ڈرنے اورگھبرانے والے نہیں،ڈٹ کر مقابلہ کرنے والے ہیں ،بلاول بھٹو

رحیم یار خان( آن لائن ) چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ڈرنے اورگھبرانے والے نہیں ہم ڈٹ کر مقابلہ کرنے والے ہیں ،پاکستان کے عوام اس وقت مشکلات کا شکار ہیں جن کوصرف پیپلز پارٹی ہی نکال سکتی ہے ،کارکن پیپلزپارٹی کا پیغام گھرگھر تک پہنچائیں ،عوام سے تعاون مانگ رہا ہوں منتخب ہوکر تمام وعدے پورے کرینگے ،ہم عوام کے ٹیکس کے پیسے عوام پر ہی خرچ کرینگے ،پیپلز پارٹی کی حکومت بنے گی تو اشرافیہ کی سبسڈی بند کرینگے آٹھ فروری کو وہی رونا دھونا ہوگا مجھے کیوں نکالا اورپھر وہ لندن بھاگ جائینگے،شیر پہلے چھپ کر بیٹھا ہوں تھا کل بڑی مشکل سے تھوڑی دیر کیلئے نظر آیا، عوام آٹھ فروری کو تیر پر مہر لگا کر ان کو ہمیشہ کیلئے لندن بھیج دیں ۔رحیم یار خان میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ رحیم یار خان آکر بہت خوشی ہورہی ہے ہم ڈرنے والے، گھبرانے والے اور پیچھے ہٹنے والے نہیں ہیں، ہم لاہور کے سیاستدانوں کا ڈٹ کر مقابلہ کریں گے،

بڑی مشکل سے کل شیر نظر آیا ایسا نہ ہو پھر ڈر کر چھپ جائے۔انہوں نے کہا کہ اس الیکشن میں دو سیاسی جماعتیں شریک ہیں، ایک قائد عوام ذوالفقار علی بھٹو کی پاکستان پیپلز پارٹی ہے تو دوسری مرحوم ضیاالحق کی مسلم لیگ ہے، اب مسئلہ یہ ہے کہ صرف پاکستان پیپلز پارٹی عوام کا ساتھ دیتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ صرف پاکستان پیپلز پارٹی غریب، کسان، مزدور کی جماعت ہے اور دوسری جماعت وہ شیر ہے جو عوام کا خون چوستا ہے اور اس کا پیٹ نہیں بھرتا، تین دفعہ وزیراعظم بن کر آپ کا خون چوسا ہے اور اس کا پیٹ نہیں بھرتا، اب چوتھی بار وزیراعظم بننا چاہتا ہے اور چوتھی بار آپ کا خون چوسے گا۔سابق وزیر خارجہ نے کہا کہ پہلی بار اس کو وزیراعظم بنایا گیا تو وہ انہی کے ساتھ لڑ پڑے جنہوں نے اس کو وزیراعظم بنایا تھا، اس میں آپ کا اور ملک کا نقصان ہوا، دوسری دفعہ اس کو دو تہائی اکثریت کے ساتھ مسلط کیا لیکن پھر بھی انہی کے ساتھ ٹکرائے جنہوں نے اس کو دو تہائی اکثریت دلوائی تھی، پھر حکومت ختم اور نقصان آپ کا ہوا۔ بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ بڑی مشکل سے کل شیر نظر آیا ہے، ایسا نہ ہو آپ کی تعداد دیکھ کر شیر واپس گھر میں چھپ کر بیٹھ جائے۔ لاہور کے سیاست دانوں کو پیغام ہے ہم ڈرنے والے نہیں، ڈٹ کر مقابلہ کریں گے۔بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ انتخابات میں ان شا اللہ جیت آپ کی، تیر کی اور پیپلز پارٹی کی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ عوام بے روزگاری اور مہنگائی کے باعث پریشان ہیں۔ صرف پیپلز پارٹی ہے جو الیکشن اپنے منشور پر لڑ رہی ہے۔ ہم نے مہنگائی و غربت کا مقابلہ کرنے کے لیے 10 نکاتی ایجنڈا پیش کیا ہے۔ حکومت میں آکر اپنے 10 نکاتی ایجنڈے پر عمل کروں گا۔ میں قائد عوام، شہید بے نظیر بھٹو کی طرح وعدے پورے کروں گا۔انہوں نے کہا کہ ایک شخص جو وزیراعظم بنا تھا کہتا تھا 50 لاکھ گھر بناوٴں گا۔ہم نے سندھ میں گھر بنا کر مالکانہ حقوق دینے کا سلسلہ شروع کیا ہے۔ ان کو صرف فکر ہے کسی نہ کسی طرح چوتھی بار کرسی پر بیٹھ جائیں۔

پیپلز پارٹی عوام کے لیے اپنا معاشی معاہدہ سامنے لے کر آئی ہے۔ 10 نکاتی ایجنڈے پر عمل کرنے کیے لیے پیسوں کا بندوبست کرنا پڑتا ہے۔ وفاق میں 7 وزارتیں چلانے میں سالانہ 300 ارب خرچ ہوتا ہے، ہم ان وزارتوں کو بند کرکے 300 ارب عوام پر خرچ کریں گے۔بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ ہر سال ایک ہزار 500 ارب اشرافیہ کو سبسڈی دی جاتی ہے۔ حکومت بنی تو اشرافیہ کی سبسڈی ختم کرکے پیسہ آپ پر خرچ کریں گے۔ پہلے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام لائے تھے اب کسان کارڈ لائیں گے۔ ہم بے نظیر مزدور کارڈ کے ذریعے مالی مدد پہنچائیں گے۔ خواتین کا بلاسود قرض دیں گے تاکہ وہ کاروبار شروع کر سکیں۔

Comments are closed.