افغان باشندے پاکستان کی سیاسی سرگرمیوں میں حصہ نہیں لے سکتے ، سرفراز بگٹی

اسلام آباد( آن لائن ) نگران وزیر داخلہ سینیٹر سرفراز بگٹی # نے کہا ہے افغان باشندے پاکستان کی سیاسی سرگرمیوں میں حصہ نہیں لے سکتے اگر کوئی باشندہ سیاسی سرگرمی میں ملوث پایا گیا تو اس کے خلاف قانونی کارروائی ہو گی ، الیکشن کمیشن کو جتنی پیرا ملٹری فورس درکار ہو گی فراہم کریں گے ،الیکشن مہم کے دوران سیاسی قیادت کو عمومی جبکہ مولانا فضل الرحمان کو خصوصی خطرے کی اطلاع ہے۔

جمعہ کے روز یہاں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نگران وزیر داخلہ سرفراز بگٹی نے کہا کہ غیر قانونی مقیم افراد میں سے 4 لاکھ 82 ہزار سے زائد واپس چلے گئے، 90 فیصد غیر قانونی مقیم غیر ملکی ازخود واپس چلے گئے ہیں، کسی کے ساتھ بداخلاقی اور بدتہذیبی نہیں کی گئی۔ایک سوال کے جواب میں سرفراز بگٹی کا کہنا تھا پاکستان میں سیاست کا حق پاکستانیوں کو ہے، رجسٹرڈ غیر ملکی پاکستان کی سیاست میں کوئی کردار ادا نہیں کر سکتے، غیر ملکیوں کے سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینے پر پابندی ہے۔ان کا کہنا تھا سیاسی سرگرمی میں ملوث غیرملکیوں کو ڈی پورٹ کیا جا رہا ہے، 10 کے قریب افراد کی شناخت کی گئی ہے جو سیاسی سرگرمی میں ملوث تھے، غیر ملکی کسی بھی دستاویز پر آیا ہو سیاسی سرگرمی پر بغیر وقت لگائے ڈی پورٹ کیا جائے گا۔

الیکشن مہم کے دوران سیاستدانوں کو سکیورٹی خطرات نگران وزیر داخلہ سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ انتخابی مہم کے دوران ملک میں سیاسی رہنماوٴں پر حملوں کی ایک تاریخ ہے، ماضی میں شوکت عزیز، بینظیر بھٹو اور ثناء اللہ زہری پر الیکشن مہم کے دوران حملے ہو چکے ہیں۔نگران وفاقی وزیر نے کہا کہ انتخابی مہم کے دوران سیاسی قیادت کو عمومی خطرہ ہے لیکن حکومت کو مولانا فضل الرحمان سے متعلق ایک خصوصی سکیورٹی تھریٹ موصول ہوا ہے، سکیورٹی سے متعلق الیکشن کمیشن کی تمام ضروریات پوری کریں گے، الیکشن کمیشن کو جتنی پیرا ملٹری فورس درکار ہو گی فراہم کریں گے۔سرفراز بگٹی کا کہنا تھا ہم جعلی پاسپورٹس کے حامل مزید کیسز نکال رہے ہیں، جعلی شناختی کارڈ و پاسپورٹ بنانے والوں کا احتساب ہوگا، اس معاملے پر افغانستان سے بھی بات چیت جاری ہے، افغان وزیر داخلہ سراج الدین حقانی معاملے پر انکوائری جاری ہے

Comments are closed.