نگران وزیر خارجہ کی ایرانی وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان سے ملاقات

اسلام آباد(آن لائن )نگران وزیر خارجہ نے اسلام آباد میں ایرانی وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان سے ملاقات کی، ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرا بلوچ کے مطابق ملاقات میں پاکستان اور ایران کے اعلیٰ حکام موجود تھے،ایرانی وزیر خارجہ, نگران وزیر خارجہ جلیل عباس جیلانی کی دعوت پر پاکستان کے سرکاری دورے پر ہیں،نگران وزیر خارجہ نے پاکستان اور ایران کے درمیان برادرانہ تعلقات پر زور دیا۔نگران وزیر خارجہ جیلانی نے ایران کے ساتھ موجودہ وسیع تر تعاون کی توسیع کے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔نگران وزیر خارجہ نے دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے اجتماعی اور باہمی تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔ترجمان دفترخارجہ کے مطابق دہشت گردی پاکستان اور ایران دونوں کے لیے مشترکہ چیلنج ہے، وزیر خارجہ نے زور دیا کہ دونوں ممالک کے درمیان سیکورٹی تعاون پر مضبوط ادارہ جاتی میکانزم کا مکمل فائدہ اٹھایا جانا چاہیے۔فریقین نے جاری سکیورٹی و انٹیلی جنس تعاون کی مضبوطی کے لیے رابطہ افسران کی تعیناتی پر اتفاق کیا۔ رابطہ افسران کی تربت اور زاہدان میں فوری تعیناتی پر اتفاق کیا گیا، ممتاز زہرا بلوچ نے کہاکہ دونوں وزرائے خارجہ نے نوٹ کیا کہ سلامتی اور ترقی ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں،فریقین نے اقتصادی اور ترقیاتی تعاون کے لیے اقدامات کو وسعت دینے پر اتفاق کیا۔ان اقدامات میں مشترکہ سرحدی منڈیوں کی جلد از جلد فعالیت شامل ہے۔اس سے دونوں ممالک، بالخصوص سرحدی علاقہ کے لوگوں کی سماجی و اقتصادی حیثیت کو بلند کرنا شامل ہے۔فریقین نے دونوں ملکوں کی خوشحالی اور ترقی کے مشترکہ ایجنڈے پر پیشرفت کی۔وزرائے خارجہ کی سطح پر ایک مشترکہ کوآرڈینیشن میکنزم قائم کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔باقاعدگی سے اعلیٰ سطحی ملاقاتیں پاکستان اور ایران کے درمیان دوطرفہ تعلقات کے لیے قیادت پر مبنی تحرک فراہم کرتی ہیں۔ اس پس منظر میں وزیر خارجہ نے ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کو پاکستان کے دورے کی دوبارہ دعوت دی۔

Comments are closed.