کسی صورت بھی ملٹری کورٹس کا قیام قبول نہیں کریں گے :حامد خان

لاہور (آن لائن) معروف قانون دان حامد خان کا کہنا ہے کہ ہم کسی صورت بھی ملٹری کورٹس کا قیام قبول نہیں کریں گے اگر یہ درخواستیں اپیل میں جاتی ہیں تو بار کونسلز اس میں اہل کردار ادا کریں گی، لاہور ہائیکورٹ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے، حامد خان کا کہنا تھا کہ جو لوگ بھی ملٹری کے تحویل میں ہیں، انہیں رہا کیا جانا چاہیے،اگر ملٹری کورٹس کے حق میں کوئی فیصلہ آتا ہے تو وکلا برادری اس کو قبول نہیں کرے گی ،انہوں نے کہا کہ اگر نگران حکومتیں ہمارے مطالبات پر عمل نہیں کرتیں تو ہم ہر طرح سے مخالفت کریں گے اسوقت ملک میں آئین کی پامالی ہو رہی ہے، حامد خان نے کہا کہ ملٹری کورٹس کو سپریم کورٹ بار کو چیلینج کیا تھاسپریم کورٹ نے بہت اچھا فیصلہ کیا تھا ملٹری کورٹس میں سویلینز کے ٹرائل کے خلاف ہیں،

مرکزی نگران حکومت، کے پی حکومت اور بلوچستان نگران حکومت نے سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی ہیں، انہوں نے کہا کہ نگران حکومتوں کا یہ مینڈیٹ نہیں ہے، یہ غیر آئینی حکومتیں ہیں سپریم کورٹ نے جو فیصلہ دیا، تمام وکلا برادری اس کے حق میں ہے، لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر اشتیاق اے خان نے کہا کہ جن ججز نے یہ فیصلہ دیا ہے ہم ان کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں وکیل کبھی ملٹری کورٹس کو قبول نہیں کر سکتے انہوں نے کہا کہ ملٹری کورٹس میں حقوق سلب کر لیے جاتے ہیں،ملک میں رائج قوانین کے تحت سزا دی جانی چاہیے ملٹری کورٹس مارشل لا کے تحت بنے ہیں،یہ نگران حکومتیں ان درخواستوں کے ذریعے سپریم کورٹ کے ذریعے کوئی فیصلہ چاہتے ہیں، اشتیاق اے خان نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ ایسے کسی فیصلے سے اجتناب کرے جو جسٹس منیر کی یاد دلائے،جیسے نگران وزیر اعلی سندھ نے ایسی کسی درخواست کی مخالف کی، باقی سب کو بھی ایسا ہی کرنا چاہیے، نائب صدر لاہور ہائیکورٹ بار ربیعہ باجوہ کا کہنا تھا کہ ہم نے ہمیشہ ملٹری کورٹس نے مخالفت کی، سینٹ نے ملٹری کورٹس کے حوالے سے قرارداد منظور کروائی گئی،18 ویں ترمیم کے بعد کسی غیر آئینی حکم کو نہیں مانا جا سکتاعدالتیں کوئی ایسا فیصلہ نہ دیں جو آئین کے خلاف ہو۔

Comments are closed.