الیکشن کمیشن ، پی ٹی آئی انٹرا پارٹی انتخابات میں سوالنامے پر فیصلہ محفوظ

اسلام آباد (آن لائن) الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی انٹرا پارٹی انتخابات کے حوالے سے دئیے گئے سوالنامے پر فیصلہ محفوظ کر لیا ہے ،بیرسٹر علی ظفر نے دوران سماعت سوالات پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ کیا کسی دوسری سیاسی جماعت سے بھی ایسے سوالات پوچھے گئے ہیں جو ہم سے پوچھے گئے ہیں؟۔ منگل کے روز پی ٹی آئی انٹرا پارٹی انتخابات کے حوالے سے الیکشن کمیشن کی جانب سے عائد اعتراضات کا جواب دیتے ہوئے بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ ہمیں سوالنامہ ملا ہے انہوں نے کہا کہ 40سوالات تین کیٹگری میں آتے ہیں انہوں نے کہا کہ سوال پوچھا گیا ہے کہ جب ہم نے انتخابات کرائے تو تمام تفصیلات 4دسمبر کو الیکشن کمیشن میں جمع کرا دئے جبکہ تاریخ 3دسمبر کی لکھی ہوئی تھی انہوں نے کہاکہ ہم نے 3دسمبر کو انٹرا پارٹی انتخابات کرائے اور 4دسمبر کو الیکشن کمیشن میں جمع کراتے وقت پوچھا کہ مزید کچھ ضرورت ہو تو ہم درست کردیں اور یہ سلسلہ کئی گھنٹوں تک جاری رہا پھر 7دسمبر کو خط ایا جس میں 3یا4سوالات پوچھے اور ہم سمجھ رہے تھے کہ یہی تک سلسلہ محدود رہے گا مگر اب یہ سوالات 40ہوگے انہوں نے کہا کہ انتخابات ہم نے لڑنا ہے اور الیکشن کمیشن کے حکم پر انٹرا پارٹی انتخابات کرانے ہیں انہوں نے کہا میں اس صورتحال سے مایوس ہوگیا ہوں کل تک ان 40سوالوں کا پتہ نہیں تھا لگتا ہے کہ کمیشن کے افسران نے کوئی ذہن بنایا ہے جس پر چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ پہلے 4سوالوں کا جواب مانگا گیا پھر فائل کمیشن کے پاس آئی تو ہم نے مناسب سمجھا کہ آپ کو سنا جائے اور یہ آپ کے فائدے کے لے کیا گیا ہے تاکہ وقت بچایا جا سکے جس پر وکیل نے کہا میں اس کو سراہتا ہوں انہوں نے کہا کہ سوال پوچھا گیا ہے کہ فارم 65پارٹی چیرمین نے کیوں دیا ہے

اس کے نامزد کردہ شخص نے کیوں نہیں کیا ہے انہوں نے کہا کہ پارٹی کا سربراہ فارم 65پر دستخط کرتا ہے اور دیگر سیاسی جماعتوں کے سربراہان نے دستخط کے ہیں یہ تضاد کیوں ہے انہوں نے کہا کہ پچھلی دفعہ کہا گیا کہ نامزد کردہ شخص سے کیوں دستخط کرایا ہے پارٹی سربراہ سے کیوں نہیں کرایا ہے ہم جو آپ کہتے ہیں ہم اسی طرح کردیں گے اگر پہلے ہی بتا دیتے تو بہتر ہوتا اس طرح سوال میں لکھا ہے کہ جون کا الیکشن کالعدم تھا اس کا زکر کیوں کیا ہے ہم نے لکھا ہے کہ 2017میں ہم نے اخری انٹرا پارٹی انتخابات کرانے اور ہم نے جون کی تاریخ الیکشن کمیشن کے اعتراض پر مٹا دی مگر پھر بھی یہ اعتراض لگایا گیا کہ آپ نے کیا کیوں تھا انہوں نے کہا سوال کیا گیا کہ سیاسی جماعت کے آئین کے مطابق سب کو انٹرا پارٹی انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت کیوں نہیں دی ہے ہم نے مناسب طور پر اس کی مشتہری کی ہے اور یہ الیکشن کمیشن کا اختیار نہیں یے کہ وہ ہم سے اس کا طرح کے سوالات کرے یہ سوالات کس رول کے تحت پوچھے گئے ہیں الیکشن کمیشن پارٹی کے ممبران نہیں کہ وہ اس طرح کے سوالات پوچھیں اس طرح کے سوالات کیوں پوچھے گئے انہوں نے کہا کہ سوال نمبر تین بھی حیران کن ہے ان کا کہنا ہے کہ نیشنل کونسل کیوں نہیں بنائی اور فیڈرل الیکشن کمیشن کیوں نہیں بنایا یہ سوال مرغی سے پہلے انڈے کا ہے نیشنل کونسل انتخابات کے بعد بنتا ہے جب تک انتخابات نہ ہوں نیشنل کونسل نہیں بن سکتا ہے انہوں نے کہا کہ 9سوالات فیڈرل الیکشن کمشنر کی تعیناتی سے متعلق ہے موجودہ حالات میں ہم ایڈھاک کرسکتے تھے انہوں نے کہا کہ سوال یہ ہے کہ دو حصوں میں کیوں نہیں کرایا ہے یہ ہوسکتا ہے کہ ایک ہی روز میں دو حصوں میں کرا? جاسکتے ہیں یہ اعتراض کی بھی سمجھ نہیں آتی ہے

