وعدہ ہے میں وزیراعظم بن گیا تو انتقام کی سیاست ختم کردونگا ،،بلاول بھٹو

چنیوٹ(آن لائن)چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹوزرداری نے کہا ہے کہ وعدہ ہے میں وزیراعظم بن گیا تو انتقام کی سیاست ختم کردونگا

، اگر تیر کا امیدوار جیت گیا تو ہم مل کر شیر کا شکار کریں گے، منتخب ہو کر ملک کو معاشی بحران سے نکالیں گے تنخواہوں میں اضافہ ہی نہیں بلکہ تنخواہیں ڈبل کریں گے تیر پر ٹھپہ لگائیں یہ تیر شہید ذوالفقار علی بھٹو۔ شہید محترمہ بینظیر بھٹو کا تیر ہے یہ میرا تیر ہے آپ کا تیر ہے ،دس نکاتی عوامی معاشی معاہدہ میں نے اپنے ہاتھوں سے لکھا ہے یہ ایسے ہیں جیسے محترمہ شہید بینظیر بھٹو اپنے عوام کیساتھ وعدہ کرتی تھیں جو تین بار وزیراعظم بنا وہ کہہ رہا ہے کہ چوتھی بار مجھے وزیراعظم بنائیں میں آپ کو ہسپتال بنا کر دوں گامیاں صاحب ہوش کریں آپ 2024میں داخل ہو چکے ہیں جہاں وہ شخص جو چوتھی بار آپ کا وزیراعظم بننا چاہتا ہے اس سے پوچھیں کیا آپ نے مفت علاج کے ہسپتال بنائے آج تک چنیوٹ میں ایک بھی مفت علاج کا ہسپتال نہیں بنا سکے،مجھے موقع دیں ہسپتال میں چنیوٹ میں مفت علاج کے ہسپتال بنا دوں گا،مزدورکارڈ بنائے جائیں گے،اگر ہمیں حکومت ملی تو بے روزگار پڑھی لکھی عوام کے لئے یوتھ کارڈ بنائیں گے،پیپلزپارٹی خواتین کو بلاسود قرضے کی سکیم لائے گی۔ ان خیالات کا اظہارانہوں نے گذشتہ روزدورہ چنیوٹ کے موقع پر ہاکی گراؤنڈ میں عوامی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کیا انہوں نے مزید کہا کہ میں 2018 کے الیکشن اور سیلاب میں آپ کے پاس آیا تھا اور آج سردی میں آپ کے پاس آیا ہوں میں آپ کا شکر گزار ہوں کہ چنیوٹ کے جیالیبڑے جوش و جذبہ کیساتھ ہمارا استقبال کرتے ہیں میں اس بار آپ کے پاس آیا ہوں عام انتخابات کے سلسلہ میں آپ کو معلوم ہے کہ ہم تاریخی معاشی بحران سے گزر رہے ہیں مہنگائی بے روزگاری اور غربت بڑھتی جا رہی ہے ایک طرف معاشی بحران ہے تو دوسری جانب معاشرے میں بحران پیدا کیا جا رہا ہے ہمارے نمائندے معاشرے میں نفرت کی سیاست کر رہے ہیں جس کا نقصان ملک۔ عوام اور معیشت کو ہو رہا ہے اگر میں سیاست کر رہا ہوں الیکشن لڑرہا ہوں تو اس نفرت کو ختم کرنا چاہتا ہوں اس کے لیے ہمیں آپ کا ساتھ چاہیے ہمیں ایک نیا نظام لانا پڑے گا

پاکستان پیپلز پارٹی کے جیالوں نے ہر دور میں ظلم برداشت کیا ہے ہم نے ضیاء الحق کے دور کا ظلم برداشت کیا ہم نے میاں صاحب کے پہلے اور دوسرے دور کا ظلم برداشت کیا آپ نے پرویز مشروف اور خان صاحب کا ظلم برداشت کیا ہے آپ کے قائد ذوالفقا ر علی بھٹو کو پھانسی پر لٹکایا گیا جب صدر زرداری اس ملک کا صدر بنے تو زرداری نے ملک کھپے کا نعرہ لگایا اس پانچ سال چلنے والی حکومت میں ایک بھی سیاسی قیدی نہیں تھا جب بھی ہمیں موقع ملتا ہے ہم سیاسی انتقام کی بجائے آپ کا فاعدہ سوچتے ہیں اگر آپ مجھے موقع دیتے ہیں تو میرا وعدہ ہے میرے دور میں ایک بھی سیاسی قیدی نہ ہو گا اس ملک کو اس نفرت کی سیاست نے تقسیم کیا ہے اس نفرت کی سیاست نے بھائی کو بھائی سے لڑایا ملک کو تقسیم کیا اگر سیاست دان آپس میں لڑتے رہے تو ملک کو بہت نقصان پہنچے گا میں اس ملک کا وزیر خارجہ رہا ہوں مجھے معلوم ہے اس سے اسملک کا شدید نقصان پہنچے گا اگر آپ ہمیں موقع دیتے ہوں تو ہم وعدہ کرتے ہیں سب کو ساتھ لیکر چلیں گے دس نکاتی عوامی معاشی معاہدہ میں نے اپنے ہاتھوں سے لکھا ہے یہ ایسے ہیں جیسے محترمہ شہید بینظیر بھٹو اپنے عوام کیساتھ وعدہ کرتی تھیں تو پورا کرتیں تھیں آپ چنیوٹ کی عوام کو سمجھائیں ہمارا معاشی معاہدہ کیا ہے میں آپ کو بتا رہا ہوں آپ اپنے منشور پر سیاست کریں پہلا وعدہ انشاء اللہ پاکستان کے عوام کی آمدنی میں نہ صرف اضافہ کریں گے بلکہ دگنی کریں گے۔ یہاں کے عوام کو بتائیں جو ہم نے آپ سے وعدہ کیا ہے تمام سیاسی جماعتیں اس کو نکل کر رہے ہیں لیکن نقل کے لیے بھی عقل کی ضرورت ہوتی ہے انشاء اللہ آپ کو تین سو یونٹ مفت بجلی دوں گا سندھ کے سیلاب متاثرین کے لیے بیس لکھ پکے گھر بنا رہے ہیں

