بینکوں کے قرضوں کی فنانسنگ کے مائنڈ سیٹ سے نکلنا ہوگا، ڈاکٹرشمشاد اختر

اسلام آباد(آن لائن) نگراں وزیر خزانہ ڈاکٹر شمشاد اختر نے کہا ہے کہ ہمیں بینکوں کے قرضوں کی فنانسنگ کے مائینڈ سیٹ سے نکلنا ہوگا۔

آئی ایم ایف کی دوسری قسط سے اسٹیٹ بینک کے ذخائر 9.10 ارب ڈالر ہوگئے ہیں۔ آئی پی او سمٹ 2024 سے خطاب کرتے ہوئے نگراں وفاقی وزیر خزانہ نے مزیدکہا کہ سرمائے کے حصول کیلئے بینکنگ سیکٹر پر انحصار کو کم کرنا ہوگا۔اسٹاک مارکیٹ کے سرمائے کے حصول کی ضرورت ہے۔ 15سال میں پہلی مرتبہ 2023 میں صرف ایک آئی پی او ہوا ہے، جس سے کمپنی نے اسٹاک مارکیٹ کے ذریعے 435 ملین روپے کا سرمایہ حاصل کیا۔ بیرونی سرمایہ کاری کی بنیاد رکھ رہے ہیں۔ محاصل بہترہوئے ہیں، معاشی نمو کی شرح 2 تا 2.5 فیصد ہے۔ کرنٹ اکاونٹ سرپلس کردیا ہے۔ریکارڈ مہنگائی عالمی سطح پر دیکھی گئی ، عالمی حالات ہماری مارکیٹ پراثر انداز ہوتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایف بی آر کے اسٹرکچرنگ سے 10ٹریلین روپے حاصل کرلیں گے۔ معیشت پر اعتماد بحال کرنے کی پالیسی کے ثمرات حاصل ہو رہے ہیں۔ ہمیں شرح سود کے موضوع پر آنا ہوگا۔ حکومتی آمدنی 10 ہزار ارب روپے رہے گی۔

کیپٹل مارکیٹ سخت شرح سود پر ترقی نہیں کرسکتی ۔ڈاکٹرشمشاداختر کا کہنا تھا کہ سرمایہ کاروں کی تعداد بڑھانے کی ضرورت ہے، فی الوقت 2 لاکھ انویسٹرز ہیں۔ٹی بلز ایلڈ کا پالیسی ریٹ سے کم ہونا خوش آئند ہے۔ اسٹیٹ بینک حکام کی بھی سوچ ہے کہ شرح سود کم ہونی چاہیے۔ شرح سود میں کمی کا تعلق مہنگائی کی شرح سے ہے۔چیلنجز کے باوجود اسٹاک مارکیٹ میں اصلاحات لے کر آئے ، رواں مالی سال زرعی ترقی کی شرح 5 فیصد سے زائد رہے گی جبکہ صنعتی ترقی 2فیصد سے زائد رہے گی۔ زائد شرح سود میں کیپٹل مارکیٹ بہتر پرفارم نہیں کرسکتی ہے۔

Comments are closed.