شیریں مزاری کے 2022 میں مبینہ اغواء کیس

اسلام آباد(آن لائن)شیریں مزاری کے 2022 میں مبینہ اغواء کے خلاف کیس کی سماعت، اسلام آباد ہائیکورٹ نے سیکرٹری کابینہ کو فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ سمیت طلب کر لیا۔اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے کیس کی سماعت کی، عدالت نے حکومت سے گیارہ بجے تک تفصیلی رپورٹ طلب کی تھی

،سماعت کے دوران جسٹس محسن اختر کیانی نیایڈیشنل اٹارنی جنرل منور اقبال دوگل سے مکالمہ کیا گیارہ بجے تک رپورٹ دیں ورنہ آئی جی و دیگر کے خلاف کاروائی ہوگی،، سماعت کے دوران جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دئیے سیکرٹری کابینہ فیکٹ فائنڈنگ کی رپورٹ کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوں، جسٹس محسن اختر کیانی نیاسسٹنٹ اٹارنی جنرل سے استفسار کیا رپورٹ کہاں ہے؟ جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا پہلے فیکٹ فائنڈنگ ہوئی ہو گی نا کہ خاتون اغواء ہوئی یا کیا ہوا؟ کسی نے رپورٹ تو دیکھی نہیں کہ فیکٹ فائنڈنگ کمیشن نے کیا کیا، عدالت میں رپورٹ لائی نہیں گئی اور سیدھی کابینہ کے سامنے رکھ دی گئی، سیکرٹری کابینہ کو کل بلالیں کہ رپورٹ کے ساتھ آ جائیں، کل وزیراعظم کو بھی بلایا ہوا ہے سیکرٹری کابینہ بھی آ جائیں، وزیراعظم کی موجودگی میں یہیں پر رپورٹ دیکھ کر فیصلہ کر دیں گے، وفاقی کابینہ سے کام تو ہوتا نہیں یہیں بٹھا کر کام کروائیں گے، بار بار عدالتی حکم کے باوجود فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ عدالت کے سامنے پیش نہیں کی گئی، عدالت نے کیس کی سماعت آج بدھ تک ملتوی کر دی، شیریں مزاری کے اغواء کے خلاف انکی بیٹی ایمان مزاری نے درخواست دائر کر رکھی ہے۔

Comments are closed.