اسی طرح طرح الیکشن شیڈول میں لکھا ہے کہ انتخابات سینٹرل کی سطح پر ہونگے انہوں نے کہا کہ اگلے آنے والے انٹرا پارٹی انتخابات الگ الگ حصوں میں ہونگے کیونکہ کیونکہ چیرمین کا عہدہ 5سال کے لیے ہے جبکہ دیگر صوبائی عہدوں پر نامزدگی 3سال کے لیے ہوتی ہے انہوں نے کہا ک کیا ان وجوہات کی بناء پر کوئی انتخاب ختم کرایا جاسکتا ہے اس موقع پر بیرسٹر گوہرِ نے مسلم لیگ ن کے انٹرا پارٹی انتخابات پر سوالات اٹھائے تو ممبر کمیشن نے استفسار کیا کہ کیا آپ چیلنج کررہے ہیں جس پر بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ ہم نہیں کررہے ہیں ہمیں تو کمیشن نے چیلنج کیا ہے ان کو دیگر جماعتوں کو بھی چیلنج کرنا چاہتے تھا انہوں نے کہا کہ ہم سے سوال کیا گیا کہ چیرمین کا انتخاب بلا مقابلہ کیوں کیا گیا ہے کیا یہ سوال کسی دوسری سیاسی جماعت سے بھی پوچھا گیا ہے اور ان کو سرٹیفکیٹ کیوں جاری کیا گیا ہے انہوں نے کہا الیکشن کمیشن ہم سے سوال کررہا ہے کہ پینل بلا مقابلہ کیوں ہوگیا ہے اس سوال کی بھی سمجھ نہیں آرہیں ہے انہوں نے کہا کہ ایسے سوالات کیے گئے ہیں جن کا الیکشن کمیشن کو پوچھنے کا کوئی حق نہیں ہے اگر کوئی پینل بلا مقابلہ ہوجا? تو اندرونی سطح پر تمام عہدیداران کا انتخاب کیا جاتا ہے انہوں نے کہا کہ ایک ہی سوال 9بار پوچھا گیا ہے جس کا ایک ہی جواب ہے اور ہم نے آئین کے مطابق سب کچھ کیا ہے انہوں نے کہا کہ مجھے خوشی ہے کہ الیکشن کمیشن مجھ سے بھی چار ہاتھ آگے یے اور صورتحال کو سمجھ جاتے ہیں انہوں نے کہا کہ الیکشن ایکٹ کے مطابق کمیشن کو صرف آئین کا مسودہ فراہم کرنا ہوتا ہے یہ تحریک انصاف کی ویب سائیٹ پر موجود ہیں اور اس حوالے سے کتابچہ بھی موجود ہے اگر مانگتے تو ضرور فراہم کرتے انہوں نے استفسار کیا کہ 175سیاسی جماعتوں سے بھی ایسا کوئی سوال پوچھا ہے انہوں نے کہا کہ جن پارٹیوں کو انتخابی نشان ملا ہے اس کی ویب سائیٹ دیکھی گئی ہے جس پر چیف نے کہا کہ آپ کی پارٹی خاص ہے اس لیے پوچھا گیا ہے انہوں نے کہا کہ کسی نہ کسی نے تو انتخابات کرانے تھے اور رول 28کے تحت ہم نے ایڈھاک بنیادوں پر نامزدگی کی اگر الیکشن کمیشن ہمیں نامزد کرا دیتا تو درست ہوتا انہوں نے کہا کہ انٹرا پارٹی انتخابات کے حوالے سے سوالات بھی دلچسپ ہیں انہوں نے کہا کہ شیڈول کے مطابق رزلٹ 3دسمبر کو جاری کیا اور الیکشن کمیشن کے پاس 4دسمبر جمع کرایا جس پر الیکشن کمیشن نے کہا کہ اس پر 3تارخ کردیں ہم نے کردیا اب اس پر بھی اعتاض کردیا گیا انہوں نے کہا کہ ہم سے ایسے سوال کے جاریے ہیں یہ کس پارٹی سے پوچھے گئے ہیں اور یہ الیکشن کمیشن کا کام نہیں ہے کہ اس طرح کے سوالات پوچھے جائیں انہوں نے کہا ہم نے کمشنر پشاور سے سیکورٹی مانگی تھی اور ہم نے الیکشن کمیشن کو بھی آگاہ کیا تھا انہوں نے کہا کہ صرف کاغذات نامزدگی کا وقت معین تھا جو کہ ہم نے دیا تھا اسی طرح پولنگ کا بھی وقت دیا تھا مذید کسی چیز کی ضرورت نہیں تھی انہوں نے کہا کہ ہم نے شفاف طریقے سے انٹرا پارٹی انتخابات کرانے کیونکہ ہمارے پاس چھپانے کے لیے کچھ بھی نہیں تھا انہوں نے کہا کہ ایسے سوالات پوچھے گئے ہیں جن کو پوچھنے کا کوئی حق نہیں بنتا ہے انہوں نے درخواست کرتے ہوئے کہا کہ شیڈول جاری ہوا ہے اس کیس کا فیصلہ جلد کیا جائے جس پر کمیشن نے فیصلہ محفوظ کرلیا۔۔۔اعجاز خان

Comments are closed.