سپریم کورٹ :چیئرمین پی ٹی آئی کی توشہ خانہ فوجداری کیس میں ٹرائل روکنے کی استدعا مسترد
اسلام آباد(آن لائن)سپریم کورٹ نے توشہ خانہ فوجداری کیس میں چیئرمین تحریک انصاف کی درخواست پر ٹرائل روکنے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے معاملہ اسلام آباد ہائیکورٹ کوبھیج دیا ہے۔عدالت نے حکم دیا کہ وکیل درخواست گزار اور ڈی جی لاء الیکشن کمیشن دونوں نے اتفاق کیا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ پہلے دونوں درخواستوں کو سن کر فیصلہ کرے۔جسٹس یحییٰ آفریدی نے ریمارکس دیئے کہ کیس میں دائرہ اختیار سے متعلق نکتہ بنیادی اور اہم ہے۔
ہم تو صرف ہائیکورٹ سے درخواست کر سکتے ہیں۔میرے خیال میں ہمیں اس وقت اس معاملے میں مداخلت سے گریز کرنا چاہئے۔ بدھکو عدالت عظمٰی میں معاملے کی سماعت جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے کی۔ سماعت شروع ہونے سے قبل کمرہ عدالت کے باہر شور شرابے پر عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ خواجہ حارث آپ باہر جاکر معاملات کو دیکھیں ، ہم ایسے مقدمہ کو نہیں سن سکتے،عدالت کی عزت و احترام سب پرلازم ہے۔یہ آپکی اور درخواستگزار کی ذمہ داری ہے کہ عدالت کی تکریم کو یقینی بنائیں۔ ہم ایسے سماعت نہیں سن سکتے، چیئرمین پی ٹی آ ئیکے کمرہ عدالت آنے کے باوجود شور شرابہ نہ رکنے پر عدالت اٹھ کر چلی گئی۔ کمرہ عدالت کے باہر خاموشی ہونے پر دو رکنی بینچ نے سماعت دوبارہ شروع کی۔
جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ معاملہ ہائیکورٹ کو بھجوا رہے تو ٹرائل کیسے روک دیں جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ ہائیکورٹ کا حکم چینلج کریں گیتو تفصیل سے سن کر مناسب حکم جاری کریں گے۔ابھی تو ہائیکورٹ نے براہ راست کوئی حکم نہیں دیا جس پر وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ ہائیکورٹ نے ٹرائل کورٹ کو سات روز میں فیصلے کا حکم دیا تھا، الیکشن کمیشن نے وکیل امجد پرویز نے کہا کہ ہائیکورٹ کے حکم پر عمل ہو چکا،ٹرائل کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل بھی کل سماعت کیلئے مقرر ہیجسٹس یخیی آفریدی نے ریمارکس دیئے کہ کیس میں دائرہ اختیار سے متعلق نکتہ بنیادی اور اہم ہے۔ہم ہائیکورٹ کو کوئی حکم نہیں دے رہے۔ ماتحت عدلیہ سے متعلق ایڈوائزری اختیار سماعت ہائیکورٹس کے پاس ہے۔ ہم تو صرف ہائیکورٹ سے درخواست کر سکتے ہیں۔میرے خیال میں ہمیں اس وقت اس معاملے میں مداخلت سے گریز کرنا چاہئے۔
Comments are closed.