ان کے گھر کی خواتین کو مالکانہ حقوق بھی دلوا رہا ہوں کیا یہاں کی حکومت نے کبھی آپ کے ایک گھر بھی بنا کر دیا ہے انشااللہ میں پاکستان میں تیس لاکھ گھر بنا کر خواتین کو ان کے مالکانہ حقوق دوں گا ہر کچی آبادی کو ریگولرائز کریں گے اگر پیپلزپارٹی کو حکومت ملی تو ہم غربت کا مقابلہ کرنے کے لیے نہ صرف بینظیر انکم سپورٹ پروگرام میں اضافہ کروں گا بلکہ خواتین کے لیے بلاسود قرضوں کی فراہمی بھی کریں گے انشااللہ چھوٹے کسانوں کے لیے بینظیر کسان کارڈ بھی بنا کر دوں گا ہم پاکستان کی وفاقی حکومت سالانہ ایک ہزار پانچ سو ارب اشرافیہ کو سبسٹڈی دیتے ہیں جو بڑا ظلم ہے بجلی گھروں کو فرٹیلائزر کمپنیوں کو یہ سبسٹڈی دی جاتی ہے یہ غریب کسان کو دی جائیگی فصل کی انشورنس کا منصوبہ بھی شروع کریں گے پیپلزپارٹی وہ جماعت ہے جو سمجھتی ہے کسان خوش حال تو ملک خوشحال ہو گا میرے محنت کرنے والے مزدور بہن بھائی کے لیے ہم بینظیر مزدور کارڈ لیکر آئیں گے سوشل سیکورٹی یا علاج یا تعلیم کا معاملہ ہو مزدور کارڈ کے ذریعے ان کو مدد فراہم کی جائیگی ہم خواتین کسانوں مزدوروزں کے لیے اور کام کرنا چاہتے ہیں جب آپ تعلیم مکمل کریں گے تو آپ کو بہترین روزگار ملے گا اب لوگ ڈگریاں لیکر پھرتے ہیں لیکن روزگار نہیں ملتا ان کو کہا جاتا ہے آپ کے پاس تجربہ نہیں ہے یوتھ کارڈ کے ذریعے نوجوانوں کو سہولت فراہم کرنا چاہتا ہوں ہم ان کے لیے یوتھ مرکز بنائیں گے جہاں ان کو تمام سکلز یوتھ مرکز میں فراہم کریں گے حکومت کی ذمہ داری ہے کہ اپنے نوجوانوں کو نہ تعلیم دے نہ صرف سکلز دے بلکہ روزگار بھی فراہم کرے آپ ہماری حکومت بنائیں جہاں وہ شخص جو چوتھی بار آپ کا وزیراعظم بننا چاہتا ہے اس سے پوچھیں کیا آپ نے مفت علاج کے ہسپتال بنائے آج تک چنیوٹ میں ایک بھی مفت علاج کا ہسپتال نہیں بنا سکے آپ مجھے موقع دیں میں انشاء اللہ چھ ماہ کے اندر چنیوٹ میں مفت علاج کا ہستال بنا کر دوں گا جو تین بار وزیراعظم بنا وہ کہہ رہا ہے کہ چوتھی بار مجھے وزیراعظم بنائیں میں آپ کو ہسپتال بنا کر دوں گا آپ 2024میں داخل ہو چکے ہیں 8 فروری کو الیکشن ہونے جا رہے ہیں اپنے ساتھیوں کو سمجھائیں یہ وقت نہیں ہے چوتھی بار والے کو بنانے کا یہ ووٹ آپ کی طاقت ہے میں ان کو بڑی اچھی طرح جانتا ہوں ان کے دل میں بغض ہے نفرت ہے ان کا سیاست تشدد کی سیاست ہے بڑے میاں کو تو موقع ہی نہیں دیا گیا کہ وہ انتقام لیں وہ انتقام لے گا یہ اس کی عادت ہے وہ اپنا ذاتی انتقام لیتے ہوئے میرے ملک کو نقصان پہنچائے گا مقابلہ تیر اور شیر کے درمیان ہے مقابلہ ہمارا اور ان کا ہے تو آئیں دو ہفتہ کا ٹائم ہے آپ کے پاس ووٹ کی طاقت سے ان کا مقابلہ کریں تیز پر ٹھپہ لگائیں۔

Comments are closed.