہیں کہ مسلم لیگ (ن) وہ جماعت ہے جو چیلنجز سے نبرد آزما ہونے کی صلاحیت رکھتی ہے ۔ ہمیں کہا گیا مسلم لیگ (ن) مینار پاکستان نہیں بھر سکتی ہم نے مینار پاکستان ہی لاہور کو بھر کر دکھایا،نواز شریف نے ملک کو بحران ،مشکلات اور مصیبوں سے نکالنے کے لئے خود کو پیش کیاہے
۔انہوں نے نواز شریف کی زیر التواء اپیلوں کے حوالے سے کہا کہ نواز شریف پاکستان میں موجود ہیں ہمیں اللہ سے بہت امید ہے ۔نواز شریف کو وہ جعلی سزائیں ہوئیں کہ سزائیں دینے والے خود بھی پکار اٹھے کہ ہم نے غلط سزائیں دی ہیں، ان سزاؤں کو قائم نہیں رہنا چاہیے ، عدلیہ ،چیف جسٹس پاکستان اورچیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کا یہ آئینی قانونی فریضہ ہے کہ وہ اس نا انصافی کو درست کریں، ہمیں پوری امید ہے کہ یہ عمل چند ہفتوں میں مکمل ہو جائے گا،امید ہے کہ نوازشریف اپیل کا معاملہ حل ہوجائے گا۔انہوں نے کہا کہ پنجاب میں ہمارا ووٹ اور سپورٹ موجود ہے ، اگر کوئی ووٹر ناراض ہے تو ہمیں اسے دوسری طرف نہیں رہنے دیں گے اسے منا کر واپس لائیں گے۔ پنجاب میں یا نواز شریف کا ووٹ ہے یا اس کا مخالف ووٹ ہے،کیا پیپلزپارٹی سمیت ہمارے مخالفین اس ووٹ کو راغب کرنے کے لئے ہمارے اوپر گولہ باری نہیں کریں گے ،تنقید نہیں کریں گے اور سیاسی طور پر ان کی پالیسی درست ہے ، انہیں ہمارے خلاف بات کرنی چاہیے ، ہمارے مخالف ووٹ کو اپنی جانب راغب کرنا چاہیے لیکن اس تنقید کے دوران حدود و قیود کا خیال رکھا جانا چاہیے ،سیاسی رواداری اور احترام کو پیش نظر رکھا جانا چاہیے ۔ایسا نہیں ہونا جیسے فتنے اور فساد کی سیاست کرنے والے نے کیا ۔ وہ کہتا تھا میں کسی کو نہیں چھوڑوں گا ، جیلوں میں گھر کا کھانا اور ادویات نہیں دوں گا ۔آج اسے خود دس ،دس کھانے مل رہے ہیں، کبھی اسے دیسی مرغ چاہیے کبھی یخنی چاہیے کبھی مچھلی چاہیے ،اس کو ورزش کے لئے مشینیں دی جارہی ہیں، اسے مینیو پیش کیا جاتا ہے پھر سلیکشن ہوتی ہے اور کھانے تیار کر کے دئیے جارہے ہیں ، ڈاکٹرز چیک کرتے ہیں، اسے جیل میں فور ،فائیو سٹار ہوٹل جیسے سہولتیں دی جارہی ہیں لیکن ہم نے اس پر کبھی اعتراض کیا ، قانون کے مطابق جو سہولت مزید ملنی چا ہئیں وہ بھی دی جائیں، میں تو کہتا تھاکہ جو ہمیں اذیتیں دے رہا ہے یہ ایک دن خود بھی جیل جائے گا لیکن ہمیں اسے ایک چیز کے سوا ساری سہولتیں دیں گے ، میرے بااعتماد ذرائع نے بتایا ہے کہ اسے وہ ایک چیز بھی مل رہی ہے لیکن ہمیں اس کے باوجود اس پر بھی اعتراض نہیں ہے ۔ رانا ثنا اللہ خان نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) چوہدری نثار علی کے حلقے میں امیدوار کھڑا کرے گی ، میری تو سفارشات ہیں پنجاب میں ہم ہر حلقے سے امیدوار دیں گے اور پنجاب میں سیٹ ایڈ جسٹمنٹ یا اتحاد کی ضرورت نہیں ۔ شاہد خاقان عباسی ہمارے بہترین ساتھی ہیں ، حق سچ کی بات کرنے والے بیباک بات کرنے والے دوست ہیں ، ان کی اپنی سوچ ہے ،ہمیں ان کی مشاورت اور رہنمائی حاصل رہے گی ، ان کے لئے مستقبل کے حوالے سے خطرے کی کوئی بات نہیں ۔انہوں نے کہا کہ جس شخص کے لئے بات کی جارہی ہے کیا اس کے کہنے پر 9مئی کو دفاعی ادارے کے اوپر حملہ نہیں کیا گیا ،دفاعی تنصیبات کو آگ نہیں لگائی گئی ،آرمی ہاؤسز کو نہیں جلایا گیا اور جب اس کے خلاف کارروائی ہو تو یہ سوال کیا جائے یہ سلسلہ کب تک جاری رہے گا۔ کیا اس بندے نے چیف آف آرمی اسٹاف کی تعیناتی رکوانے کیلئے مارچ نہیں کیا گیا ، ریٹائرڈ اور حاضر سروس افسران کے ساتھ مل کر ایسی سازش نہیں کی جس کے نتیجے میں آرمی میں تقسیم کا عنصر آ جاتا ہے ،پھر اس ملک کا کیا بنتا ہے کیا یہ کوشش نہیں کی گئی ۔ یہ بات اس نے بر ملا نہیں کہی کہ فلاں کو توسیع دو ، ایک حساس ادارے کے سربراہ کی تعیناتی کو اس نے سیاسی نہیں بنایا ۔کیا اس نے نہیں کہا تھا میں گرفتاری نہیں دو ں گا ، اس نے زمان پارک کے باہر پولیس والوں پر حملے نہیں کرائے ، کیا نواز شریف کو گرفتار نہیں کیا گیا ، ہم گرفتار نہیں ہوئے ۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی چیئرمین کو ساری سہولتیں عدالت کے حکم پر مل رہی ہے، دوائی بھی مل رہی ہے ۔انہوں نے ملک کو اس نہج پر پہنچانے والوں کے احتساب کے حوالے سے سوال کے جواب میں کہا کہ آ ج چوبیس ،پچیس کروڑ کے ملک میں ساڑھے 23کروڑ ایسے لوگ ہوں گے جن کا زندگی گزارنا نا ممکن ہے اور مشکل سبھی کا ہے ، پہلے ہم ان کی زندگیوں میں بہتری لانے کے لئے زور لگائیں گے،نواز شریف نے اس ملک کے معاشی بحران کو کنٹرول کرنے ،اس ملک کو خوشحال کرنے اور عام آدمی کی زندگی کو آسان کرنے کی جو امید دلائی ہے پہلے اسے یقین میں بدلیں گے ۔ حقائق جاننے کے لئے ایک ٹروتھ ری کنسیلیشن کمیشن بننا چاہیے ،ہر کسی کا کردار سامنے آنا چاہیے ، آنے والی پارلیمنٹ فیصلہ کرے کس کو سزا دینی ہے یا نہیں دینی ، سیاستدانوں ہی نہیں عدلیہ سمیت تمام اداروں کے لوگوں کا کردار قوم کے سامنے آنا چاہیے ۔ یہ انتقام نہیں ہوگا بلکہ ایسا ہونے سے ہمارا قبلہ درست ہوگا،لوگوں کی سمت درست ہو جائے گی ، ہم اس قسم کی سوچ رکھتے ہیں لیکن ہم انتقام کی سوچ نہیں رکھتے ، ہم ایسی سوچ نہیں رکھتے کہ فلاں کو پکڑیں گے فلاں کو نہیں چھوڑیں گے بلکہ قوم کی سمت کو درست کرنے کیلئے پارلیمنٹ کو ساتھ لے کر اقدامات کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہماری حکومت بر قرار رہتی تو بھاشا ڈیم تکمیل کے قریب ہوتا،سی پیک مکمل ہو چکا ہوتا اور سی پیک کے ذرائع سے اتنے ڈالرز مل رہے ہوتے کہ ہم مہنگی بجلی بنا کر لوگوں کو سستی دے رہے ہوتے،آئی ایم ایف کو سجدے نہ کرنا پڑتے ۔2017میں جو پراجیکٹ لانچ کیا گیا اور پھر مسلط کیا گیا اس کے پونے چار سال میں وہ حشر ہوا کہ ہم ابھی تک سنبھل نہیں رہے ، حکومت بننے کے بعد بھی اس کے لئے کم از کم ڈیڑھ سے دو سال ایسے ہوں گے کہ ہمیں تندہی سے کام کرنا پڑے گا پھر ہم موجودہ صورتحال سے باہر آئیں گے۔انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی پنجاب میں امیدوار کھڑے کرے ،پارلیمانی جمہوریت میں سیاسی جماعتیں ہر کونے میں موجود ہوں گی تو فیڈریشن مضبوط ہو گی ملک اور جمہوریت مضبوط ہو گی ،نہ کسی کو ہمارے دوسرے صوبوں میں جانے پراعتراض ہونا چاہیے نہ ہمیں کسی کے آنے پر اعتراض ہونا چاہیے ۔انہوں نے کہا کہ جیسے ہی پارلیمانی بورڈز میں امیدواروں کے حلقوں کے فیصلے ہو جاتے ہیں تو دسمبر کے پہلے یا دوسرے ہفتے میں نواز شریف جلسوں کا آغاز کریں گے ،نواز شریف پورے ملک میں جلسے کریں گے،پنجاب میں ہر ڈویژن ہیڈ کوارٹر پر نواز شریف ایک جلسہ کریں گے ،ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر میں پارٹی صدر شہباز شریف اور چیف آرگنائزر مریم نواز جلسے کریں گی ۔انہوں نے کہا کہ ٹکٹوں کے لئے ایک دن میں ساڑھے تین سو درخواستیں جمع کرائی گئی ہیں کروائی ہیں ،جن لوگوں نے درخواست دی ،بورڈ کی سربراہی نوازشریف کرکے انہیں ترجیح دیں گے جنہوں نے سب سے زیادہ قربانیاں دی ہیں۔
Comments are closed.