ملک کو ڈھاکہ بنانے کی باتیں انتہائی بیہودہ ،یہ محض الزام کی سیاست کا ماحول ہے ، انوارالحق کاکڑ

اسلام آباد (آن لائن) نگران وزیر اعظم انوارالحق کاکڑ نے کہا کہ ملک کو ڈھاکہ بنانے کی باتیں انتہائی بیہودہ ہیں ،یہ محض الزام کی سیاست کا ماحول ہے ، پاکستان ایک مستحکم جمہوری ملک ہے، عام انتخابات کے نتائج جاری کرنے میں دھاند لی نہیں صرف تاخیر ہوئی ، انتخابی نتائج چھتیس گھنٹوں میں مرتب کر لئے گئے جبکہ دوہزار اٹھارہ میں 66 گھنٹے لگے تھے ۔ ملک کے اندرونی معاملات میں کسی کو مداخلت کی اجازت نہیں دیں گے، امریکہ ، برطانیہ یورپی یونین دوست لیکن ان ممالک کے کہنے پر انتخابات کے حوالے سے کسی قسم کی تحقیقات نہیں کی جائیں گی، انارکی پھیلانے کی کسی کو اجازت نہیں دیں گے، فسادیوں کو قانون کے مطابق ڈیل کیا جائے گا ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔نگران وزیراعظم نے کہا انتہائی چیلنجنگ ماحول میں کامیاب انتخابات کا انعقاد خوش آئند ہے ۔ پر امن اور کامیاب انتخابات کے انعقاد میں سیکیورٹی اداروں کا کردار اہم ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بد قسمتی سے ہمارا ملک ابھی بھی دہشتگردی کا شکار ہے ۔ مشکل حالات کے باوجود ہم جمہوریت کو فروغ دے رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا چیلنجز کے باوجود جمہوری تسلسل خوش آئند ہے ۔’

انہوں نے کہا کہ انتخابا ت کے روز بھی دہشتگردی کے دو واقعات ہوے جن میں قیمتی جانیں ضائع ہوئیں ۔ انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں دہشتگردی کے ایسے خطرات موجود تھے اسکے باوجود سیکیو رٹی اداروں نے پرامن ماحول کو یقینی بنایا ۔ انہوں نے کہا کہ انتخابات کے کامیاب انعقاد میں سیکیور ٹی اداروں کا کردار اہم ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو ڈھاکہ بنانے کی باتیں انتہائی بیہودہ ہیں ۔ یہ محض سیاسی الزام کا ماحول ہے ۔ انہوں نے کہا کہ دو ہزار اٹھارہ میں بھی اسی طرح کی باتیں کی جارہی تھیں تاہم ملکی سالمیت ابھی بھی قائم ہے اور آئندہ بھی پاکستان ایک مستحکم جمہوری ملک کے طور پر قائم رہے گا ۔ انہوں نے کہا کہ بد قسمتی سے بعض اوقات تجزیہ نگار اور رپورٹر ایسے ایسے تجزئیے پیش کرتے ہیں جو کسی بھی طور پر ملک و قوم کے مفاد میں نہیں ہوتے ۔ انہوں نے کہا پر امن احتجاج سب کا حق ہے ۔ یہ جمہوریت کا حصہ ہے لیکن کسی کو بھی ملک میں انارکی پھیلانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی ۔ انہو ں نے کہا کہ عوام کے منتخب نمائندوں کو جلد اقتدار منتقل ہو گا ۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ ، برطانیہ یورپی یونین دوست لیکن کسی کو بھی ملک کے اندرنی معاملات میں مداخلت کی اجازت نہیں جا ئے گی ۔ انہوں نے کہا کہ بیرونی ممالک کے کہنے پر ملک میں انتخابات کے حوالے سے کسی قسم کی تحقیقات نہیں کی جائیں گی ۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا نے انتخابی نتائج جاری کرنے میں جلد بازی کی۔ انہوں نے کہا کہ ترقی یافتہ ممالک میں بھی ووٹوں کی گنتی میں تاخیر ہوتی ہے ۔

انہوں نے کہا کروڑوں ووٹوں کے نتائج چھتیس گھنٹوں میں مرتب کر لئے ۔ دو ہزار اٹھارہ میں چھیاسٹھ گھنٹوں میں مرتب ہوے تھے ۔ لیکن اس بات کو خواہ مخواہ ایشو بنا د یا گیا ۔ انہوں نے کہا ووٹوں کی گنتی کے لئے وقت درکار ہوتا ہے اور اس حقیقت کا ادراک سب کو کرنا چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ دو ہزار تیرہ میں بھی انتخابات کے بعد احتجاج ہوا یہ کوئی پہلی بار نہیں جمہوری ممالک اس طرح کے احتجاج ہوتے رہتے ہیں ۔ انہوں نے کہا انتخابی عمل کو بہتر بنا نے کے لئے الیکٹرونک ووٹنگ سسٹم پر پارلیمانی فورم پر کھلے دل سے بات چیت ہونی چاہیے ۔ تمام سیاسی جماعتیں مشاورت کے بعد اس حوالے سے قانون سازی کریں ۔ انہوں نے کہا کہ امید ہے آنیوالی حکومت انتخابی عمل کو بہتر بنانے کے لئے کردار ادا کر ے گی ۔ انہوں نے کہا موجودہ انتخابات بے قاعدگیاں ہو سکتی ہیں لیکن یہ انتخابا ت صاف شفاف تھے ۔ انہوں نے کہا انتخابی نتائج میں تاخیر ہوئی لیکن دھاندلی نہیں ہوئی ۔ انہوں نے کہا نتخابات کے روز موبائل سروس بند کرنا ایک مجبوری تھی ۔ دہشتگردی کی اطلاعات تھیں ۔ پاکستان میں دہشتگردی کا ماسٹر مائینڈ اور انتہائی مطلوب دہشتگرد نو فروری کو آپر یشن کے دوران مارا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ براڈ بینڈ سروس ہونے کی وجہ سے انٹر نیٹ یا موابائل سروس بند کرنے کی وجہ سے ووٹ ڈالنے کا عمل ہر گز متاثر نہیں ہوا ۔ انہوں نے کہا انتخابی نتائج پر ہمیشہ ہی سوالات اٹھائے جاتے رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ انتخابت میں اگر دھالی ہوتی تو آزاد امیدوار اتنی بڑی تعداد میں کیسے کامیاب ہوتے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر دھاندلی ہوئی تو کے پی کے میں کیوں نہ ہوئی ۔ جو خفیہ ہاتھ کی بات کی جا رہی ہے تو سب سے بڑی سیکیور ٹی کے پی کے میں تھی ۔ انہوں نے کہا کہ انتخابات کے دوران غیر ملکی مبصرین بھی موجود رہے ۔ ایک سوال کے جواب مین انہوں نے کہا آئی ایم ایف کے ساتھ معا ئدے پر مزید عملدرآمد کا فیصلہ آنے والی حکومت کرے گی ۔ انہوں نے کہا کہ انتخابات میں تمام سیاسی جماعتوں کو لیول پلئینگ فیلڈ دیا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ ہم آنیوالی حکومت کے لئے نیک خواہشات رکھتے ہیں

Comments are closed.