نواز شریف ، شہباز شریف ، مریم نواز ، اسحاق ڈار کا تاریخی دورہ لاہور چیمبر

لاہور (آن لائن) سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف نے لاہور چیمبر کے تاریخی دورہ کے موقع پرکہا ہے کہ تاجر معیشت کے اہم سٹیک ہولڈرز ہیں۔ تمام پالیسیاں ان کی مشاورت سے بننی چاہئیں۔ سابق وزیراعظم محمد شہباز شریف ، سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار، مریم نواز،سابق وزراء احسن اقبال، خرم دستگیرمریم اورنگزیب بھی ان کے ہمراہ تھے جبکہ لاہور چیمبر کے سابق صدو ر اور ایگزیکٹو کمیٹی ممبران بھی اجلاس میں موجود تھے۔ لاہور چیمبر کے صدر کاشف انور نے خطبہ استقبالیہ پیش کیا اور معیشت کو درپیش چیلنجز اور ان کے حل پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ نواز شریف نے کہا کہ چیمبرمیں پہلے سے کئی گنا بہتری دیکھ کر اچھا لگا۔ معیشت ، انڈسٹری، سیاسی و معاشرتی حالات جاندار ہونگے تو چیمبر اور تاجر برادری بھی جاندار ہونگے۔ لاہور چیمبر تاجروں کے مسائل حل کروانے کے لیے گرانقدر کردار ادا کررہا ہے۔انہوں نے کہا کہ اگرہم ترقی کرنا چاہتے ہیں تو لاہور چیمبر اور تاجر برادری کی آواز سننا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ مہنگائی میں کاروبار نہیں چل سکتے اور عوام کو بھی مشکلات درپیش ہیں۔ 2013 میں بھی پاکستان کو گرے لسٹ سے نکالا تھا۔اگر اللہ تعالی نے موقع دیا تو ملک کے معاشی حالات بدل دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ 2022 میں حکومت میں آنے پر تیار نہیں تھے لیکن پاکستان کو ڈیفالٹ سے بچانا ضروری تھا جس میں کامیاب رہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے مفاد کے لئے بے خوف ہو کر آگے بڑھنے کا فیصلہ کیا۔ ہم نے ہی نجکاری اور لبرالائزیشن شروع کی تھی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کو پرامن بنایا، ضربِ عضب اور ردالفساد آپریشن کئے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار آئی ایم ایف پروگرام ہم نے مکمل کیا، ہم سی پیک لے کر آئے، تھر کے کوئلے کو نکالنے اور پھر اس سے بجلی بنانے کے منصوبے بنائے۔نواز شریف نے کہا کہ اس وقت ملک اور عوام کو درپیش تمام مسائل پر ہماری نظر ہے۔ لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے موجودہ اور سابق عہدیداروں کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ شہباز شریف اور اسحاق ڈار لاہور چیمبر کے صدور بھی رہ چکے ہیں اور صنعت وتجارت اور معیشت کے مسائل اچھی طرح سمجھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 1990ء میں جب وہ پہلی مرتبہ وزیراعظم بنے تو انہوں نے اکنامک ریفارم آرڈر دیا جس پر کاروباری برادری نے حوصلہ افزا ردعمل دیا۔ یہ اتنا کامیاب رہا کہ ہندوستان نے بھی سرتاج عزیز سے اس کی کاپی مانگی۔ ہم نے 90میں ہی معاشی اصلاحات کا آغاز کردیا تھا۔ لاہور چیمبر کے صدر کاشف انور نے لاہور چیمبر آنے پر نواز شریف کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ شہباز شریف اور اسحاق ڈار لاہور چیمبر کے سابق صدور بھی ہیں۔ شہباز شریف نے بطور وزیرِ اعظمIMFکے ساتھ معاہدے کو فائنل کر کے ملک کو ڈیفالٹ ہونے سے بچایا وہ قابل ستائش ہے۔ ان کی حکومت نے جو بجٹ پیش کیا وہ بہترین تھا لیکن بعد ازاں ان میں سے کچھ فیصلے واپس لینے پڑے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے گزشتہ چند سالوں میں تاریخ کے سخت ترین دن دیکھے ہیں۔ یہ کاروباری برادری کا حوصلہ ہے جو تمام نامساعد حالات کے باوجود ثابت قدم رہے۔ان حالات کی وجہ سے عوام کی مشکلات میں اضافہ ہوااور رہی سہی کسر مہنگائی نے نکال دی۔ بجلی،گیس اور روزمرہ کی ضروریاتِ زندگی کی اشیاء کی قیمتوں میں ہوش رُبا اضافے کی وجہ سے مشکلات کے انبار لگے ہوئے ہیں۔یہ معاملہ انتہائی سنگین صورتحال اختیار کرتا جارہا ہے، جسے ہنگامی بنیادوں پر حل کرنے کی ضرورت ہے۔ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں مسلسل کمی کی وجہ سے ہمیں آج افراط زر، زیادہ پیداواری لاگت، مارک اپ کی زیادہ شرح، یوٹیلٹی کی زیادہ قیمتوں سمیت دیگر مسائل کا سامنا ہے۔

