اسلام آباد ہائیکورٹ: چیئرمین پی ٹی آئی کی سائفر کیس میں ٹرائل کورٹ کی کارروائی روکنے کے حکم میں 24گھنٹوں کیلئے توسیع
اسلام آباد(آن لائن )اسلام آباد ہائیکورٹ نے چیئرمین پی ٹی آئی کی سائفر کیس میں ٹرائل کورٹ کی کارروائی روکنے کے حکم میں 24گھنٹوں تک کے لیے توسیع کرد ی ہے سماعت آج منگل کو 11بجے دوبارہ سے کی جائیگی ، عدالت نے چیئرمین پی ٹی آئی کو لاحق سکیورٹی خدشات سے متعلق رپورٹ طلب کرلی۔اسلام آباد ہائیکورٹ میں سائفر کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی کی جیل ٹرائل اور جج تعیناتی کیخلاف انٹراکورٹ اپیل پر اٹارنی جنرل نے دلائل دیتے ہوئے کہاکہ ٹرائل کورٹ کے سامنے سکیورٹی خدشات سے متعلق کوئی مواد نہیں رکھا گیا،اپیل قابل سماعت ہونے کا فیصلہ کرتے ہوئے 29اگست کا نوٹیفکیشن الگ سے پرکھا جائے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ میں سائفر کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی کی جیل ٹرائل اور جج تعیناتی کیخلاف انٹراکورٹ اپیل پر سماعت ہوئی،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب اور جسٹس ثمن رفعت پر مشتمل 2رکنی بنچ نے سماعت کی۔اٹارنی جنرل نے دلائل دیتے ہوئے کہاکہ 29اکتوبر سے پہلے پری ٹرائل پروسیڈنگز چل رہی تھیں،29اکتوبر کے نوٹیفکیشن سے ملزم کے کوئی حقوق متاثر نہیں ہوئے،ٹرائل کورٹ کے جج نے 16اگست کے حکمنامے میں بھی سکیورٹی خدشات کاذکر کیا،جج نے نوٹیفکیشن پر انحصار کیا کیونکہ سکیورٹی خدشات ان کے علم میں تھے،29اکتوبر کا نوٹیفکیشن ایڈمنسٹریٹو ایکشن تھا،جسٹس میاں گل حسن نے استفسار کیا کہ راجہ صاحب!اب آپ کسی اور حوالے پر انحصار کرنا چاہیں گے؟سلمان اکرم راجہ نے کہاکہ اٹارنی جنرل صاحب! نے جو کہا ہمارا بھی یہی موقف ہے،اٹارنی جنرل نے کہا کہ ٹرائل کورٹ کے سامنے سکیورٹی خدشات سے متعلق کوئی مواد نہیں رکھا گیا،اپیل قابل سماعت ہونے کا فیصلہ کرتے ہوئے 29اگست کا نوٹیفکیشن الگ سے پرکھا جائے۔چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے جواب الجواب کاآغاز کردیا،سلمان اکرم راجہ نے کہاکہ سائفر کیس کی سماعت کیلئے جج کی تعیناتی کا جو طریقہ کار اپنایا گیا وہ درست نہیں،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہاکہ اس سوال کو ابھی ہم کھلاچھوڑ دیتے ہیں،عدالت نے کہاکہ اٹارنی جنرل کی موجودگی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ان سے اس بارے میں مزید جاننا چاہیں گے،سلمان اکرم راجہ نے کہاکہ نیشنل جوڈیشل پالیسی میکنگ کمیٹی کے حوالے سیدستاویزات ساتھ لایا ہوں،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہاکہ آئین میں اختیارات کی تقسیم واضح ہے۔سلمان اکرم راجہ نے کہاکہ 16اگست کو چیئرمین پی ٹی آئی کا ریمانڈ دیا گیا،نوٹیفکیشن کے مطابق جج کی طرف سے جیل ٹرائل کیلئے کوئی ریکوئسٹ نہیں تھی،وزارت داخلہ کی طرف سے سکیورٹی خدشات کاایک مراسلہ جاری ہوتا ہے،اس تمام صورتحال میں چیئرمین پی ٹی آئی کا نام میڈیا پر نشر کرنے پر بھی پابندی لگادی گئی،29اگست کا نوٹیفکیشن بھی اسی حکمت عملی کا حصہ تھا،اس حکمت عملی کا مقصد چیئرمین پی ٹی آئی کو عوام سے دور رکھناتھا۔جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ نوٹیفکیشن میں چیئرمین پی ٹی آئی کی جان کو لاحق خطرات کا بھی ذکر نہیں،وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہاکہ نوٹیفکیشن میں جنرل سکیورٹی خدشات سے متعلق لکھا گیا ہے،چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل کے اپیل کے قابل سماعت ہونے پر دلائل مکمل کرلئے گئے۔اسلام آباد ہائیکورٹ نے چیئرمین پی ٹی آئی کی سائفر کیس میں ٹرائل کورٹ کی کارروائی روکنے کے حکم میں 24گھنٹوں تک کے لیے توسیع کرد ی ہے سماعت آج منگل کو 11بجے دوبارہ سے کی جائیگی ، عدالت نے چیئرمین پی ٹی آئی کو لاحق سکیورٹی خدشات سے متعلق رپورٹ طلب کرلی۔
Comments are closed.