وزیر اعظم کی زیر صدارت افغان ٹرانزٹ ٹریڈ سے متعلق اجلاس
اسلام آباد(آن لائن)نگران وزیر اعظم انوارلحق کاکڑ نے کہا کہ پاکستان کی معاشی مشکلات کی ایک بڑی وجہ اسمگلنگ اور اشیاء کی غیر قانونی نقل و حمل ہے،چمن، طورخم، غلام خان چیک پوسٹس سمیت بلوچستان کے سرحدی علاقوں پر نگرانی کا عمل سخت کیا جائے۔نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ کی زیر صدارت افغان ٹرانزٹ ٹریڈ اور انسداد اسمگلنگ کے حوالے سے اہم اجلاس ہوا ،افغان ٹرانزٹ ٹریڈ پر تحقیقات کرنے والی انکوائری کمیٹی نے جاری تحقیقات پر وزیراعظم کو آگاہ کیا۔وزیر اعظم نے افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے حوالے سے ٹریکنگ کے نظام کو بہتر اور فول پروف بنانے کے لئے موثر اقدامات اور انٹیگریٹڈ ٹرانزٹ ٹریڈ مینجمنٹ سسٹم کے قیام کے حوالے سے فوری طور پر حکمت عملی تیار کرنے کی ہدایت کی ہے
،وزیر اعظم نے کہا کہ جو بھی اہلکار اسمگلنگ میں ملوث پایا جائے اس کے خلاف تادیبی کارروائی کی جائے اور قرار واقعی سزا دی جائے ،کسٹمز کی حساس پوسٹس پر کسی بھی افسر کی تعیناتی سے پہلے انٹیلی جنس کلیئرنس لی جائے ،وزیر اعظم نے چیف سیکرٹری بلوچستان کو ہدایت کی کہ اسمگلنگ کی روک تھام میں غفلت برتنے پر ضلع چاغی کی تمام انتظامی مشینری تبدیل کی جائے،چمن، طورخم، غلام خان چیک پوسٹس سمیت بلوچستان کے سرحدی علاقوں پر نگرانی کا عمل سخت کیا جائے،کارگو کی چیکنگ میں بہتری لائی جائے؛ چمن بارڈر پر کسٹمز کا عملہ بڑھایا جائے ،انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے لوگوں کو کاروبار اور روزگار کی فراہمی کے حوالے سے کام کرنے کی ضرورت ہے۔حکام نے بریفنگ میں بتایا کہ حکومتی اقدامات کی وجہ سے ایران سے پیٹرولیم مصنوعات کی اسمگلنگ میں خاطر خواہ کمی آئی ہے ،تفتان سے کوئیٹہ تک کارگو کی ٹریکنگ کا نظام شروع کیا گیا ہے،وزیراعظم کو متعلقہ حکام کی جانب سے اسمگلنگ کی انسداد کے حوالے سے اقدامات پر بریفنگ دی گئی،اجلاس کے شرکاء سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کی معاشی مشکلات کی ایک بڑی وجہ اسمگلنگ ہے اور اشیاء کی غیر قانونی نقل و حمل ہے۔وزیراعظم نے ہدایت کی کہ افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے حوالے سے ٹریکنگ کے نظام کو بہتر اور فول پروف بنانے کے لئے موئثر اقدامات اٹھائے جائیں۔
انہوں نے انٹیگریٹڈ ٹرانزٹ ٹریڈ مینجمنٹ سسٹم کے قیام کے حوالے سے فوری طور پر حکمت عملی تیار کرنے کی بھی ہدایت کی۔ ،وزیراعظم نے تاکید کی کہ جو بھی اہلکار اسمگلنگ میں ملوث پایا جائے اس کے خلاف تادیبی کارروائی کی جائے اور قرار واقعی سزا دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ کسٹمز کی حساس پوسٹس پر کسی بھی افسر کی تعیناتی سے پہلے انٹیلیجنس کلئیرنس لی جائے۔ ،اسمگلنگ کی روک تھام کے حوالے سے غفلت برتنے پر وزیراعظم نے چیف سیکرٹری بلوچستان کو ضلع چاغی کی تمام انتظامی مشینری تبدیل کرنے کی ہدایت کی،وزیراعظم نے تاکید کی کہ چمن، طورخم، غلام خان چیک پوسٹس سمیت بلوچستان کے سرحدی علاقوں پر نگرانی کا عمل سخت کیا جائے۔ وزیراعظم نے مزید ہدایت کی کہ کارگو کی چیکنگ میں بہتری لائی جائے اور چمن بارڈر پر کسٹمز کا عملہ بڑھایا جائے،وزیراعظم کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے لوگوں کو کاروبار اور روزگار کی فراہمی کے حوالے سے کام کرنے کی ضرورت ہے۔اجلاس میں افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کی تحقیقات کرنے والی انکوائری کمیٹی کی جانب سے تحقیقات پرجاری پیش رفت پر وزیراعظم کو بریفنگ دی گئی۔ وزیر اعظم نے کمیٹی کو پوری ایمانداری سے اپنی سفارشات مرتب کرنے کی ہدایت کی اور کمیٹی کی اب تک کی کارکردگی کو سراہا۔اجلاس کو بتایا گیا کہ حکومتی اقدامات کی وجہ سے ایران سے پیٹرولیم مصنوعات کی اسمگلنگ میں خاطر خواہ کمی آئی ہے۔ اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ تفتان سے کوئیٹہ تک کارگو کی ٹریکنگ کا نظام شروع کیا گیا ہے۔ اجلاس میں نگران وزیر خزانہ ڈاکٹر شمشاد اختر ، نگران وفاقی وزیر تجارت گوہر اعجاز، خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے اعلیٰ افسران ، حساس اداروں کے نمائندگان اور دیگر متعلقہ سرکاری افسران نے شرکت کی۔
Comments are closed.