سپریم کورٹ :سابق صدر پرویز مشرف کی سزاکے خلاف اپیلوں کی سماعت 28نومبرتک ملتوی
اسلام آباد(آن لائن )سپریم کورٹ نے سابق صدر پرویز مشرف کی سزاکے خلاف اپیلوں کی سماعت 28نومبرتک کے لیے ملتوی کردی ہے ۔ خصوصی عدالت کے فیصلے سے متعلق چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیے ہیں کہ لاہور ہائیکورٹ نے درخواست گزارکی جانب سے خصوصی عدالت کی تشکیل کالعدم قراردینے کی استدعانہ کیے جانے کے باوجودبھی درخواست میں کی گئی استدعا سے بڑھ کر ریلیف دیا،درخواست گزار نے خصوصی عدالت کی تشکیل کالعدم قرا ردینے کی استدعا ہی نہیں کی تھی ،کیا لاہور ہائیکورٹ کو آرٹیکل 187کے تحت مکمل انصاف کا اختیار ہے؟مکمل انصاف کااختیار صرف سپریم کورٹ کو آئین نے دیا ہے۔ بدھ کوسپریم کورٹ میں سابق صدر پرویز مشرف سے متعلق خصوصی عدالت کے فیصلے سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 4رکنی لارجر بنچ نے سماعت کی،درخواست گزار توفیق آصف کے وکیل حامد خان نے کہاکہ سپریم کورٹ نے خصوصی عدالت کو کارروائی آگے بڑھانے کا حکم دیا تھا،سپریم کورٹ نے کہاکہ پرویز مشرف سرنڈر نہ کرے تو بھی کارروائی چلائی جا سکتی ہے،سپریم کورٹ کا فیصلہ لاہور ہائیکورٹ کے نوٹس میں بھی لایا گیا تھا،لاہور ہائیکورٹ میں مشرف کی درخواست اٹارنی نذیر احمد نے دائر کی
،اٹارنی کی درخواست کیساتھ بیان حلفی پرویز مشرف کا ہی لگایا گیا تھا،جسٹس فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کیا پرویز مشرف نے بیان حلفی پاکستان میں ہوتے ہوئے دیا تھا؟وکیل حامد خان نے کہاکہ تاثر ملتا ہے کہ مشرف اوتھ کمشنر کے سامنے لاہور میں پیش ہوئے تھے،درحقیقت پرویز مشرف بیان حلفی کے وقت ملک میں ہی نہیں تھے،جسٹس امین الدین خان نے کہاکہ ریکارڈ کے مطابق اوتھ کمشنر میاں خالد محمود جوئیہ تھے۔وکیل سلمان صفدر نے کہاکہ پرویز مشرف 18مارچ 2016کو بیرون ملک گئے تھے،جس اٹارنی کا ذکر ہو رہا ہے وہ نذیر احمد انتقال کر چکے ہیں،جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ کیا پرویز مشرف عدالت کی اجازت سے بیرون ملک گئے تھے؟وکیل سلمان صفدر نے کہاکہ سندھ ہائیکورٹ نے مشرف کو علاج کیلئے جانے کی اجازت دی۔چیف جسٹس پاکستان نے کہاکہ لاہور ہائیکورٹ نے درخواست میں کی گئی استدعا سیبڑھ کر ریلیف دیا،درخواست گزار نے خصوصی عدالت کی تشکیل کالعدم قرا ردینے کی استدعا ہی نہیں کی،کیا لاہور ہائیکورٹ کو آرٹیکل 187کے تحت مکمل انصاف کا اختیار ہے؟مکمل انصاف کااختیار صرف سپریم کورٹ کو آئین نے دیا ہے،خصوصی عدالت پنجاب میں تھی نہ ہی ملزم وہاں کا رہائشی تھا، فیصلہ آئین کے خلاف ہو تو بھی متعلقہ عدالت سے ہی رجوع کرنا لازم ہے،حیران کن ہے کہ لاہور ہائیکورٹ نے دائرہ اختیار کیسے تسلیم کرلیا؟خصوصی عدالت ہائیکورٹ کے 3ججز پر مشتمل تھی،خصوصی عدالت کے ایک جج کا تعلق لاہور ہائیکورٹ سے ہی تھا،لاہور ہائیکورٹ نے دراصل مختلف ہائیکورٹ ججز کیخلاف رٹ جاری کی،جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ کیا وفاقی حکومت نے عدالتی دائرہ اختیار پر اعتراض کیاتھا؟وکیل حامد خان نے کہاکہ اس وقت تو حکومت اور سب لوگ ایک پیج پر تھے،پرویز مشرف کیس کی سماعت 28نومبر دن ساڑھے 11بجے تک ملتوی کردی گئی۔
Comments are closed.