سویلینز ٹرائل کیس کی سماعت غیر معینہ مدت تک کیلئے ملتوی

اسلام آباد(آن لائن)سپریم کورٹ نے فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کیخلاف درخوستوں پرسماعت غیرمعینہ مدت کیلئے ملتوی کردی ہے، سپریم کورٹ کا سویلینز کو سہولیات دینے کا حکم برقرار رہے گا، بیرسٹر اعتزاز احسن کی آفیشل سیکرٹ ایکٹ بل پر ازخودنوٹس لینے کی استدعا مسترد کردی۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ لارجر بینچ بنچ کا فیصلہ ہے، اکیلا چیف جسٹس ازخودنوٹس نہیں لے سکتا ہے،جمعرات کو چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 6رکنی لارجر بینچ نے سویلنیز کے ملٹری ٹرائل کیخلاف درخواستوں پر سماعت کی.بیرسٹر اعتزاز احسن نے آفیشل سیکرٹ ایکٹ کیخلاف ازخود نوٹس لینے کی استدعا کی، چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ابھی یہ بل ایک فورم نے پاس کیا دیکھتے ہیں دوسرا فورم کیا فیصلہ کرتاہے، لارجر بینچ کا فیصلہ ہے، اکیلا چیف جسٹس ازخودنوٹس نہیں لے سکتا ہے.

اٹارنی جنرل نے دلائل میں موقف اپنایا کہ ملزمان کو آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے سیکشن ٹوڈی ون کے تحت چارج کیا گیا ہے، جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیئے کہ یہ تو سول نوعیت کے جرائم ہی نہیں ہیں ایف بی علی کیس کے مطابق اگر آرمی ایکٹ کے تحت چارج کیے گئے توکورٹ مارشل ہوگا. اگر عدالتی نظائر کو دیکھا جائے تو آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی دفعات گرفتار افراد پر نہیں لگتیں، اٹارنی جنرل بولے کہ کورٹ مارشل کے لیے قائم عدالت آرٹیکل 175 کے تحت قائم عدالت نہیں ہے.جسٹس منیب اختر نے کہاکہ بنیادی انسانی حقوق کو ریاست چاہے بھی تو نظر انداز نہیں کر سکتی ہے ، قانون کی کتاب میں کئی قوانین شامل کرلیے جائیں جوبنیادی حقوق سے منافی ہیں توان کا اطلاق نہیں ہو سکتااگریہ آرٹیکل 175 کے تحت قائم عدالت نہیں ہے توکیا ہے؟ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ 21ویں ترمیم میں واضح طور پر قانون اور آئین میں درج کیا گیا کہ یہ فوج کیخلاف جنگ کرنے والوں کیلئے ہے ،سمجھ نہیں آتا کہ دفاع پاکستان کیخلاف تو قوانین موجود تھے پھر 21ویں ترمیم لانے کی ضرورت کیوں پڑی؟ موجودہ کیس میں آپ کے مطابق سویلینزکے جرائم پہلے ہی آرمی ایکٹ میں درج ہیں۔چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ سراہتے ہیں کہ بغیر قانون سازی یا نوٹیفکیشن کے اس کیس میں دفاع کررہے ہیں، آئندہ سماعت جب بھی ہو تو بتائیے گا کہ متوازی عدالتی نظام کیسے قائم ہوسکتا ہے ،اپیل کا حق دینا قانون سازی کے ذریعے ہی ممکن ہے، قانون سازی کے معاملے میں پارلیمنٹ نہ جانے کیوں بہت جلدی میں ہے۔

دورانِ سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ اب ہم یہ دیکھ رہے ہیں کہ آئینی طریقہ کار سے جرائم کو آرمی ایکٹ کے تحت کیسے دیکھا جائے گا،سمجھ نہیں آتا دفاع پاکستان کیخلاف تو قوانین موجود تھے پھر 21ویں ترمیم لانے کی ضرورت کیوں پڑی؟اس بات کو دیکھنا ہوگا سویلینز کا ملکی دفاع کے خلاف گٹھ جوڑ کیسے ثابت ہوگا، کل کیس کی سماعت کرنا ممکن نہیں ہو گا، کل بنچ میں شامل ایک جج صاحب دستیاب نہیں، باقی کچھ ججز بھی چند روز کیلئے دستیاب نہیں ہوں گے۔آئندہ سماعت جب بھی ہو تو بتایئے گا متوازی عدالتی نظام کیسے قائم ہو سکتا ہے۔قانون سازی کے معاملے میں پارلیمنٹ نجانے کیوں بہت جلدی میں ہے۔چیف جسٹس نے مزید ریمارکس دئیے کہ ملک نازک صورتحال سے گزر رہا ہے اور یہ عدالت بھی۔9 مئی کو جو کچھ ہوا وہ بہت سنجیدہ ہے،میانوالی میں دیوار توڑ کر فوجی تنصیبات پر حملہ کیا گیا، فوج کی تعریف کرنی چاہئے کہ انہوں نے شہریوں پر گولیاں نہیں چلائیں۔میں کبھی نہیں چاہوں گا کہ اس ملک کی فوج اپنے شہریوں پر بندوق اٹھائے، فوج سرحدوں کی محافظ ہے۔ فوج کا کام شہریوں کی حفاظت کرنا ہے۔کتنا اچھا ہوتا ہے کہ تمام افراد آئین و قانون کی پابندی کریں،فوج کو پابند کریں گے وہ غیر آئینی اقدام نہ کرے، سویلینز کو سہولیات دینے کا حکم برقرار رہے گا، دوران سماعت وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ اتوار کو بھی صبح 8 سے شام 8 بجے تک بیٹھیں اور فیصلہ کریں،چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ 2 ہفتوں تک کیس کی سماعت ممکن نہیں، میں ذاتی طور پر حاضر ہوں، روز رات 9 بجے تک بیٹھتا ہوں، بنچ کے ممبران کا بھی حق ہے وہ اپنا وقت لیں،ایک ممبر کو محرم کی چھٹیوں سے واپس بلایا۔فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کیخلاف کیس کی سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کر دی گئی

Comments are closed.