بلوچ یکجہتی کونسل اور حکومتی وزرا ء کمیٹی کے درمیان مذاکرات کامیاب
اسلام آباد ( آن لائن ) نگران وفاقی وزیر فواد حسن فواد نے کہا ہے کہ بلوچستان میرے دل میں دھڑکتا ہے زیادہ ترنوکری بلوچستان میں ہی کی ہے ، بلوچستان سے آئے مظاہرین مکمل پرامن رہے ،کچھ مقامی افراد نے چہرے ڈھانپ کر مسائل پیدا کرنے کی کوشش کی ،ریاست ہر طرح کے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے ، نگران وزیراعظم کی ہدایت پر خواتین اور بچوں سے جا کر ملے ہیں ،کزشتہ 23دن سے کچھ خواتین وحضرات پریس کلب کے سامنے بٹھے ہوئے تھے ،اچھی خبر لے کر آئے ہیں ،مظاہرین کو ایچ نائن اور پھر ایف نائن کی تجویز دی گئی
،تمام بچوں اور عورتوں کو رہا کر دیا گیا ہے ،کچھ مرد ابھی شامل تفتیش ہیں ،آئی جی سے کہا کی شناخت میں تاخیر نہ کی جائے ،اسلام آباد ہائی کورٹ کے احکامات کے مطابق رپورٹ آج عدالت میں پیش کی جائے گی ۔تفصیل کے مطابق قبل ازیں بلوچ یکجہتی کونسل اور حکومتی وزراء کمیٹی کے درمیان مذاکرات کامیاب ہونے کے بعد گرفتار ہونے والے افراد میں سے خواتین اور بچوں سمیت کچھ کو رہا کردیا گیا ہے۔گزشتہ شب تربت سے چلنے والا بلوچ یکجہتی کونسل کا قافلہ چونگی نمبر 26 پہنچا تو انتظامیہ نے انہیں آگے جانے کی اجازت نہیں دی جس پر مظاہرین نے وہیں دھرنا دے دیا تھا، رات گئے پولیس کی جانب سے مظاہرین کو منتشر کرنے کیلیے لاٹھی چارج، آنسو گیس شیلنگ اور واٹر کینن کا استعمال کیا گیا۔اس دوران پولیس نے درجنوں مرد اور خواتین مظاہرین کو گرفتار کیا جن میں بچے بھی شامل تھے۔اس کے بعد وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ نے مظاہرین سے مذاکرات کیلیے نگراں وفاقی وزرا پر تین رکنی کمیٹی تشکیل دی جس نے یکجہتی کونسل کے قائدین سے مذاکرات کیے اور پھر گرفتار افراد کی فوری رہائی کا حکم بھی دیا۔حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے حکم پر تھانوں میں بند افراد میں سے خواتین اور بچوں سمیت متعدد کو رہا کردیا گیا جس کے بعد وہ تھانوں سے دوبارہ احتجاجی کیمپ روانہ ہوئے۔بعد ازاں وفاقی وزرا ء نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ’وزیراعظم نے ایک کمیٹی تشکیل دے کر بلوچ یک جہتی کونسل کے ساتھ مذاکرات کی ہدایت کی، ہم نے احتجاج کرنے والوں کو مختلف مقامات پر دھرنے کی پیشکش کی اور بتایا کہ آپ کو مذکورہ مقامات پر تمام سہولیات دیں گے مگر مظاہرین پریس کلب جانے پر بضد تھے
، ہم نے عرض کیا کہ ہمیں ع آپ لوگوں سے متعلق سیکیورٹی کے کچھ خدشات ہیں‘۔فواد حسن فواد نے کہا کہ لاپتہ افراد کے معاملے پر اسلام آباد پریس کلب کے باہر خواتین کا کئی دنوں سے پرامن احتجاج جاری ہے جس کو کسی نے نہیں چھیڑا، گزشتہ روز آنے والے مظاہرین میں سے کچھ ایسے عناصر شامل ہوئے جو حالات کو خراب کرنا چاہتے تھے، ان عناصر کی وجہ سے حالات کے مطابق پولیس نے محدود ایکشن لیا اور کچھ افراد کو گرفتار کیا۔انہوں نے کہا کہ کچھ غیر مقامی افراد جنہوں نے چہرے ڈھانپے ہوئے تھے، انہوں نے پتھراو کیا اور توڑ پھوڑ کی جبکہ پولیس کو اشتعال دلایا، صرف ایسے ہی عناصر کیخلاف ایکشن لینے کا فیصلہ کیا گیا تھا کیونکہ قانون کی موجودگی کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا اور ہمارا کسی بھی قسم کی طاقت کے استعمال کا ارادہ نہیں تھا۔فواد حسن فواد نے کہا کہ بار بار یہی گزارش کررہے ہیں کہ اپنا دھرنا ایسی جگہ منتقل کریں جہاں ہم بہتر سیکیورٹی دے سکتے ہیں، بلوچستان سے آنے والے پرامن تھے لیکن یہاں سے کچھ نقاب پہننے والے احتجاج میں شامل ہوئے۔انہوں نے کہا کہ تمام بچوں اور خواتین کو رہا کر دیا گیا جبکہ جن مردوں کی شناخت ہو چکی ہے، ان کو رہا کر دیا گیا ہے تاہم کچھ مرد شامل تفتیش ہیں، اس حوالے سے صبح ہائیکورٹ میں ملزمان کی شناخت کے ساتھ رپورٹ پیش کریں گے۔فواد حسن فواد نے کہا کہ بلوچستان سے آئے مظاہرین مکمل پر امن رہے،چند مقامی افراد نے مسائل پیدا کیے۔ خواتین اور جن کی شناخت ہوگئی ہے ان کو رہا کردیا گیا ہے جبکہ وفاقی و زیراطلاعات مرتضی سولنگی نے کہا کہ مظاہرین سے مذاکرات کے لیے وزیراعظم نے کمیٹی تشکیل دی، حکومت کی طرف سے فواد حسن فواد نے بات چیت کی۔نگران وفاقی وزیر فواد حسن فواد نے بتایا کہ اچھی خبر لے کر آئے ہیں، مظاہرین کو ایچ 9 اور پھر ایف 9 پارک کی تجویز دی گئی تھی، کچھ مقامی افراد نے چہرے ڈھانپ کر صورتحال کو خراب کرنے کی کوشش کی،گزشتہ 23 روزسے کچھ لوگ پریس کلب کے سامنے بیٹھے ہوئے تھے، اسلام آباد ہائی کورٹ کے احکامات کے مطابق رپورٹ آج جمعہ کو عدالت میں پیش کی جائے گی صرف وہ لوگ تحویل میں ہیں جن کی شناخت نہیں ہوئی۔
Comments are closed.