پی ٹی آئی کو بلے کا نشان مل بھی جائے تو ہمیں فرق نہیں پڑے گا

لاہور(آن لائن) پاکستان مسلم لیگ ن پنجاب کے صدر رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کوبلے کا نشان مل بھی جائے تو فرق نہیں پڑے گا، بلے کے نشان کی جگہ کوئی اور نشان بھی آجائے گا پھر بھی فرق نہیں پڑے گا، یہ معاملہ عدالتوں میں ہے، جنہوں نے ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھایا ہے، وہ سیاسی بریکٹ اور تعریف سے باہر جاتے ہیں۔نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے جس کے ساتھ بھی سیٹ ایڈجسٹمنٹ کا وعدہ کیا وہ پورا کیا ہے، بہاولپور میں طارق بشیر چیمہ کی سیٹ پر کوئی امیدوار کھڑا نہیں کیا گیا

، اس کے نیچے دو صوبائی حلقے ہیں طارق بشیر چیمہ کی خواہش تھی کہ ان کو بھی خالی چھوڑ اجائے تو اس بارے میں ہم ابھی بھی کوشاں ہیں کہ ایڈجسٹمنٹ ہوجائے،ق لیگ کے ساتھ معاملہ بالکل ختم نہیں ہوگا، 16ماہ کی حکومت میں سب سے زیادہ تعاون چودھری شجاعت اور ، چودھری سالک ، طارق بشیر چیمہ نے کیا، ہم ہر حال میں مسلم لیگ ق کے ساتھ تعاون کرنا چاہتے ہیں، بڑی جماعت ہونے کے ناطے ہمیں کافی مشکلات کا سامنا ہے۔ا?ئی پی پی کے ساتھ معاملہ کافی مشکلات کا شکار رہا، کیونکہ ن لیگ کا پنجاب میں کوئی حلقہ بھی ایسا نہیں کہ جہاں پر ہمارے امیدوار نہیں ہیں، لیکن اس کے باوجود ہم ا?ئی پی پی کے ساتھ معاملات طے ہوئے۔ ہم ان کے مشکور ہیں۔

انہوں نے کہا کہ غلام سرور اگر ہمیں چور کہتا تھا تو ہم اس کوسو بار کہتے تھے، سیاست میں رواداری ایک زمانے میں تھی، لیکن پچھلے دور میں تو اپنے مخالف کو گالی دینا چور ڈاکو کہنا گالی بن گیا تھا، بدقسمتی سے وہ ایک دور گزرا ہے، مخالفین کے خلاف جھوٹے کیسز بنائے گئے، ہم تو چاہتے ہیں ایسی چیزیں ختم ہوں۔غلام سرور کی سیٹ پر کمپرومائز کرنا کوئی مجبوری نہیں تھا، وہ ایک ظلم پر مبنی دور تھا، جھوٹے کیسز میں لوگوں کو جیلوں میں پھنسایا گیا۔معاملہ یہ ہے جہانگیرترین اور علیم خان کے ساتھ کیا ہوتا رہا ہے،کس طرح انتقام کا نشانہ بنایا گیا، اب اگر ان کے ساتھ کچھ لوگ شامل ہوئے ہیں، وہ ان کو ایڈجسٹ کرنا چاہتے ہیں تو ہم سیاسی رواداری کا مظاہرہ کررہے ہیں، ہم نے جہانگیرترین سے درخواست کی ہے کہ وہ ملتان سے این اے 149میں الیکشن لڑیں ، انشاء اللہ وہ کامیاب ہوں گے، ہم بھرپور سپورٹ کریں گے۔انہوں نے کہا کہ پارٹی کی کمٹمنٹ ایک میرٹ ہوتی ہے، طلال چودھری کے ساتھ پہلے بھی بات ہوتی رہی ہے، اج ان کے ساتھ عزت کو پیش نظر رکھتے ہوئے بات کی، کمٹمنٹ کو پورا کریں گے، صوبائی حلقے میں ان کی سفارشات کو اہمیت دی گئی ہے۔ دانیال عزیز کے کام کرنے میں کوئی شک نہیں ہے، وہ بڑے محنتی انسان ہیں،

پارٹی کیلئے مشکلات کا بھی سامنا کیا، ان کی اہلیہ نے بھی کام کیا، لیکن پارٹی کا مذاق اڑانے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ، مہنگائی سے متعلق جو باتیں کیں ، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا، جب پارٹی نے شوکاز نوٹس کیا تو انہوں نے مذاق اڑایا، پھر کچھ ایسی باتیں کیں جو ڈسپلن میں نہیں ا?تی تھیں۔رانا ثناء اللہ نے کہا کہ میں ذاتی طور پر سمجھتا ہوں کہ پی ٹی ا?ئی کوبلے کا نشان مل بھی جائے تو فرق نہیں پڑے گا، بلے کے نشان کی جگہ کوئی اور نشان ا?جائے گا پھر بھی کوئی فرق نہیں پڑے گا، یہ معاملہ عدالتوں میں ہے، میں اس پر کوئی تبصرہ نہیں کرسکتا۔ معاملہ یہ ہے جو لوگ کسی ایسے جرم میں ملوث ہیں کہ جنہوں نے ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھایا ہے، ریاست پر حملہ کیا ہے، ان کو اجازت نہیں دی جاسکتی ، جن لوگوں نے کسی وقت بھی ریاست کے خلاف اقدام کیا ہو، وہ لوگ سیاسی بریکٹ اور تعریف سے باہر جاتے ہیں، جس سیاسی احتجاج کی انہیں ائین قانون اجازت دیتا ہے۔

Comments are closed.