انٹرا پارٹی انتخابات کوکالعدم قراردینے کی درخواست پر پی ٹی آئی کو نوٹس جاری،درخواستیں قابل سماعت قرار

اسلام آباد(آن لائن) الیکشن کمیشن نے پی ٹی انٹرا پارٹی انتخابات کے حوالے سے دائر درخواستوں کو قابل سماعت قرار دیتے ہوئے 12دسمبر کو سماعت مقرر کردی ،انٹرا پارٹی انتخابات کو کالعدم قرار دینے کے حوالے سے 14درخواستیں الیکشن کمیشن کو موصول ہوئی تھی

،اکبر ایس بابر سمیت دیگر سابقہ عہدیداروں اور کارکنوں نے انٹرا پارٹی انتخابات کو ڈھونگ قرار دیتے ہوئے شفاف انتخابات کا مطالبہ کیا ہے۔جمعہ کے روز چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی سربراہی میں 5رکنی بنچ نے پی ٹی آئی انٹرا پارٹی انتخابات کے حوالے سے دائر درخواستوں کی سماعت کی اس موقع پر درخواست گزار اکبر ایس بابر کے وکیل کی جانب سے کمیشن کو بتایا گیا کہ پی ٹی آئی انٹرا پارٹی انتخابات سے پہلے کوئی شیڈول نہیں دیا گیا جبکہ ووٹرز لسٹیں بھی جاری نہیں کی گئیں اسی طرح انتخابات سے متعلق پی ٹی آئی مرکزی سیکرٹریٹ میں کوئی سرگرمی نہیں ہوئی ہے انہوں نے کہاکہ پی ٹی آئی انٹرا پارٹی انتخابات قانون و پارٹی آئین کے مطابق نہیں کرائے گئے لہذا انٹراپارٹی انتخابات کو کالعدم قرار دیا جائے۔

اکبر ایس بابر کے وکیل نے کہا کہ آئین اور قانون بڑا واضح ہے اس لیے میں یہاں پیش ہوا الیکشن کمیشن نے پارٹی آئین کے تحت انتخابات کا حکم دیا تھا انٹرا پارٹی انتخابات کیلئے ووٹرلسٹ نہیں بنی، نامزدگی کا طریقہ کار بھی نہیں تھا اس موقع پر ممبر کے پی سے استفسار کیا کہ کیا پارٹی کے آئین میں انتخابات کرانے کے طریقہ کار کا زکر ہے جس پر وکیل نے کہاکہ پارٹی آئین میں الیکشن پروگرام کا ذکر نہیں ہے انہوں نے کہاکہ پارٹی الیکشن کمشنر نے ڈیٹا بیس اپنے پاس رکھا ہوا ہے اور الیکشن ایکٹ کے تحت الیکشن کمیشن کے پاس اختیار ہے کہ ایسے انتخابات کروانے والے کو ہٹا کر خود ہی منصفانہ اور شفاف انتخابات کرانے کا انتظام کرے اس موقع پرممبر الیکشن کمیشن نے پوچھا کیا آئین میں ووٹر لسٹ مانگنا یا ان سب کا طریقہ کار ہے؟ جس پر وکیل اکبر ایس بابر نے بتایا کہ آئین میں ایسی کوئی گنجائش نہیں لیکن طریقہ کار یہی ہوتا ہے۔ممبر کمیشن کا کہنا تھا آئین میں لکھا ہے سب ممبر الیکشن کیلئے اہل ہیں تو آپ نے وہاں کیوں نہیں کہا وکیل اکبر ایس بابر نے بتایا ہم نے انٹرا پارٹی انتخابات کیلئے درخواست فارم مانگا لیکن مہیا نہیں کیا گیا۔

