سینیٹ کا اجلاس ،مولانا فضل الرحمن کے قافلے پر حملے کی مذمت ،واقعہ کی فوری تحقیقات کا مطالبہ

اسلام آباد(آن لائن ) سینیٹ اجلاس کے دوران سینیٹر مولانا عبدالغفور حیدری نے جے یوآئی سربراہ مولانا فضل الرحمن کے قافلے پر حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے واقعے کی فوری تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے انہوں نے بلوچستان کی احتجاجی خواتین کے دھرنے کے خلاف طاقت کے استعمال کی بھی شدید مذمت کی اور اس حوالے سے کمیٹی بنانے کا مطالبہ کیا سوموار کے روز سینیٹ اجلاس کے دوران نکتہ اعتراض پر بات کرتے ہوئے سینیٹر مولانا عبدالغفور حیدری نے کہاکہ گذشتہ رات مولانا فضل الرحمن کے قافلے پر حملہ ہوا یہ شکر ہے کہ مولانا فضل الرحمن قافلے میں موجود نہیں تھے انہوں نے کہاکہ یہ دہشت گردی اور تخریب کاری ہمارے سامنے ہوئی ہے ہم نے یہ معاملہ الیکشن کمیشن کے ساتھ اٹھایا ہے کہ ملک میں آمن وآمان نہیں ہے انہوں نے کہاکہ بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے شمالی علاقے جنوری اور فروری کے علاقوں میں شدید سردیو ں کی لپیٹ میں ہوتے ہیں اگر اس کے باوجود بھی ادارے

،الیکشن کمیشن اور سپریم کورٹ بضد ہیں تو ہم انتخابات میں بھرپور حصہ لیں گے انہوں نے کہاکہ ہم پر ماضی میں بھی حملے ہوئے ہیں مولانا فضل الرحمن پر تین حملے ہوئے ہیں مگر ہم نے اف بھی نہیں کیا ہے اور ہم اپنے نظرئیے پر قائم ہیں انہوں نے کہاکہ حکومت خود بتاتے ہیں کہ مولانا پر حملہ ہونے والا ہے ہم کہتے ہیں کہ ریاست ہمیں اور مولانا صاحب کو سیکورٹی فراہم کرے انہوں نے کہاکہ یہ صورتحال جے یوآئی کے ساتھ چل رہی ہے حکومت دہشت گردو ں کو قانون کے کٹھرے میں کیوں نہیں کھڑا کرتی ہے یا تو حکومت ہاتھ کھڑے کرے کہ ہم کچھ نہیں کر سکتے ہیں انہوں نے کہاکہ مجھے بتایا گیا کہ تھریٹ ہیں اور اپ کے علم میں یہ بات لائی گئی مگر مجھے آج تک بلٹ پروف گاڑی نہیں دی گئی اور بتایا گیا کہ آپ کو نہیں دے سکتے ہیں اور خود خرید لیں انہوں نے کہاکہ یہ حملہ انتہائی شرمناک ہے اس کو فوری نوٹس لینا چاہیے انہوں نے کہاکہ بالاج بلوچ اور دھرنے میں شامل لوگوں کے ساتھ اختلافات کرسکتے ہیں مگر ان کے مطالبات جائز ہیں کہ اگر کسی کا کوئی جرم ہے تو اس کو عدالت میں پیش کیا جائے اور اس پر مقدمہ چلنا چاہیے انہوں نے کہاکہ خواتین اور بچیوں کو ظلم اور جبر کے ساتھ گھسیٹا گیا ان کو جیلوں اور تھانوں میں بند کیا گیا اس سے عمداً بلوچستان کے عوام کو شدید احتجاج پر مجبور کیا جارہا ہے انہوں نے کہاکہ اسلام آباد کی انتظامیہ اور پولیس کے خلاف سخت کاروائی ہونی چاہیے انہوں نے کہاکہ بلوچستان کی خواتین آئین کے مطابق پرآمن احتجاج کر رہی ہیں ان کا راستہ روکنا اور تکلیف پہنچانا نہایت شرمنا ہے انہوں نے کہاکہ گوادر اور تربت سے ہزاروں کلو میٹر کا فاصلے طے کرکے یہاں پر پہنچے ہیں ان کی شکایات کا مداوا ہونا

Comments are closed.