کار سرکار میں مداخلت، شیخ رشید کے خلاف کیس کی سماعت 24 فروری تک ملتوی
راولپنڈی (آن لائن)سول جج جوڈیشل مجسٹریٹ محمد ذیشان نے عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد کے خلاف کار سرکار میں مداخلت، پولیس مزاحمت، پولیس کو دھمکیاں دینے اور یونیفارم پھاڑنے کے مقدمہ میں چالان جمع ہونے کے بعد سماعت 24 فروری تک ملتوی کردی ہے اور شیخ رشید کے وکلا کو ہدایت کی ہے کہ وہ آئندہ تاریخ پر دلائل کا آغاز کریں گزشتہ روز شیخ رشید اپنے وکیل سردار شہباز خان اور راجہ ماجد نور کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے اس موقع پر مری پولیس نے مقدمہ کا چالان عدالت میں جمع کرا دیا عدالت نے شیخ رشید کو حاضری لگا کر جانے کی اجازت دے دی اور شیخ رشید کے وکلا کو اگلی سماعت پر دلائل پیش کرنے کی ہدایت کر دی ۔یاد رہے کہ تھانہ مری پولیس نے رواں سال 2 فروری کو تھانہ آبپارہ کے انسپکٹر عاشق علی منور کی مدعیت میں تعزیرات پاکستان کی دفعات 353 ،186اور 506-ii کے تحت مقدمہ نمبر 47 درج کیا تھا جس میں الزام تھا کہ مدعی ایس ایچ او آبپارہ اور پولیس نفری کے ہمراہ تھانہ آبپارہ میں درج مقدمہ نمبر 94 میں نامزد شیخ رشید کی گرفتاری کے تریٹ چوکی کے علاقے میں واقع نجی ہاوٴسنگ سوسائٹی پہنچا جہاں پر شیخ رشید نے اپنے 2 مسلح ملازمین کے ہمراہ پولیس کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دیں اور مزاحمت کرتے ہوئے کانسٹیبل ظہور کی سرکاری جرسی کا شولڈر اور یونیفارم کی شرٹ پھاڑ دی اور پولیس کے خلاف انتہائی بے ہودہ الفاظ استعمال کئے تاہم پولیس نے بمشکل شیخ رشید کو قابو کر کے 223.5056 ایم ایم رائفل جبکہ ان کے دونوں ملازمین سے 7.62 ایم ایم کلاشنکوفیں، 4 میگزین اور 90 روند برآمد کئے۔
Comments are closed.