عام انتخابات،نگران وفاقی کابینہ نے فوج و سول آرمڈ فورسز لگانے کی منظوری دیدی
اسلام آباد (آن لائن)نگران وفاقی کابینہ نے عام انتخابات میں فوج و سول آرمڈ فورسز لگانے کی منظوری دیدی ہے جبکہ پاور ڈویژن میں مسلح افواج،انٹیلیجنس ایجنسی،ایف آئی اے کے افسران کی تعینات کرنے کی سفارش مسترد کردی گئی ہے جبکہ کابینہ میں ایف بی آر اصلاحات کے معاملے پر اتفاق رائے نہ ہونے کی وجہ سے نگران وزیر خزانہ شمشاد اختر کی سربراہی میں کمیٹی قائم کردی گئی ہے جو اپنی سفارشات دے گی۔ نگران وفاقی کابینہ کا اجلاس منگل کو نگران وزیر اعظم انوارالحق کاکڑ کی زیرصدارت منعقد ہوا ۔ذرائع کے مطابق وفاقی وزارت داخلہ کی سمری پر کابینہ نے عام انتخابات میں فوج و سول آرمڈ فورسز لگانے کی منظوری دے دی ہے ۔ سول آرمڈ فورسز حساس حلقوں میں بطور کوئیک ریسپانس فورس ڈیوٹی دیگی۔ وفاقی وزارت داخلہ نے عام انتخابات میں سکیورٹی فراہمی کے لیے سمری کابینہ کو بھجوا ئی تھی ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی کابینہ میں چیف ایگزیکٹو آفیسر پاکستان سافٹ وئیر ایکسپورٹ بورڈ علی رضا کوعہدے سے ہٹانے کی منظوری دے دی ۔ سیکورٹی کلئیرنس نہ ملنے کے باوجود سی ای او سافٹ وئیرایکسپورٹ بورڈ تعیناتی کا انکشاف ہواہے ۔ وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کی سمری پر وفاقی کابینہ سے منظوری حاصل کی گئی
،انٹیلیجنس ایجنسی کو کیس دومرتبہ بھجوانے کے باوجود سیکورٹی کلئیرنس نہیں ملی ۔بورڈ آف ڈائریکٹرز کی سرتوڑ کوششوں کے باوجود علی رضا کی سیکورٹی کلئیرنس نہ ہوسکی۔12اپریل 2023کوکابینہ نے علی رضا کو سی ای او تعینات کرنے کی منظوری دی تھی ۔ذرائع کے مطابق وفاقی کابینہ نے پاور ڈویژن کا سالانہ 600ارب روپے وصولی کا پلان مسترد کردیا \بجلی نادہندگان کے شناختی کارڈ،پاسپورٹ اجرا اور تجدید نہ کرنے،نادہندگان کو بیرون ملک جانے سے روکنے اور بینک اکاونٹ نہ کھولنے کی سفارش مسترد کرتے ہوئے پاورڈویژن کوواضح اہداف کیساتھ جامع پلان پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے ۔ مسلح افواج،انٹیلیجنس ایجنسی،ایف آئی اے کے افسران تعینات کرنے کی سفارش مسترد کردی گئی ۔
کابینہ ارکان کہنا تھا مسلح افواج اوربیوروکریٹس نے پاور سیکٹر سے زیادہ اہمیت کے کام کرنے ہوتے ہیں۔ پرفارمنس مینجمنٹ یونٹ کا قیام قانونی اور سیاسی مشکلات پیدا کرنے کا موجب بنے گا،کابینہ ارکان نے کہا پاور ڈویژن کی سفارشات مسائل کے حقیقی حل سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہے ۔ 25سال گذرنے کے باوجود تقسیم کار کمپنیوں کے مستقل چیف ایگزیکٹو افسران کی تعیناتی میں ناکامی کا اعتراف کیا گیا ہے ۔ ذرائع کے مطابق ایف بی آر میں اصلاحات کے معاملے پر اتفاق رائے نہ ہوسکا جس کے بعد اس بارے کمیٹی قائم کی گئی ہے ۔ کابینہ نے نگران وزیر خزانہ شمشاد اختر کی سربراہی میں کمیٹی قائم کی ۔کمیٹی میں خارجہ، آئی ٹی،قانون و انصاف،کامرس،نجکاری کے وزراء شامل ہیں ۔کمیٹی ایف بی آر میں اصلاحات پر سفارشات دے گی۔
Comments are closed.