آٹھ فروری کو ہونے والے عام انتخابات میں غیر ضروری عدالتی فیصلوں سے ان انتخابات کو متنازعہ بنانے کی کوششیں جاری
اسلام آباد (تجزیہ۔۔محسن جمیل بیگ )آٹھ فروری کو ہونے والے عام انتخابات میں اب صرف تین ہفتے باقی رہ گئے ہیں مگر اب بھی بعض طرف سے رکاوٹوں اور غیر ضروری عدالتی فیصلوں سے ان انتخابات کو متنازعہ بنانے کی کوشش کی جارہی ہے جو کہ افسوسناک ہے۔
اس تمام تر صورت حال کا جائزہ لینے کےلیے چیف الیکشن کمیشنر سکندرسلطان راجہ کی زیر صدارت ہونیوالے ایک اعلی سطح کے اجلاس میں ہائیکورٹ کی جانب سے امیدواروں کو الاٹ کردہ انتخابی نشانات تبدیل کرنے کے فیصلوں پرگہری تشویش کا اظہار کیا گیا ہے ۔الیکشن کمیشن ذرائع کے مطابق 8فروری کو ہونیوالے عام انتخابات کے صاف،شفاف و منصفانہ انعقاد کو یقینی بنانے کےلئے کمیشن تیزی کے ساتھ تمام مراحل کو مکمل کررہا ہے کیونکہ وقت کم ہے ۔کمیشن نے بیلٹ پیپرز کی چھپائی کا کام شروع کروادیا ہے پھر اس کے بعد ان بیلٹ پیپرز کی تقسیم و ترسیل کا مرحلہ آئیگا اور دور دراز علاقوں میں بھی بیلٹ پیپرز وقت پر پہنچانا ناگزیر ہے ۔
ریٹرننگ آفیسرز(آر اوز) نے منظور شدہ انتخابی نشانات امیدواروں کو الاٹ کرد ئیے ہیں جس میں کسی قتم کی تبدیلی نہیںکی جاسکتی ۔ذرائع کے مطابق کمیشن کے اراکین کا اس بات پر اتفاق تھا کہ اگر ہائیکورٹس نے انتخابی نشانات تبدیل کردئیے تو جن حلقوں کے امیدواروں کے انتخابی نشانات تبدیل ہونگے وہاں پر الیکشن کمیشن کے پاس انتخابات ملتوی کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہوگا کیونکہ ان حلقوں کے بھی بیلٹ پیپرز کی چھپائی جاری ہے ۔نشانات تبدیل کرنے کی صورت میں بیلٹ پیپرز ضائع ہوجائیںگے اور دوبارہ ان کی اشاعت پر بھاری اخراجات آئینگے ۔
ہائیکورٹس سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ الاٹ کردہ انتخابی نشانات تبدیل نہ کریں کیونکہ کوئی بھی متنازعہ فیصلہ متعلقہ حلقے میں انتخابی عمل کو روک دے گا تمام متعلقہ اداروں سے گزارش ہے کہ وہ الیکشن کمیشن کی صاف شفاف انتخابات کے انعقاد میں معاونت کریں جس کے وہ قانونی و آئینی طور پر پابند بھی ہیں اور عدالتوں سے بھی درخواست ہے کہ وہ کوئی ایسا فیصلہ نہ دین جس سے انتخابی عمل ڈی ریل ہو ورنہ اربوں روپے تو ضائع ہونگے ہی ملک میں جاری سیاسی عدم استحکام بھی ختم نہیں ہوسکے گا اس بات کو یاد رکھنا چاہیے کہ الیکشن کمیشن نے منظور شدہ انتخابی نشانات میں سے ہی نشان الاٹ کیے ہیں جو کہ اب تبدیل نہیں ہوسکتے ۔۔۔۔
Comments are closed.