بینظیربھٹو کے قاتلوں کومعاف کرنیکا اختیار صرف بلاول بھٹو کے پاس ہے، سرفرازبگٹی

دہشتگردی کی جنگ میں شہید ہونیوالوں کو سلام پیش کرتاہوں،شہداء کی قربانیوں سے ملک سے دہشتگردی کا خاتمہ ہوا، بلاول بھٹو

اسلام آباد(آن لائن)نگران وفاقی وزیر داخلہ سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ بینظیر بھٹو کے قاتلوں کو معاف کرنیکا اختیار بلاول بھٹو کے پاس ہے، ریاست کے پاس نہیں جبکہ چےئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹوزرداری نے کہا ہے کہ دہشتگردی کی جنگ میں شہید ہونیوالوں کو سلام پیش کرتاہوں،شہداء کی قربانیوں سے ملک سے دہشتگردی کا خاتمہ ہوا، پی ٹی آئی حکومت نے سنگین مقدمات میں ملوث دہشتگردوں کو جیلوں سے نکال دیا، پاکستانی عوام سے پوچھے بغیر راتوں رات فیصلہ کر لیا گیا ۔

پیر کو وزارت داخلہ میں شہدا ء گیلری کی تقریب میں شرکت کے بعد نگران وزیر داخلہ کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹوزرداری نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ یہ بہت ہی اچھا اقدام ہے، سرفراز بگٹی صاحب نے لیا ہے کہ ہمارے شہید جو دہشت گردی کا شکار ہوئے ہیں، جدوجہد کے نتیجے میں پاکستان میں امن قائم ہوا، شہداء کی قربانیوں سے دہشت گردی کا خاتمہ ہوا۔ان کا کہنا تھا کہ شہیدوں نے دہشت گردی کاڈٹ کر مقابلہ کیا، سنگین مقدمات میں ملوث دہشت گردوں کو جیل سے نکالا گیا۔بلاول بھٹو نے کہا کہ پاکستان سے دہشت گردی کو تقریباً خاتمہ کیا گیا، مگر ایسا فیصلہ کیا گیا، جس میں وہ تمام جدوجہد تھی، جو آپریشنز تھے، ان کا اثر ایک طریقے سے ختم ہو گیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ جب افغانستان میں ٹرانزیشن ہو رہا تھا، پارلیمان، پاکستان کے عوام سے پوچھے بغیر ایک فیصلہ کیا گیا، جو دہشت گرد قیدی پاکستان میں موجود تھے، جو دہشت گردی کے سنگین واقعے میں ملوث تھے، انہیں پاکستان کے جیلوں سے نکالا گیا

، افغانستان میں جو دہشت گرد پاکستان میں دہشت گردی کے سنگین واقعے میں ملوث تھے، وہ بھی جیل سے نکل گئے۔بلاول بھٹو نے کہا کہ بانی چےئرمین عمران خان نے نے افغانستان سے دہشتگردوں کو واپس پاکستان آنے کی دعوت دی کہ واپس پاکستان کے قبائلی علاقوں میں آئیں، انہیں افغانستان سے پاکستان میں ایک بار پھر مسلط کرنا تھا، اس فیصلے کے نتیجے میں آج پھر پاکستان میں دہشت گردی نظر آرہی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے عوام، ریاست کو سوچنا چاہیے کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ جو ایک ملک کی پالیسی تھی، جو مسلسل کوششوں کے باعث ہم نے ملک کو دہشت گردوں سے پاک کروایا، کیسے ممکن ہو کہ راتوں رات ایسا یو ٹرن لیا جائے، جس کے اثرات آج بھی پاکستان کے عوام بھگت رہے ہیں۔بلاول بھٹو نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ جو یہ پورا سلسلہ تھا، اس کی تحقیقات کرنی چاہیے، جو لوگ اس فیصلے میں ملوث تھے، ان سے پوچھنا چاہیے کہ ان کے کیا ارادے تھے

، اور یہ یقین دہانی کرنی چاہیے کہ ایسے فیصلے دوبارہ نہیں کیے جائیں۔ اس موقع پر نگران وزیر داخلہ سرفراز بگٹی نے کہا کہ بینظیر بھٹو نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا کی بڑی عظیم لیڈر تھیں، ان کا نظریہ آج بھی زندہ ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہم تو یہاں مستقل نہیں رہیں گے، اور جب کوئی یہاں سے گزرے گا تو شاید وہ (دہشت گردوں کے ساتھ) نرمی کی پالیسی نہ کرے، ریاست کا موٴقف ہونا چاہیے کہ جب بھی بات چیت کی بات کرتے ہیں، کسی دہشت گرد سے بات کرنی ہے، ریاست کے پاس وہ اختیار نہیں، بینظیر بھٹوکے قاتل کو معاف کرنے کا اختیار بلاول کے پاس ہے، ریاست کے پاس نہیں ہے۔

Comments are closed.