فتنہ خان کے بدلتے پینترے
اسٹیبلشمنٹ کے کندھوں پر سوار ہوکر اقتدار میں آنے والا آج بھاشن دے رہا
اسلام آباد ( آن لائن) لیں جی اڈیالہ جیل سے بھی عمران نیازی کے روزانہ نت نئے عجیب و غریب بیانات آنے کا سلسلہ جاری ہے۔اورہمیشہ کی طرح جھوٹ اور یوٹرن لیکر سودا بیچنے کی کوشش کررہے ہیں تازہ بیان میں عمران نیازی کہتا ہے کہ "میں کسی مارشل لاء کی نرسری میں نہیں پلا”۔
جو بھی یہ سنتا ہے اس کے سامنے فورا مرحوم جنرل مشرف کے تاریخی ریفرنڈم کا منظر آ جاتا ہے۔ اور اب تو یہ تاریخ میں رقم ہو چکا کہ اس وقت بھی عمران خان نے وزارت عظمی مانگی تھی، جنرل مشرف کا جواب تھا تمہاری پوزیشن پانچ سات سیٹوں سے زیادہ کی نہیں، اور پھر ایسے ہی ہوا، موصوف اکیلے اسمبلی میں پہنچ سکے۔
2018میں اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ کی گود میں بیٹھ کر جیسے اقتدار میں آئے، مخالف سیاسی جماعتوں اور سیاستدانوں کو بدترین انتقام کا نشانہ بنایا، الیکٹ ایبلز اکٹھے کر کے دیئے گئے جس کے لیے جہانگیر ترین کے جہاز کا کردار کسی سے پوشیدہ نہیں بلکہ بے شرمی سے یہ تفصیل، تصاویر میڈیا کو جاری کی جاتی تھیں، علیم خان سے لے کر ملک ریاض وغیرہ کے پیسے کا بے دریغ استعمال ہوا۔اور آج موصوف کا یہ کہنا کہ وہ اپنے بل بوتے پر سیاستدان بنے ہیں۔ کمال بے شرمی ہے۔
آج جنرل باجوہ کو یہ کہنا کہ "میں باجوہ کی میٹھی باتوں میں آ گیا تھا” یہ جناب کی روایتی شاطرانہ عادت ہے کہ اپنی ساری ناکامیوں، کمزوریوں، گناہوں، غلطیوں کو دوسروں پر ڈال دو کہ میں تو معصوم تھا۔اور دوسروں کی ساری کوششوں، کامیابیوں، محنت کا کریڈٹ خود کو دے دو۔یہ ہی تو حقیقت ہے کہ آپ اس کے اہل ہی نہیں کہ ملک کی باگ دوڑ سنبھال سکیں۔ حکومت لینا آپ کی غلطی نہیں بلکہ آپ کو مسلط کرنا اس ملک و قوم کے ساتھ ایک سنگین غلطی تھی جس کا ازالہ اب ادارے "نیوٹرل” رہ کر کر رہے اور آپ کو اصل تکلیف ہی اب یہ ہے کہ میں لاڈلہ کیوں نہیں رہا۔
رہی بات آٹھ فروری کی تیاری تو یہ اندازہ اچھی طرح سے ہو رہا کہ 9مئی کی منصوبہ بندی اور حملہ ناکام ہونے کے بعد اب اگلا ہدف آٹھ فروری ہے۔ کہا کسی کو اندازہ نہیں آٹھ فروری کو کیا ہو گا اس کے لیے جیل میں دن رات پلان بی، سی، ڈی سوچے جا رہے اور باہر موجود اپنے ساتھیوں تک ہدایات پہنچائی جا رہی ہیں۔لیکن یہ ساری سازشیں بھی 9مئی کی طرح ناکام ہوں گی۔ویسے بیس جنوری کی گفتگو میں کم از کم الیکشن میں ہار یقینی دیکھنے کی حقیقت کا اعتراف بانی چیئرمین پی ٹی آئی کے منہ سے نکل ہی گیا کہاتحادی حکومت سے بہتر ہو گا کہ ہم اپوزیشن میں بیٹھیں۔
Comments are closed.