بدقسمتی سے کچھ کرداروں نے ترقی کرتے پاکستان کو ٹھپ کردیا،نواز شریف

لاہور(آن لائن) سابق وزیراعظم اور پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما میاں نواز شریف نے کہا کہ بدقسمتی سے کچھ کرداروں نے ترقی کرتے پاکستان کو ٹھپ کردیا،اچھے بھلے لوگوں سے اختیار لے کرایک اناڑی کے ہاتھوں ملک کی باگ دوڑ کیسے دی گئی؟قوم ادراک کرے معاشی بدنظمی 2019سے شروع ہوئی،2022میں ملکی معیشت کا بھٹہ بیٹھ گیا، 93اور 99میں ہمیں کیوں نکالا گیا ،کیا اس لےئے نکالا گیا کہ ہم نے کہا کارگل لڑائی بند ہونی چاہئے،ہم نے ہردفعہ اچھے کام کےئے ہردفعہ ہمیں نکالا گیا،ملک کو یہاں تک پہنچانے والوں کا احتساب ہونا چاہیے

،پاکستان مسلم لیگ ن کے پارلیمانی بورڈ کے چھٹے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے میاں نوازشریف نے کہا کہ مجھے بڑی خوشی ہے کہ ٓاپ سب لوگ ہماری دعوت پر تشریف لائے اور پارٹی ٹکٹ کے لیے درخواست دی۔ طویل عرصے بعد آپ سب سے ملاقات ہورہی ہے، ہم نظروں سے اوجھل رہے لیکن دل سے قریب رہے، میں آپ کے بارے میں اور ملک کے بارے میں سوچتا رہا۔ کارکن ہمیشہ میرے دل کے قریب رہے ہیں،قوم نے گزشتہ 4سالوں میں بہت مشکل دورردیکھا ہے ، لندن میں بیٹھ کر دوا اور دعا دونوں کرتا رہا، آج بھی دعا ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ اس قوم کو مشکلات سے نکالے۔ ملک کو یہاں تک پہنچانے والوں کا احتساب ہونا چاہیے۔ قوم کو مشکلات سے نکالنے کیلئے اپنا کردار ادا کرتا رہوں گا، اپنے کسی دوست کو نہیں بھولا ہمیشہ یادر کھا ہے ،2017تک جب تک وزیراعظم تھا ملک ترقی کی راہ پر گامزن تھا ، میرے دور میں معاشی اشار ےئے اچھے چل رہے تھے ۔ہمارے دور میں ہر لحاظ سے معاشرہ آگے بڑھ رہا تھا، جب کرنسی غیر مستحکم ہوتی ہے تو ہر چیز غیر مستحکم ہو جاتی ہے۔ترقی عروج پر تھی، کسی قسم کا کوئی مسئلہ نہیں تھا،لوگوں نے ہمیں کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ دیا۔انہوں نے کہا کہ دنیا بھی اعتراف کررہی تھی کہ پاکستان تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے، یہ ایک خواب تھا جو ادھورا رہ گیا، اسے پورا ہونا چاہیے تھا لیکن کچھ ایسے عوام اور کردار بیچ میں آگئے جنہوں نے دوڑتے پاکستان کو ٹھپ کرکے رکھ دیا۔ان کا کہنا تھا کہ اْس وقت سے ہماری معیشت نیچے جارہی ہے

، ہماری اقتصادی ترقی بھی رک گئی، جی ڈی پی ریٹ بھی نیچے گر گیا۔ اچھے بھلے لوگوں سے اختیار لے کر ایک اناڑی کے ہاتھ میں دیدیا گیا ،ایک اناڑی کے ہاتھوں ملک کی باگ دوڑ کیسے دی گئی؟قوم ادراک کرے معاشی بدنظمی 2019سے شروع ہوئی، 2017میں باتیں شروع ہو گئی تھیں کہ اگلی مدت ن لیگ جیتے گی اس لےئے مسلم لیگ ن کو سائڈ لائن کردیا گیا اور پھر 2022میں ملک کی معیشت کا بھٹہ بیٹھ گیا،آج وقت ثابت کررہاہے کہ ہم درست تھے،ہم سبز باغ نہیں دکھائیں گے پہلے بھی سچ بولا اب بھی سچ بولیں گے ، ہمیشہ ملک کی ترقی کیلئے جو ہوسکا ہم نے کیا ، ملک میں مہنگائی بدانتظامی کا نتیجہ ہے ، 2022 میں جب شہباز شریف نے اقتدار سنبھالا تو ہر شعبے میں بہت زیادہ گراوٹ ہوچکی تھی، اس وقت اگر یہ ملک نہ سنبھالتے تو ملک ڈیفالٹ ہوچکا ہوتا۔#انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سلامتی اور وقار کی بات آئے تو ہم پیچھے نہیں ہٹتے،ہم نے بھارت کے مقابلے میں ایٹمی دھماکے کےئے۔کسی کی جرات نہیں کوئی پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھے۔ہمارے دور میں بھارت کے دو وزرائے اعظم پاکستان آئے، ہمارے پیچھے سی پیک کو بھی سبو تاژ کرنے کی کوشش کی گئی

،چین کے صدر نے خود آکر کہا کہ سی پیک آپ کیلئے تحفہ ہے ،نواز شریف کا کہنا تھا کہ پہلے ہمارے لےئے لوڈشیڈنگ کا مسئلہ تھا لیکن جب ہم نے لوڈشیڈنگ کا مسئلہ حل کیا تو عمران خان نے ہمارے لیے بجلی کی قیمتوں کا بھی مسئلہ بھی کھڑا کردیا ہے ۔ہمیں چین، افغانستان ،ایران اور دیگر ممالک سے بھی حالات ٹھیک کرنا ہیں ۔ ہمارا مشن ہے کہ ملک سے مہنگائی کا خاتمہ کریں، بیروزگاری کو ختم کریں۔انہوں نے کہا ہم نے ہردفعہ اچھے کام کےئے لیکن ہردفعہ ہمیں نکال دیا گیا ،1993اور 1999میں مجھے کیوں نکالا گیا پتہ چلنا چاہے، کیا اس لےئے نکالا گیا کہ میں نے کہا کارگل لڑائی بند ہونی چاہئے،شرم آتی ہے کہ ہمارے اردگرد کے ممالک کہاں سے کہا ں جارہے ہیں اور ہم کہاں جارہے ہیں ۔ کم سے کم اپنے بچوں کے لیے بہتر ملک تو چھوڑ کر جائیں۔یہ ملک ہمارا ہے، ہمارے بچوں کی نسلوں نے ادھر رہنا ہے

Comments are closed.