سخت اقدامات کی وجہ سے ڈالر کی قیمت کم ہوئی ہے انٹربینک اور اوپن مارکیٹ میں ڈالر کے ریٹ کے فرق کو بھی ختم کیا گیا ہے ۔روپے کی قدر میں استحکام کی بہت ضرورت ہے اور اس کوڈالر کے مقابلے میں 200 روپے سے نیچے لانا بے حد ضروری ہے۔ کاشف انور نے کہا کہ ٹیکس نیٹ کو بڑھانا ناگزیر ہوچکا ہے۔ہمارے کاروباری حضرات ٹیکس دینا چاہتے ہیں لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ہمارا ٹیکسیشن سسٹم بہت پیچیدہ ہے ۔اس صورتحال میں جب آپ کو آڈٹس ، بینک اٹیچمنٹ، پینلٹیز اور سرچارجز کا خوف ہو تو ٹیکس نیٹ میں کون آئے گا۔ہمیں اپنا ٹیکسیشن سسٹم آسان بنانا ہوگا اور عوام کو ٹیکس نیٹ میں آنے کے فوائد بتانے ہونگے تاکہ ہمارا ٹیکس بیس بڑھ سکے۔ہماری صنعتوں کو بہت سا خام مال، ضروری کمپونینٹ اور مختلف مشینری جوکہ ملک میں نہیں بنتی،ان کو درآمد کرنا پڑتا ہے جس پر ریگولیٹری ڈیوٹی ، کسٹم ڈیوٹی اور ایڈیشنل کسٹم ڈیوٹی وغیرہ اداکرنا ہوتی ہیں،ان کو ختم کئے بغیر ہم اپنی انڈسٹری نہیں چلاسکتے اور نہ ہی اپنی ایکسپورٹس بڑھا سکتے ہیں۔ہم سمجھتے ہیں کہ زیادہ پیداواری لاگت کم کیے بغیر صنعت سازي ممکن نہیں ۔ہماراموجودہ پالیسی ریٹ جو22 فیصد ہے یہ خطے کے دیگر ممالک کی نسبت بہت زیادہ ہے۔ اسے کم کرنے کی ضرورت ہے۔ ایس ایم ایز کو فنانس تک رسائی حاصل نہیں۔ کمرشل بینک انہیں سستے قرضوں کی فراہمی یقینی بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ درآمدات کے متبادل کی طرف توجہ دینا بہت ضروری ہے۔ درآمدات میں کمی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ ویلیوایڈڈ مصنوعات پر توجہ دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ سرمایہ کاری کونسل کا قیام اچھا قدم ہے۔ انہو ں نے کہا کہ ہمیں اسلامی بینکاری کو فروغ دینا چاہیے۔ ڈالر فلائٹ روکنے کے لیے بارڈرز پر سخت اقدامات کیے جائیں۔ ایران،افغانستان اور روس کے ساتھ بارٹر ٹریڈ کے ذریعے تجارت کا فروغ وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ایسے تمام ممالک جن کے پاکستان کے ساتھ باقاعدہ بینکنگ چینلز نہیں ہیں، ہمیں ان کے ساتھ بھی بارٹر ٹریڈ کا سلسلہ شروع کرنا ہوگا ،جس سے ہماری Exportsبے تحاشہ بڑھ سکتی ہیں۔ہمیں سولر انرجی کے نیٹ ورک کو بڑھانا ہوگا ۔ اس کے علاوہ دیگر Alternate Energy کے ذرائع،نئے آبی ذخائر اور ڈیمزخاص طور پر کالا باغ ڈیم بنانے پر خصوصی توجہ دینی ہوگی تاکہ Renewable Energy کا حصہ بڑھایا جاسکے۔کاشف انور نے کہا کہ ماحولیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے ملک کو نقصان ہوا ہے جس پر توجہ دینا ہوگی۔ موٹر ویز کے بڑھتے ہوئے نیٹ ورک کو استعمال کرتے ہوئے ، ہمیں نہ صرف نئے شہر آباد کرنے کی ضرورت ہے بلکہ نئی انڈسٹرئیل اسٹیٹس بھی بنانا بہت ضروری ہوگیا ہے۔ اس سے بڑے اور پرانے شہروں پر دباؤ کم کرنے میں مدد ملے گی۔خسارے میں جانے والے قومی اداروں کی تنظیم نو یا پھر نجکاری کی جائے۔ ملک بھر میں گیس کا ٹیرف یکساں ہونا چاہیے۔ غیرظاہر شدہ اثاثہ جات معاشی دھارے میں لانے کے لیے ڈالر ایمنسٹی سکیم دی جائے۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ معاشی استحکام کے لئے سیاسی استحکام بہت ضروری ہے۔الیکشن کمیشن آف پاکستان نے ملک میں جنرل الیکشن کی تاریخ کا اعلان کر دیاہے جو کہ بہت اچھی بات ہے ،مگر ہم سمجھتے ہیں کہ الیکشن سے قبل تمام سیاسی جماعتوں کو مل بیٹھ کر ایک متفقہ چارٹر آف اکانومی وضع کرنا چاہیے تاکہ Economyکا پہیہ چلتا رہے اور آنے والے سالوں میں معاشی پالیسیوں میں تسلسل کو یقینی بنایا جاسکے ۔ اجلاس میں سینئر نائب صدر ظفر محمود چودھری اور نائب صدر عدنان خالد بٹ بھی موجود تھے۔

Comments are closed.