پہلے صرف ہم چیئرمین پی ٹی آئی کو فتنہ کہتے تھے اور اب ہر کوئی کہتا ہے، مولانا فضل الرحمان
مری (آن لائن)جمعیت علما اسلام (ف )آ کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ پہلے صرف ہم چیئرمین پی ٹی آئی کو فتنہ کہتے تھے اور اب ہر کوئی کہتا ہے، پاکستان میں ایک حکومت لائی گئی جس کا ایجنڈا ملک کو معاشی طورپر دیوالیہ اور اسرائیل کو تسلیم کروانا تھا، ڈیڑھ سال میں ہم صرف ملک کو دیوالیہ پن سے محفوظ کر سکے، ہم عالمی قوتوں کو نہ تو سیاسی نہ ہی معاشی طور پر کھیلنے کی اجازت کسی صورت نہیں دیں،آج ہم نے ملک کو الحمد اللہ معاشی اور سیاسی طور پر مضبوط بنایا ہے ، قوم سوچے کہ مستقبل کن کے سپرد کرنا ہے ملک بچانے یا پھر برباد کرنے والوں کے؟،
حماس نے کہا دنیا میں ہماری امید پاکستان ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اتوار کو مری میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ انہوں نے کہا ملک پر ایک ایسے شخص کو مسلط کیا گیا تھا جو ملک کو معاشی طور پر دیوالیہ کرنا چاہتا تھا جس کے خلاف ہم نے سیاسی میدان میں جدوجہد کرتے ہوئے اس کو ناکام بناتے ہوئے یہودانصار کے ایجنڈے کو ناکام کیا اور وہ شخص آج مقافات عمل کا شکار ہے جو لوگ اس قسم کے لوگوں کو سامنے لا کر ملک پرمسلط کرتے ہیں وہ ملک کی مقتدر سیاسی قوتوں کو کمزور کرنے کے ساتھ ساتھ ملکی سطح پر ہمیں دوست ممالک دور کر کے نقصان پہنچانا چاہتے ہیں ہم عالمی قوتوں کو نہ تو سیاسی طور پر اور نہ ہی معاشی طور پر کھیلنے کی اجازت کسی صورت نہیں دیں آج ہم نے ملک کو الحمد اللہ معاشی اور سیاسی طور پر اقتدار رہ کر مضبوط بنایا ہے ۔مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ پاکستان میں ایک حکومت لائی گئی جس کا ایجنڈا اسرائیل کو تسلیم کروانا تھا، لوگ آج اسرائیلی مصنوعات کا بائیکاٹ کر رہے ہیں ہم نے 15 سال پہلے کیا تھا۔مولانا فضل الرحمان نے چیئرمین پی ٹی آئی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ چین اور سعودی عرب کہتے ہیں کہ اگر ایسا صادق و امین دوبارہ اقتدار میں آیا تو ہماری توبہ اور پیسہ بھی نہیں لگائیں گے۔چین جیسا دوست چیئرمین پی ٹی آئی نے پراجیکٹ منجمد کر کے ناراض کردیا۔انہوں نے کہا کہ مہنگائی پاکستان کو کمزور کرنے کا ایجنڈا رکھنے والی حکومت کے سبب آئی، پاکستان دیوالیہ ہونے کی دہائی پر تھا تو سب کی آنکھیں کھلی کہ یہ فتنہ ہے،
پہلے ہم کہتے تھے اور آج سب کہتے ہیں کہ وہ بیرونی ایجنڈے پر تھے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں ماضی میں بہت سے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا، دنیا سمجھتی رہی شاید نظریاتی سیاست ختم ہو چکی ہے باتیں ہو رہی تھیں مغرب کا سرمایہ دارانہ نظام فتح حاصل کر چکا ہے، یہ بھی کہا جا رہا تھا کہ اب ہمیں مغرب کے ایجنڈے کے تابع رہنا ہے، ہم نے خطے اور پاکستان میں اس نظریاتی چیلنج کو قبول کیا اور میدان میں رہے، امریکا، مغربی طاقت یا صیہونی قوت ہو سب کو ہم نے شکست دی۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ عوام کو اپنی رائے مثبت کرنا ہوگی۔ فیصلے کی گھڑی پر عوام کو اپنی رائے ملکی فلاح کی رکھنی ہوگی، آج کا اجتماع بتا رہا ہے ہماری محبت آپ کے دلوں سے کوئی نکال نہیں سکا۔ ماضی میں ہمیں بہت چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا، اب ماضی کی لکیروں کی پیروی کے بجائے نئے زاویے کے ساتھ مستقبل کی تعمیر کرنی ہیانہوں نے کہا کہ جمعیت علمائے اسلام 100 سالہ تاریخ رکھتی ہے ہماری پشت پر قربانیاں ہیں، ہم نے ہتھیار نہیں ڈالے افغانستان میں روس آیا تو لوگوں نے ہتھیار اٹھایا، افغانستان میں امریکا آیا تو لوگوں نے انہیں باہر نکال دیا۔اسرائیل فلسطین جنگ میں امریکہ اور عالمی برداری دنیا کی راے کے خلاف کام کررہی ہے جس کی ہم بھرپور مذمت کرتے ہیں لوگ آج یہودی منصوعات کا بائیکاٹ کرنے بات کرتے ہیں ہم نے جب برطانیہ اور نے اسرائیل کی بنیاد رکھی تھی اس وقت سے یہود انصار کی منصوعات کے بائیکاٹ کی بات کر رہے ہیں فلسطین اسرائیل جنگ میں ہم سیاسی سماجی معاشی معاشرتی اور اخلاقی طور پر فلسطین کے ساتھ کھڑے ہیں اور او آئی سی اور حکومت وقت سے مطالبہ کرتے ہیں
وہ عالمی سطح پر پراسرائیل کے خلاف ایسے اقدامات کریں کے تاکہ اسرائیل فلسطین کے نہتے مسلمانوں کے قتل عام کو فی الفور بند کرے کیونکہ اب تک اسرائیل اب تک پانچ ہزار نہتے مسلمان بچوں قتل عام کر چکا جس کے خلاف پوری دنیا سمیت امریکا میں بھی احتجاج کیا گیا یے لیکن عالمی برداری انسانی راے کے خلاف کام کر رہی ہے اور اسرائیل کی جارجیت کو روکنے میں ناکام ہے آج ہمیں نہ صرف یہود انصار کی اشیاء بلکہ یہودانصار کے خلاف متحد ہونا پڑھے گا ۔۔ انہوں نے کہا کہ اگر امریکا خود کو سپر طاقت سمجھتا ہے تو احمق ہے۔ اگر ہم بھی امریکا کو سپر طاقت سمجھتے ہیں تو احمق ہیں، فلسطین میں ہماری مائیں اور بہنیں شہید ہوئی ہیں، فلسطین میں بزدل چھوٹے بچوں اور عورتوں پر بمباری کرتا ہے۔مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ فلسطین والے ہمارے بھائی ہیں، پوری امت مسلمہ ان کے ساتھ کھڑی ہو۔ پوری دنیا میں اسرائیل کے خلاف مظاہرے ہوئے، امریکا، برطانیہ، فرانس میں بھی فلسطینی عوام پر ظلم کیخلاف مظاہرے ہوئے، جنگ کے بھی اصول ہوتے ہیں، انسانی حقوق کی تنظیمیں کہاں ہیں؟انہوں نے کہا کہ افغانستان میں روس امریکا کو باہر نکالا گیا۔ امریکا، مغربی دنیا بحری بیڑے لا کر حمایت کر سکتے ہیں تو مسلمان برادری کو کیا سانپ سونگھ گیا ہے؟مولانا فضل الرحمان نے مزید کہا کہ میں نے کسی کی پروا نہیں کی۔ وطن عزیز کی نمائندگی کرتے ہوئے حماس قیادت سے ملاقات کی۔ حماس قیادت سے ملاقات میں واضح کہا کہ پاکستان کا بچہ بچہ فلسطین کے ساتھ ہے۔ حماس نے بھی وضاحت سے کہا کہ دنیا میں ہماری امید پاکستان ہے، پاکستان نے اقوام متحدہ میں جو موٴقف دیا اس کی قدر کرتے ہیں۔ اس موقع پرامیدوار براے پی پی 6 ارشد عباسی امیر جمعیت علمائے اسلام قاری سیف اللہ سیفی ڈاکٹر ضیاء الرحمن جں رل سیکرٹری جمعیت علمائے اسلام پنجاب قاری نوید عباسی جنرل سیکرٹری جمعیت علمائے اسلام مری مولانا قاری ظفر اسلام رہنما جمعیت علمائے اسلام ندیم اخلاص عباسی رہنما جمعیت علمائے اسلام مری نائب صدر جمعیت علمائے اسلام قاری راشد نواز امیر یونین کونسل گھوڑا گلی مری قاری عقیل احمد عباسی عمران قمر عباسی اور دیگر نے بھی جلسے سے خطاب کیا اور کہا مولانا فضل الرحمان کی قیادت میں ملک کواسلامی فلاحی ریاست بنا کر دم لیں جس کے لئے ہم مری کے عوام سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ امدہ جنرل الیکشن میں جمعیت علمائے اسلام کے نامزد امیدواروں کو کامیاب کرواہیں۔
Comments are closed.