مخلوط حکومت قبول نہیں،مسائل کے حیلئے مکمل مینڈیٹ چاہیے،نواز شریف

لاہور( آن لائن)سابق وزیر اعظم نواز شریف نے کہا کہ مخلوط حکومت کا نام نہ لیا جائے ،مسائل حل کرنے ہیں تو ایک جماعت کو مکمل مینڈیٹ ملنا چاہیے،مریم نواز کے وزیراعلیٰ پنجاب بننے کا فیصلہ پارٹی کرے گی ،فوج کے ساتھ کبھی کوئی مسئلہ نہیں رہا،نوازشریف اور مریم نواز ووٹ کاسٹ کرنے کے لیے ماڈل ٹاوٴن پولنگ اسٹیشن پہنچے۔نوازشریف نے لاہور کے حلقہ این اے 128 میں ووٹ کاسٹ کیا۔نوازشریف نے ملکی و غیر ملکی صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس بار ملک بھر میں صاف اور شفاف انتخابات ہو رہے ہیں،پاکستان میں ہمیشہ ہی صاف اور شفاف انتخابات ہوئے سوائے بہت پہلے کچھ سالوں کے۔صحافی نے سوال کیا کہ کیا آپ فوج کے ساتھ ڈیل کریں گے جس کا جواب دیتے ہوئے نوازشریف نے کہا کہ فوج کے ساتھ ڈیل کی کوئی ضرورت نہیں،مجھے فوج کے ساتھ کبھی کوئی مسئلہ نہیں رہا۔نوازشریف نے کہا کہ عوام گھروں سے نکلیں اور ووٹ کاسٹ کریں۔ملک سے بدتمیزی اور بدتہذیبی کا کلچر ختم کرنا ہو گا۔ رعونیت ،گالم گلوچ اور قوم کو ورغلانے کا کلچر ختم کرنا ہوگا۔ صحافی نے سوال کیا کہ میاں صاحب سادہ اکثریت ملے گی یا مخلوط حکومت بنائیں گے؟ نوازشریف نے کہا کہ او بھئی خدا کا واسطہ ہے مخلوط حکومت کا نام نہ لیں۔ ملک کے مسائل حل کرنے ہیں تو الیکشن میں ایک جماعت کو مکمل مینڈیٹ ملنا چاہئیے۔مریم نواز کے وزیراعلیٰ بنانے کا فیصلہ انتخابی نتائج کے بعد پارٹی کرے گی، مریم نواز اور حمزہ شہباز نے جیلیں کاٹی ہیں،ہم قربانیاں دے کر یہاں تک پہنچے ہیں۔ ن لیگ کا منشور پڑھ لیں۔پاکستان کے لوگ خوشحال زندگی بسر کریں گے۔ یہی لوگوں کا خواب ہے جسے شرمندہ تعبیر ہونا چاہیے۔ لوگوں کے اس خواب کو بکھیرا گیاجس سے ہمارے معاشرے میں بگاڑ پیدا ہوگیا۔ ہم ان شا اللہ اسے درست کرینگے۔ لوگوں کے حقوق انکے دروازے تک پہنچنے چاہییں جنہیں ہم ان شا اللہ پہنچائیں گے۔

Comments are closed.