برطانوی ڈپٹی ہائی کمشنر کی وفد کے ہمراہ جاتی امرا آمد،نواز شریف سے ملاقات

لاہور ( آن لائن ) سابق وزیراعظم نواز شریف نے چار سال کے بعد وطن واپسی اختیار کی۔نواز شریف نے پاکستان پہنچتے ہی سیاسی سرگرمیوں کا آغاز کر دیا تھا۔نواز شریف روزانہ کی بنیاد پر سیاسی رہنماوٴں سے ملاقاتیں کر رہے ہیں۔سیاسی رہنماوٴں سے اہم ملاقاتوں میں آئندہ کے انتخابات کے حوالے سے حکمت عملی پر تبادلہ خیال کیا جاتا ہے۔ برطانوی ڈپٹی ہائی کمشنر کی اپنے وفد کے ہمراہ جاتی امرا رائیونڈ آمد ہوئی۔ الیسن بلیک برن کی جاتی امرا میں مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف سے ملاقات ہوئی۔اس ملاقات میں چیف آرگنائزر مریم نواز بھی موجود تھیں۔ ملاقات میں دونوں ممالک کے تعلقات، باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔قبل ازیں نواز شریف نے لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے عہدیداروں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم پاکستان کی معاشی مشکلات کو سمجھتے ہیں، عوام کو مہنگائی،

غربت سے نجات دلانا ہماری ذمہ داری اور فرض ہے، تاجر برادری سے ہمیشہ مشاورت کی ہے، مشاورت سے ہی آگے بڑھیں گے، ہماری بنائی پالیسیوں سے پاکستان کی کاروباری برادری نے بھرپور عمل کیا۔انہو ں نے کہا کہ 1990ء کے بعد سے ہم نے کاروبار کو روایتی دائروں سے آزادی دلائی، دیگر ممالک بھی ان مراحل سے گزرے ہیں، ہم نے پالیسیاں بنائیں تو خزانہ بھرنا شروع ہوگیا، ہماری بنائی پالیسیوں کو بھارت نے اپنایا اور معاشی ترقی حاصل کی۔انہوں نے کہا کہ انڈسٹری میں آنے والے پیسے کے بارے میں نہ پوچھنے کی پالیسی ہونی چاہیے، 1990ء کے دور کی ہماری پالیسیاں اور ترقی کی رفتار جاری رہتی تو آج پاکستان ترقی کی رفتار میں کہیں آگے ہوتا۔اگر لوگ ترقی مانگتے ہیں، تعلیم اور صحت مانگتے ہیں تو یہ ان کا حق ہے اور یہ سہولیات فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔نواز شریف نے کہا کہ 2013سے 2017کے دوران پاکستان دنیا کی چوبیسویں معیشت بن چکا تھا، ہم نے چار سال ڈالر کو 104پر باندھ کر رکھا، ہمارے دور کی ترقی اور پالیسی جاری رہتی تو ڈالر آج چالیس یا پچاس روپے کا ہوتا۔1998میں ایٹمی دھماکے کئے تھے تو اسلامی ممالک پاکستان کو اپنا رکھوالا سمجھنے لگے تھے، آج یہ حالت ہو گئی کہ ایک ایک ارب ڈالر کے لئے محتاج ہو گئے ہیں، یہ کلہاڑی ہم نے خود اپنے پیروں پر ماری ہے، یہ برے حالات ہمارے اپنے فیصلوں کی وجہ سے پیدا ہوئے۔

Comments are closed.