اس موقع پر درخواست راجہ طاہر نواز عباسی کے وکیل نے کہاکہ پشاورکے پاس نامعلوم جگہ پر انتخابات کروائے گئے اور علی آمین گنڈا پور جو کہ مفرور ہیں اور یاسمین راشد جوکہ جیل میں ہے ان کو بھی منتخب کیا گیا انہوں نے کہاکہ جو رہنما جیل میں ہیں انہوں نے کیسے درخواست دی یا ان سے دستخط لیا گیا؟ جس پر ممبر کمیشن نے پوچھا جیل سے درخواست پر دستخط لینے کا کوئی تو طریقہ کار ہو گا جس پروکیل راجہ طاہر عباسی کا کہنا تھا جیل میں موجود افراد جیل حکام کو انتخابات میں شامل کرنے کا بھی طریقہ کار موجود ہے اس موقع پر کوئٹہ سے پارٹی کی خاتون ممبر نے کہاکہ آج الیکشن کمیشن میں پیش ہو رہی ہوں میں بھی الیکشن میں حصہ لینا چاہتی تھیں انہوں نے مزید کہا آئین میں لکھا ہے کہ ہر شخص کو الیکشن میں حصہ لینے کا موقع ملنا چاہیے، پورے پراسس کیلئے جعلی طریقہ اختیار کیا گیا، اس الیکشن کو کالعدم قرار دیا جائے۔اس موقع پر درخواست اکبر ایس بابر نے ویڈیو ثبوت الیکشن کمیشن کو پیش کرتے ہوئے کہاکہ ماضی میں ہزاروں لوگوں نے نامزدگی فارمز جمع کروائے تھے

، جسٹس وجیہہ الدین نے الیکشن میں غلطیوں کی نشاندہی کی تھی اس کے بعد لوگوں کو قصوروار ٹھہرا کر پارٹی سے نکالا گیا اس کے بعد کے انتخابات آپ کے سامنے ہیں کہ آگے کچھ نہیں ہو سکا اکبر ایس بابر نے الیکشن کمیشن بینچ کو ویڈیو کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا ہم پی ٹی آئی سیکرٹریٹ گئے، کاغذات نامزدگی اور ووٹر لسٹیں مانگی لیکن کہا گیا سابق پارٹی رہنما کو برقرار رکھا ہے اکبر ایس بابر کا کہنا تھا ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے قبول ہے قبول ہے کہہ کر انٹرا پارٹی انتخابات کو مکمل کہہ دیا گیا اس موقع پرممبر الیکشن کمیشن نے پوچھا آپ نے ویڈیو کیوں بنائیں اور یہ دوسری پشاور کی ویڈیو کس نے بنائی؟ جس پر اکبر ایس بابر نے بتایا ہم نے اس لیے سیکرٹریٹ میں ویڈیو بنائی کیونکہ ہم ثبوت رکھنا چاہتے تھے، پشاور کی ویڈیو میڈیا کی ہے جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کیسے قبول ہے کہہ کر الیکشن کروا دیا گیا اس موقع پر وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ انتخابات کو کالعدم قرار دیکر دوبارہ انٹرا پارٹی انتخابات کرائے جائیں جس پر ممبر کمیشن نے کہاکہ دوبارہ انتخابات کو تو بھول جائیں، ہم نے شفاف انتخابات کا کہا تھاالیکشن کمیشن کے ممبر نے دوبارہ سوال پوچھا کہ ویڈیو بنانے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟

جس پر اکبر ایس بابر نے کہا پی ٹی آئی ویب سائٹ پر ڈیٹا نہ ملا اس لیے بطور ثبوت سینٹرل سیکرٹریٹ کی ویڈیو بنائی، کمیشن چاہے تو ویڈیو کی فارنزک کروا لے، اس سے قبل بھی ویڈیو ثبوتوں پر فیصلے ہوئے ہیں ممبر الیکشن کمیشن نے کہا یہی انٹرا پارٹی الیکشن ہیں تو ٹھیک ہے ورنہ اس کے نتائج خوفناک ہوں گے، آپ دوبارہ انتخابات کو تو بھول جائیں، ہم نے شفاف انتخابات کا کہا تھا اس موقع پردرخواست گزار محمود خان الیکشن کمیشن کے سامنے پیش ہوئے اور کہا میں پارٹی کا پرانا ممبر اور سابق چیئرمین کا ساتھی رہا ہوں میں نے الیکشن خود لڑنا تھا لیکن کوئی کاغذات نہیں ملے اس موقع پر دیگر درخواست گزاروں نے بھی اپنی معروضات کمیش کے سامنے پیش کیں جس پر الیکشن کمیشن نے درخواستوں کو درست قرار دیتے ہوئے انٹرا پارٹی الیکشن پر پاکستان تحریک انصاف کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت 12 دسمبر تک ملتوی کر دی۔۔۔۔۔۔اعجاز خان

Comments are closed.