الیکشن میں ماضی کی طرح جعلی حکومت بنائی گئی تو اسے قبول نہیں کیا جائے گا: سراج الحق

لاہور (آن لائن) امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا ہے کہ 2024 کے انتخابات 2018کی طرح ہوئے توملک کے لیے تباہ کن ہوں گے۔ عوام بیدار ہیں، 76برس کے جبر ، ناانصافیوں سے ان کا پیمانہ صبر لبریز ہوچکا، قوم نے مارشل لاادوار، پیپلز پارٹی، ن لیگ اور پی ٹی آئی کی حکومتیں دیکھ لیں، اب وہ حقیقی تبدیلی چاہتے ہیں،

الیکشن میں ماضی کی طرح جعلی حکومت بنائی گئی تو اسے قبول نہیں کیا جائے گا۔ ادارے حلف کی پاسداری کرتے ہوئے الیکشن میں غیر جانبداررہیں، تمام سیاسی جماعتوں کو مساویانہ مواقع دیے جائیں، الیکشن کمیشن صاف شفاف انتخابات کرا کے عوام میں اپناوقار بحال کرسکتا ہے۔ منصورہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے جماعت اسلامی غزہ میں ظلم کے خلاف اور پاکستانی عوام کے حقوق کے لیے مختلف شہروں میں عوامی اجتماعات کا اعلان کیا جس کے مطابق22نومبر کو پشاور ،23کو اسلام آباد ، 24کو چنیوٹ، 25کو پاکپتن میں مظاہروں اور مارچز کا انعقاد کیاجائے گا۔ امیر جماعت 26اور 27نومبر کوجنوبی پنجاب میں دوروزہ روڑکارواں کی قیادت کریں گے۔ سیکرٹری جنرل امیرالعظیم، سیکرٹری اطلاعات قیصر شریف، نائب امیر کے پی عنایت اللہ خان اور امیر ضلع سکھر حزب اللہ جھکڑو بھی پریس کانفرنس میں امیر جماعت کے ہمراہ تھے۔سراج الحق نے اتوار کو لاہور میں ہونے تاریخی غزہ مارچ میں بھرپور شرکت کرنے پر زندہ دلان لاہور، خواتین، فیمیلز، بچوں اور دیگر مقامات سے آئے ہوئے افراد، طلباوطالبات کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا اور دعا کی کہ اللہ تعالی شرکاء کو مظلوموں کے حق میں آواز بلند کرنے کے صلہ میں دنیا وآخرت میں کامیابی و کامرانی سے نوازے۔ انہوں نے کہا کہ23نومبر کو وفاقی دارالحکومت میں فلسطینی بچوں سے اظہاریکجہتی کے لیے پاکستانی بچوں کا مارچ ہوگا، پشاور میں نوجوانوں کا اجتماع ہے۔

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی نوجوانوں میں مقبول ترین جماعت ہے، سازشوں سے عوام کا راستہ نہیں روکاجاسکتا۔ افغانستان میں فتح، ایران میں انقلاب اور قائداعظم کی قیادت میں پاکستان کا معرض وجود میں آنا، عوامی جذبوں اور حمایت کا آئینہ دار ہے۔ انہوں نے کہا بدقسمتی سے ملک وہ مقصد حاصل نہیں کرسکا جس کی خاطر آزادی حاصل کی گئی، ظالم جاگیردارانہ نظام برقرار ہے ، کرپشن، مہنگائی، بے روزگاری حکمرانوں کی غلط پالیسیوں کے نتائج ہیں۔آئی ایم ایف کی غلامی اختیار کرکے عوام کا خون نچوڑا جارہا ہے، نگران حکومت بھی غریبوں کا استحصال کررہی ہے، بجلی بلوں میں پندرہ اقسام کے ٹیکسز،گیس کی قیمتوں میں گیارہ سو فیصد اضافہ، اشیائے خورونوش، پٹرولیم مصنوعات کی آسمان سے باتیں کرتی قیمتیں، ادویات کے نرخوں میں پانچ سو فیصد اضافہ نے عوام کے لیے زندہ رہنا مشکل بنادیا، حکمران غلام ابن غلام ہیں، نگرانوں کے پاس عوامی مینڈیٹ نہیں کہ پالیسی معاملات پر اوربجلی وگیس کی قیمتوں کے فیصلے کریں، ایک نگران وزیر اور سیکرٹری بیٹھ کرکلیدی معاملات پر احکامات لاگو نہیں کرسکتے، فیصلوں کو مسترد کرتے ہیں، عوامی حقوق کی جنگ جاری ہے،

انتخابات میں ہر حلقہ سے امیدوار دیں گے، سراج الحق نے کہا کہ آج دنیا بھر میں بچوں کا عالمی دن منایا جارہا ہے تاہم اس دوران صیہونی افواج کی جانب سے غزہ میں بچوں کا قتل عام جاری ہے۔ عالمی برادری، اسلامی ممالک کے حکمران، اقوام متحدہ، اوآئی سی خاموش ہوکر اسرائیل کی جنونیت دیکھ رہے ہیں ، غزہ میں اب تک ساڑھے چار ہزار بچے شہید ہوگئے، ہزاروں ملبے تک دفن ہیں، حاملہ خواتین کو قتل کیا گیا ، روز قیامت ان بچوں کے ہاتھ ظالموں اور ظلم پر خاموش رہنے والوں کے گریبانوں میں ہوں گے ۔ انہوں نے کہا پاکستان میں بھی پونے تین کروڑ بچے سکولوں سے باہر ہیں ، انہیں خوراک کی شدید کمی کا سامنا ہے، علاج اور صاف پانی دستیاب نہیں ، والدین غربت کی وجہ سے مجبور اور لاچار ہیں ، حکمران طبقات سالہا سال سے ملکی وسائل پر قابض ہیں، ان کے شہزادے اور شہزادیاں بیرون ملک اعلی تعلیم حاصل کررہے ہیں ،آئندہ اقتدار پر مسلط ہونے کی تیاری میں ہیں، غریب اور اس کے بچے کامسلسل استحصال ہورہا ہے، وقت آگیا ہے کہ ملک کو ووٹ کی طاقت سے فرسودہ نظام اور اس کے چوکیداروں سے نجات دلائی جائے

Comments are closed.