غلط انتخابی نشانات کی الاٹمنٹ سے سیاسی پارٹیاں اور آزاد امیدوار پریشان

اسلام آباد(آن لائن) عام انتخابات میں درپیش سیاسی امیدواروں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہاہے۔ غلط انتخابی نشانات کی الاٹمنٹ سے سیاسی پارٹیاں اور آزاد امیدوار پریشان ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی ,پی ٹی آئی کے بعد جمیعت علمائے اسلام کے امیدوارنے بھی الیکشن کمیشن سے رجوع کر لیا جے یو آئی ف کے ٹکٹ ہولڈر امیدوار کو آر او کی جانب سے کتاب کی بجائے ماچس کی ڈیبا کا انتخابی نشان الاٹ کر دیا گیا ۔جے یو آئی کے رہنما سینٹر کامران مرتضی کی جانب سے الیکشن کمیشن میں درخواست جمع کروا دی گئی۔درخواست میں کہا گیا کہ ڈیرہ اسماعیل خان سے جے یو آئی کے ٹکٹ ہولڈر کو غلط انتخابی نشان الاٹ کیا گیا۔ پاکستان پپپلیز پارٹی کے کئی امیدواروں کو تیر کی بجائے کیٹل ،وہیل چیر جیسے انتخابی نشان الاٹ کیے گئے۔

پی ٹی آئی کے آزاد امیدوار شوکت بسرا کی جانب سے بھی انتخابی نشان کی تبدیلی کے لیے الیکشن کمیشن میں درخواست جمع کروا دی گئی۔جبکہ پشاور ہائی کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف کے نامزد امیداور کامران بنگش کی درخواست منظور کرتے ہوئے مخالف امیدوار سے مختلف انتخابی نشان الاٹ کرنے کا حکم دے دیا۔پی ٹی آئی کے خیبر پختونخوا اسمبلی کی نشست پی کے 82 پر نامزد امیدوار کامران بنگش کی جانب سے الاٹ کردہ انتخابی نشان کے خلاف کیس کی پشاور ہائی کورٹ میں سماعت ہوئی، سماعت جسٹس اعجاز انور اور جسٹس شکیل احمد نے کی۔وکیل نے عدالت کو بتایا کہ کامران بنگش کو وائلن نشان الاٹ ہوا ہے، اسی حلقے پر دوسرے امیدوار کا نام بھی کامران ہے، اور اس کو گٹار دیا گیا ہے۔وکیل نے موقف اپنایا کہ دونوں کے نام اور نشانات میں مماثلت ہے، مرضی کے نشان کے لیے وقت پردرخواست بھی دی ہے۔وکیل الیکشن کمیشن نے اعتراف کیا کہ ان کا کیس درست ہے، عدالت نے الیکشن کمیشن کے وکیل سے استفسار کیا کہ کیا بیلٹ پیپرز چھپ گئے ہیں۔بعد ازاں، عدالت نے متعلقہ ریٹرنگ افسران کو طلب کرتے ہوئے فیصلہ محفوظ کرلیا جسے بعد ازاں جاری کیا گیا۔عدالت نے حکم دیا کہ کامران بنگش کو مخالف امیدوار سے مختلف نشان الاٹ کیا جائے

Comments are closed.