ریکوڈک منصوبہ خوشحال بلوچستان کا ضامن

اسلام آباد ( آن لائن)ریکوڈک منصوبہ خوشحال بلوچستان کا ضامن، پراجیکٹ میں توسیع کی فز یبلٹی رپورٹ 2024ء تک مکمل ہو نے کے بعد 2028ء تک باقاعدہ کان کنی کے آغاز کا ہدف مقرر ، ابتداء میں ساڑھے سات ہزار اور پیداوار کے مرحلے میں 4 ہزار طویل المدتی ملازمتوں کے مواقع پیدا کرے گا۔ریکو ڈک ٹیتھیان بیلٹ کا ایک ارضیاتی خطہ ہے ، اس کا شمار دنیا کے تانبے اور سونے کے بڑے ذخائر میں ہوتا ہے ، جس کی کان کنی کا کام جلد شروع کیا جارہا ہے، ریکوڈک کے پاس 5.87 بلین ٹن تانبے اور 42 ملین اونس سونے کے ذخائر ہیں ، ریکوڈک منصوبے کی تنظیم نو کا کام دسمبر 2022 ء میں پایہ تکمیل کو پہنچ چکا ہے ، جو اسے بین الاقوامی معیار کا طویل المدتی منصوبہ بنانے کی طرف پہلا قدم ہے جس سے بیرک کے تانبہ نکالنے کے پورٹ فولیو میں نمایاں اضافے ہوگا اور آنے والی نسلیں بھی اس سے مستفید ہوسکیں گی، بیرک اس وقت پراجیکٹ 2010ء کی فز یبلٹی رپورٹ اور 2011 ء کی پراجیکٹ میں توسیع کی فز یبلٹی رپورٹ کو اپڈیٹ کر رہا ہے جو کہ 2024 تک مکمل ہو جائیں گی اور 2028 تک باقاعدہ کان کنی کے آغاز کا ہدف مقرر کیا گیا ہے ، ریکوڈک کان کی عمر چالیس سال ہوگی اورآن سائٹ پراسیسنگ سے اعلیٰ معیار کے تانبے اور سونے کا کنسنٹریٹ حاصل کیا جائے گا،

اس کے علاوہ سالانہ80ملین ٹن خام دھات کی پراسیسنگ کی جاسکے گی، ریکوڈک منصوبہ نہ صرف پاکستان کی معیشت کی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گا بلکہ ملک کے پسماندہ صوبے بلوچستان میں ترقی کا نیا باب کھولے گا ، جس سے معاشی فوائد کے علاوہ روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے، اس منصوبے سے مقامی معیشت کو فروغ ملے گا اور کان میں صوبائی شراکت داری کو مکمل تحفظ حاصل ہوگا ، جس سے بلوچستان کو کسی بھی قسم کی مالیاتی سرمایہ کاری کئے بغیر 35 فیصد منافع کی شرح ، رائلٹی، ڈیوڈنڈ اور دیگر مراعات حاصل ہوں گی، یہ منصوبہ تقریبا 7,500 افراد کو روزگار مہیا کرے گا اور پیداوار کے مرحلے کے آغاز میں 4,000 طویل المدتی ملازمتوں کے مواقع پیدا کرے گا،

ریکو ڈک پاکستان کی توانائی کی ضروریات میں اضافہ کرے گا اور درآمدی ایندھن پر انحصار کم کرے گا، تانبا قابل تجدید توانائی کی ٹیکنالوجیز جیسے سولر پینلز، ونڈ ٹربائنز اور الیکٹرک گاڑیوں کا ایک اہم جزو ہے اپنے تانبے کے وسائل کو ترقی دے کر، پاکستان فوسل فیول پر اپنا انحصار کم کرے گا ، منصوبے سے پاور سیکٹر میں صاف توانائی کا حصہ بڑھائے گا اس سے پاکستان کو موسمیاتی تبدیلی سے متعلق پیرس معاہدے کے تحت اپنے وعدوں کو پورا کرنے میں بھی مدد ملے گی، ریکوڈک بلوچستان کے لیے اپنی معیشت اور معاشرے کو تبدیل کرنے کا سنہری موقع ہے، *یہ منصوبہ بلوچستان کو ایک خوشحال اور پرامن صوبہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے جو پاکستان کی ترقی اور استحکام میں مثبت کردار اداکرے گا۔

Comments are closed.