آذربائیجان، پاکستان اور ترکیہ اپنے اسٹریٹجک تعلقات کو مضبوط کرنے کےلئے ایک طاقتورسہ فریقی اتحاد کی تیاری کررہے ہیں
اسلام آباد (آن لائن)آذربائیجان، پاکستان اور ترکیہ سیکورٹی، معیشت اور سفارتکاری میں اپنے اسٹریٹجک تعلقات کو مضبوط کرنے کےلئے ایک طاقتورسہ فریقی اتحاد کی تیاری کررہے ہیں۔اس متحرک شراکت داری پر ترکی اور پاکستان کے 2020 میں نگورنو کاراباخ جنگ میں آذربائیجان کی طرف سے اہم کردار کی وجہ سے زور دیا گیا اور یہ فوجی تعاون اور مشترکہ انسانی کاوشوں کی عکاسی کرتا ہے ۔دوسری طرف ترکی اور آذربائیجان دونوں کشمیر کاز پر پاکستان کی حمایت کرتے ہے ان ممالک کا مقصد ثقافتی تعلقات کو گہرا اور اقتصادی تعاون کو فروغ دینا ہے ۔ فوجی پہلوؤں سے ہٹ کر سفارتی اتحاد ،عظیم ترین یوریشیا کے جغرافیائی سیاسی منظر نامے کی تشکیل میں، اس سہ فریقی اتحاد کی اہمیت کو مزید اجاگر کرتی ہے۔
اس اسٹریٹجک پارٹنرشپ کی جڑیں ترکیہ اور پاکستان کے درمیان 1947ءمیں آزادی سے قبل کے تاریخی تعلقات سے جڑی ہیں۔ سوویت یونین کے خاتمے کے بعد ترکیہ اور پاکستان دونوں نے فوری طورپر آذربائیجان کو ایک آزاد قومی ریاست کے طور پر تسلیم کیا۔صدر ارد وان متواتر آذربائیجان کے دورے کرتے رہے ہیں اور اپنے دور صدارت میں 20 سے زائد مرتبہ انہوں نے دورے کئے ۔یہ تعلقات کی گہرائی کی اہمیت کو بیان کرتے ہیں جسے عام اصطلاح میں ”ایک قوم، دو ریاستیں“ کے طور پر بیان کیا جاتا ہے۔ اس سہ فریقی تعلقات کا عسکری پہلو نمایاں ہے ۔ 2016 اور 2019 کے درمیان، ترکیہ مضبوط دفاعی تعاون کا مظاہرہ کرتے ہوئے، امریکہ کو پیچھے چھوڑ کر پاکستان کوہتھیار درآمد کرنے والا چوتھا سب سے بڑا ملک بن گیا جومضبوط دفاعی تعاون کا مظہرہے ۔ ترکیہ کی جانب سے پاکستان کو ڈرون کے پرزہ جات ، بحری جہاز اور بموں سمیت فوجی ٹیکنالوجی کی منتقلی سے وہ پاکستان کے لیے ہتھیاروں کا اہم ملک بن گیااس طرح اسے اپنے وسائل کو آگے لے جانے میں مدد ملی ۔
تاہم یہ تعلقات یکطرفہ نہیں ہیں ترکیہ کو مغرب کی جانب سے میزائل اور لڑاکا طیاروں سسٹم پر پابندیوں کا سامنا ہے، اس نے مشترکہ ترقی کے لیے پاکستان کا رخ کیا۔ آذربائیجان کو بھی ترکیہ کے ہتھیاروں کی فروخت میں اضافہ دیکھا گیا ہے، بالخصوص 2020 کی نگورنو کاراباخ جنگ کے بعد، جہاں ترکیہ کے ڈرونز نے ایک اہم کردار ادا کیا۔ فوجی شعبےمیں اسٹریٹجک تعاون ہتھیاروں کی فروخت کے علاوہ ترکیہ کے جوہری پروگرام کی حمایت پر بات چیت تک محیط ہے ۔
پاکستان میں آذربائیجان کا اثر و رسوخ فوجی دائرے سے باہر ہے۔ آذربائیجان کی خاتون اول مہربان علییوف کی قیادت میں حیدر علییوف فاونڈیشن نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کششوں میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ تعلیم، ماحولیات اور صحت کے منصوبے، جیسا کہ مظفر آباد میں آل گرلز سکول اور ڈیرہ اسماعیل خان میں حیدر علییوف واٹر سپلائی سکیم، پاکستان میں آذربائیجان کے مثبت شراکت کے عزم کو ظاہر کر تاہے ۔ 2020 میں نگورنو کاراباخ جنگ کے تناظر میں، سہ فریقی اتحاد نے تعلقات کو مستحکم کرنے کے لیے خاطر خواہ اقدامات کیے ہیں۔ جولائی 2021 میں باکو اعلا میہ ثقافتی تعلقات، باہمی احترام اور بڑھتے ہوئے اعتماد پر زور دیتا ہے۔ تاہم، "تھری برادرز-2021)” کی مشترکہ فوجی مشقوں نے خاص طور پر ایران کے ساتھ جغرافیائی سیاسی کشیدگی کو بڑھایا ہے ۔یہ اس اتحاد کے دور رس اثرات کو ظاہر کرتا ہے۔ اقتصادی صلاحیت کو مدنظر رکھتے ہوئے انقرہ، باکو، اور اسلام آباد کے درمیان بات چیت تجارت، سرمایہ کاری، نقل و حمل، سیاحت اور بینکنگ کے شعبوں میں تعاون کو تیز کرنے کے گرد گھومتی ہے۔
جنوری میں دستخط کیا گیا "اسلام آباد اعلامیہ”، اقتصادی تعلقات کو گہرا کرنے کے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے اور مستقبل میں تعاون کا خاکہ مہیا کرتاہے ۔ کشمیر، قبرص اور انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں جیسے عالمی مسائل پر مشترکہ موقف اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ ان میں سے کوئی بھی ملک سفارتی طور پر تنہا نہ ہو۔ ترکیہ اور آذربائیجان کی حمایت کشمیر پر پاکستان کے موقف کے لیے اہم رہی ہے۔ آذربائیجان،پاکستان،ترکیہ اتحاد ایک کثیرالجہتی شراکت داری ہے جو تاریخی تعلقات، فوجی تعاون، انسانی ہمدردی کی کوششوں، اقتصادی عزائم اور سفارتی اتحاد کو ایک ساتھ باندھتا ہے۔ مشترکہ مقاصد، باہمی مفادات ، اور مستقبل میں ترقی کے امکانات اس سہ فریقی تعلقات کو عظیم تر یوریشیا کی جغرافیائی سیاست میں ایک متحرک قوت کے طور پر رکھتے ہیں۔ جیسا کہ یہ قومیں چیلنجز کا مقابلہ کرتی ہیں اور مواقع تلاش کرتی ہیں، ان کا اتحاد علاقائی استحکام اور ترقی کے لیے سنگ بنیاد ہے۔
Comments are closed.