سوشل میڈیا کا اثر ججز پر نہیں ہونا چاہیے،جسٹس اطہر من اللہ
اسلام آباد (آن لائن ) سپریم کورٹ کے جج جسٹس اطہر من اللہ نے کہا ہے کہ سوشل میڈیا کا اثر ججز پر نہیں ہونا چاہیے اورنہ ہی اظہار رائے پر پابندی ہونی چاہیے ۔ اظہار رائے کو اگر پہچانا ہو تا تو نہ ملک دولخت ہوتا نہ ہی کسی لیڈر پھانسی لگتی ، سپریم کورٹ کو آئینی ترمیم سے ہر گز نہیں چھیڑنا چاہیے ۔
سپریم کورٹ میں ایک ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کوئی جج سوشل میڈیا کا اثر لیتا ہے تو وہ اپنے حلف کی خلاف ورزی کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی خاتون یا بچے کی شناخت ظاہر کرنا یا غلط رپورٹنگ کرنا صحافتی قواعد کے خلاف ہے، میں نے کورٹ رپورٹرز سے بہت کچھ سیکھا ہے اور خود کو اس قابل نہیں سمجھتا کہ کسی کورٹ رپورٹر کو بتاوٴں کہ اس کے اصول کیا ہیں۔ جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ قائد اعظم کی 11 اگست 1947ء کی تقریر ریاست کے سینسر کرنے پر لامتناہی سلسلہ شروع ہوا، تنقیدکرنے والا بھی اگر اسی عدالت پر اعتماد کرے تو یہ عدلیہ کا امتحان ہے، تنقید ہر کوئی کرے لیکن عدلیہ پر اعتماد بھی کرے۔انہوں نے کہا کہ ہم جواب دہ ہیں، میں جج بنا تو پہلا کیس ایک ضمانت کا تھا۔
انہوں نے کہا کہ کسی کا جرم ثابت ہونے سے پہلے ہی یہاں اس کو سزا دے دی جاتی ہے، ایک غریب مالی نے پوچھا کہ حالات ٹھیک ہو جائیں گے۔ میں نے مالی سے پوچھا کہ تمہارے ارد گرد سچائی ہے۔ مالی نے کہا آج کل سچ کا دور نہیں ہے، سچ سب کو معلوم ہے۔ انہوں نے کہا کہ آزادی اظہار رائے پر قد غن نہیں ہونی چاہیے ۔ اظہار رائے کو اگر پہچانا ہو تا تو نہ ملک دولحت ہوتا نہ کسی لیڈر پھانسی لگتی ۔ انہوں نے کہا اظہار رائے ہو گا تو ہم ایک عظیم قوم بن جائیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنی تاریخ سے سیکھنا ہوگا ۔ انہوں نے کہا کہ جج کوکسی بھی تنقید گھبرانا نہیں چاہیے ۔ اور نہ ہی کسی دباو میں آکر فیصلے کرنے چاہیے ۔ بلکہ جج کو بے خوف ہو کر آئین اور قانون کے مطابق فیصلے دینے چاہیے ۔
انہوں نے کہا ہر ایک کو اپنے آپ سے پوچھنا چاہیے کہ ہم کس طرف جارہے ہیں ۔ انہوں نے کہا جھوٹ جتنا مرضی بول لیا جائے سچ سچ ہی رہتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ میری رائے ہے سپر یم کورٹ کو آئینی ترمیم سے چھیڑنے کا سوچنا بھی نہیں چاہیے ۔ انہوں نے کہا بحیثیت جج ہم پبلک پراپرٹی ہیں ۔ ہم جج ہیں اپنے فیصلوں سے ہی یاد رکھے جائیں گے انہوں نے کہا کہ پاکستان کی آدھی تاریخ ڈکٹیڑ شپ میں گزری ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ملک حقیقی آزادی کے ثمرات سے محروم رہا ہے
Comments are closed.