چیف جسٹس قاضی فائزعیسٰی کی سربراہی میں چار رکنی لارجر بینچ(منگل) پرویز مشرف کے مقدمات کی سماعت کریگا

اسلام آباد(آن لائن )چیف جسٹس قاضی فائزعیسٰی کی سربراہی میں چار رکنی لارجر بینچ (منگل)کے روز پرویز مشرف کے مقدمات کی سماعت کرے گا،دوسری جانب پرویزمشرف مرحوم کے وکیل اخترشاہ نے بھی مقدمے میں فریق بننے کے لیے درخواست سپریم کورٹ میں دائرکردی ہے جس میں انھوں نے موقف اختیارکیاہے کہ پرویزمشرف عوام کے دلوں میں بستے ہیں انھوں نے ہمیشہ پاکستان کے لیے سوچااور اسی کے لیے کوشش کرتے رہے مشرف پاکستان واپس آناچاہتے تھے اس لیے ان کے خلاف کوئی بھی حکم خلاف ضابطہ ہوگا۔پرویزمشرف کوانصاف دیاجائے۔واضح رہے کہ سپریم کورٹ کے تحریری حکم نامے کے مطابق اپیل ہر مجرم کا حق ہے، 3 سال 8 ماہ گزرنے کے بعد اپیل کا سماعت کے لیے مقرر ہونا بدقسمتی ہے، عدالت کے بروقت اقدام نہ کرنے کا نقصان کسی بھی سائل کو نہیں ہونا چاہیئے۔اپنے حکم نامے میں سپریم کورٹ نے کہا کہ چیمبر احکامات کے باوجود اعتراضات کے خلاف اپیل مقرر نہ ہوئی اور درخواست گزار کا انتقال ہوگیا،

عدالت میں موجود کسی ایڈیشنل اٹارنی جنرل اورسینئر وکلاء نے اپیل مقرر کرنے پر اعتراض نہیں کیا، رجسٹرار اعتراضات کے خلاف پرویزمشرف کی اپیل منظور کی جاتی ہے۔تحریری حکم نامے میں مزید کہا گیا کہ پرویزمشرف کے وکیل سلمان صفدر کے مطابق وہ ان کی بیوہ اور بچوں سے رابطے میں ہیں، وکیل کے بقول وہ سابق صدر کے اہلخانہ سے اپیل مقرر ہونے پر ہدایات لیں گے، پرویز مشرف کی سزائے موت کے خلاف اپیل پر سماعت21 نومبر کو ہوگی۔سپریم کورٹ نے مشرف کی اپیل کو سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے اپنے حکم نامے میں کہا تھا کہ پرویز مشرف کے وکیل کے مطابق اپیل پر رجسٹرار نے اعتراض عائد کیا جس کے خلاف اپیل سابق چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے چیمبر میں ہوئی، چیمبر سے جج نے کیس لارجر بینچ میں لگانے کا کہا تاہم اس کے بعد کیس مقرر نہیں ہوا اور پرویز مشرف کی وفات ہو گئی۔حکمنامے میں کہا گیا ہے کہ صدر پرویز مشرف کے وکیل نے آئین میں بھی اپیل کا حق دینے کا حوالہ دیا، کیس میں تمام فریقین سے پوچھا گیا کہ مشرف کی اپیل کو مقرر کرنے پر کسی کو اعتراض تو نہیں، ایڈیشنل اٹارنی جنرل سمیت کسی فریق نے اعتراض نہیں اٹھایا، افسوس ناک ہے کہ چیمبر میں جج کے حکم کے باوجود اپیل آج تک مقرر نہیں ہوئی۔

عدالتی حکمنامے کے مطابق اپیل کنندہ یا اس کے وکیل کو اپیل مقرر نہ ہونے پر ذمہ دار نہیں کہا جا سکتا، کسی کو بھی عدالت کے کنڈکٹ کا خمیازہ نہیں بھگتا چاہیے، اپیل کسی کی بھی سزا یافتہ شخص کا حق ہے، مشرف کی اپیل کو سماعت کے لیے مقرر کرنے کی متفرق درخواستیں منظور کی جاتی ہیں۔پرویز مشرف کے وکیل سلمان صفدر نے موٴقف اختیار کیا کہ لاہور ہائی کورٹ میں کیس اظہر صدیق اور خواجہ طارق رحیم نے چلایا تھا، ذاتی وجوہات پر اس فیصلے سے متعلق معاونت نہیں کروں گا، تاہم انہوں نے سزا کیخلاف اپیل کے حوالے سے پرویز مشرف کے لواحقین سے تازہ ہدایت لینے کے لیے 4 ہفتوں کی مہلت طلب کی۔جس پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کا کہنا تھا کہ آپ نے ایک ہی ہدایت لینی ہے کہ اس اپیل کی پیروی کرنی ہے کہ نہیں، چیف جسٹس نے پرویز مشرف کی سزا کے خلاف اپیل کی ڈرافٹنگ پر ان کے وکیل سلمان صفدر کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپیل پڑھی ہے یہ ایک اچھی دستاویز ہے۔

Comments are closed.